یوپی پولیس کے مظالم پرچشم کشا رپورٹ، سنگین الزامات

Updated: February 14, 2020, 10:04 AM IST | Agency | Lucknow

  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اترپردیش کے مختلف اضلاع میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کی ظالمانہ کارروائی پر کا روانِ محبت کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے چشم کشا رپورٹ پیش کی ہے اور پولیس اوریوپی حکومت پرسنگین الزامات لگائے ہیں۔کاروان محبت کی ٹیم نے یوپی پریس کلب میں  یہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی  اوردعویٰ کیا کہ یوگی حکومت سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں  سے دشمن کی طرح نپٹی  ۔  اترپردیش میں گزشتہ ۲۰/۱۹؍دسمبر کو مختلف مقامات میں سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کیلئے پولیس نے طاقت کا مظاہرہ کیا تھااور فائرنگ بھی کی تھی جس میں۲۳؍ افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔بعد ازاں یو پی کی یوگی حکومت نے سرکاری املاک کو ہونے والے نقصان کی تلافی کیلئےمظاہرین کو ہی نوٹس جاری کردیا تھا

یوپی پولیس کے مظالم پرچشم کشا رپورٹ، سنگین الزامات
سی اے اے مخالف مظاہرین پر قابو پانے کا یوپی پولیس کا طریقہ سوالوں کی زد پر ہے ۔ تصویر : آئی این این

 لکھنؤ : شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اترپردیش کے مختلف اضلاع میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کی ظالمانہ کارروائی پر کا روانِ محبت کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے چشم کشا رپورٹ پیش کی ہے اور پولیس اوریوپی حکومت پرسنگین الزامات لگائے ہیں۔کاروان محبت کی ٹیم نے یوپی پریس کلب میں  یہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی  اوردعویٰ کیا کہ یوگی حکومت سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں  سے دشمن کی طرح نپٹی  ۔
 اترپردیش میں گزشتہ ۲۰/۱۹؍دسمبر کو مختلف مقامات میں سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کیلئے پولیس نے طاقت کا مظاہرہ کیا تھااور فائرنگ بھی کی تھی جس میں۲۳؍ افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔بعد ازاں یو پی کی یوگی حکومت نے سرکاری املاک کو ہونے والے نقصان کی تلافی کیلئےمظاہرین کو ہی نوٹس جاری کردیا تھا ۔ 
 یوپی پولیس اورحکومت کی انہی ظالمانہ کارروائی  کے مختلف پہلوؤںکو اجاگرکرتےہوئےپریس کلب میں کاروانِ محبت اور یوپی کوآرڈی نیشن کمیٹی اگینسٹ سی اے اے ،این آر سی اینڈ این پی آر کے بینر تلے  رپورٹ پیش کی گئی۔ 
 سابق آئی اے ایس افسر اورمعروف سماجی کارکن ہرش مندر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے  الزام عائد کیا کہ ریاستی انتظامیہ نے تشدد کو قابو میں کرنے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا  وہ اس تشدد سے کہیں زیادہ خطر ناک  تھا۔
 انہوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  پر  ’اشتعال انگیز‘زبان استعمال کرنے کا الزام لگاتے  ہوئے کہا کہ  وہ اپنی مخالفت میں اٹھنے والی ہرآواز کو دبانا چاہتے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ پُرتشدد جھڑپوں میں پولیس نے اقلیتوں کے خلاف زیادتی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اترپردیش میں ایک نیا پیٹرن  دیکھنے کو ملا۔
 فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مظفر نگر،میرٹھ،سنبھل اور فیروزآباد میں متاثرین سے ملاقات کے دوران جانچ ٹیم نے پایا کہ پولیس  نےمسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان کے ساتھ مارپیٹ کی ،ان کے اسکوٹر اور گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا۔ٹی وی اورواشنگ مشینیں توڑ ڈالیں۔رپورٹ  کے مطابق پولیس کو روکنے کی کوشش کرنے پر گھر کے بزرگوں ،خواتین،اور یہاں تک کہ بچوں پر بھی پولیس نے لاٹھیاں برسائیں  اورفرقہ وارانہ نعرے لگائے۔
 رپورٹ  کے دعوؤں کے مطابق مظفر نگر، میرٹھ ،سنبھل اور فیروزآباد میں۱۶؍ افراد کی موت سینے سے اوپر گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ۔ مہلوکین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک اہل خانہ کو نہیں سونپی گئی ہے۔۱۶؍ میں سے صرف ایک شخص کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دی گئی ہے جس میں گولی کا کوئی ذکر نہیں ہے حالانکہ ٹیم کے پاس وافر ثبوت موجود ہیں کہ سبھی افراد کی اموات گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔رپورٹ  میں الزام لگا یا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے الزام میں گرفتار کئے گئے افراد کو جہاں تھانوں میں ٹارچر  کئے جانے کے معاملات سامنے آئے ہیں وہیں اسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کی جانب سے زخمیوں کے ساتھ سلوک ایک طے شدہ پیٹرن کے مطابق کیا گیا ہے۔رپورٹ  بتاتی ہے کہ یوپی میں ڈاکٹروں نے ہر مریض کے علاج کرنے کی قسم کھانے کے دھرم کو نہیں نبھایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK