ویرار:ضلع پریشد اردو اسکول انتظامیہ کی بے توجہی کا شکار

Updated: June 14, 2021, 8:54 AM IST | kazim shaikh | Mumbai

کواری روڈ ضلع پریشد اسکول کی عمارت خستہ حا ل، چھت سے بارش کا پانی ٹپکنے سے کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں خراب ہورہی ہیں اور طلبہ کے بینچ اور ٹیبل میں دیمک لگ رہیہیں

Rainwater from the roof of the school is being pumped out of the classroom.Picture:Inquilab
اسکول کی چھت سے آنے والے بارش کے پانی کو کلاس روم سے نکالا جا رہا ہے۔ تصویر انقلاب

ویرار : یہاںکواری روڈ ضلع پریشد کا اردو اسکول انتظامیہ کی بے توجہی کا شکارہونے کی وجہ سے خستہ حال ہے ۔ عمارت کی مرمت نہ ہونے سے   اسکول  کے  چھت سے ٹپکنے والے بارش کے پانی  سے جہاں اس کے دروازے اور کھڑکیاں  وغیرہ  خراب ہورہے ہیں۔ وہیں اسکول کے کمروں میں رکھے ہوئے طلبہ کے بیٹھنے کیلئے لکڑی کے بینچ اور ٹیبل میں دیمک لگ رہی ہے ۔ اس سلسلے میں علاقے کی ایک تنظیم کے ذریعہ ۴؍ سال پہلے اسکول کے ۲؍کمروں کے چھت پر  پترے وغیرہ ڈالے گئے تھے ۔ اس کے بعد سے باقی چھت کی مرمت اور پترے وغیرہ ڈالنے کیلئے متعدد مرتبہ متعلقہ محکموں اور ریاستی وزراء کو خط لکھ کر اس جانب توجہ دلائی گئی لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ چندروز پہلے ہونے والے بارش کے دوران چھت سے اسکول کے کمروں میں پانی بھرگیا تھا اور اتوار کے دن  اسے   نکال کر صاف کیاگیا ۔ 
 ویرار کے مشرقی علاقے میںواقع ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کے ممبر اورسابق میونسپل کارپوریٹر عبدالرحمان  بلوچ نے نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کواری روڈ ضلع پریشد اردو اسکول پال گھر ضلع کا پہلا اردو میڈیم سیکنڈری اسکول ہے ۔اس اسکول میں پہلی جماعت سے ایس ایس سی تک تعلیم دی جاتی ہے اور اس میں ۲۵۰؍ سے زائد غریب طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔   اس  اسکول کی عمارت گراؤنڈ پلس ون  ہے اور اس میں کل ۶؍ کمرے ہیں ۔ اسکول کی خستہ حالی کی وجہ سے چھتوں سے بارش کا پانی بھاری مقدار میںٹپکتا ہے۔
 بلوچ کا الزام ہے کہ چھت ٹپکنے کی و جہ سے کلاس میں پانی بھر جاتا ہے اور اوپر کے کلاس میںپانی بھرنے کی وجہ سے گراؤنڈفلور کے کمروں میں بھی پانی ٹپکنے لگتا ہے ۔ اس کی وجہ سے کلاسس کے دروازے پانی سے خراب ہورہے ہیں اور طلبہ کے بینچ اور ٹیبل وغیرہ  میں دیمک لگ رہی ہے  ۔
 ایک سوال کے جواب میں  انھوں نے مزید کہا کہ بارش کے دوران طلبہ کو اسکول میںکافی دقتوں کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔ ایک ایک کمرے میں کئی کلاس کے طلبہ بیٹھنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔  اسکول کی حالت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اس کی مرمت نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں اسکول کھلنے کے بعد اس میں پڑھنے والے طلبہ کی جان کو بھی  خطرہ ہے ۔ حالیہ دنوں میںآنے والی طوفانی بارش کے دوران اسکول کی عمارت کو مزید نقصان بھی پہنچا ہے ۔ اسکول کے دروازوں کے علاوہ کھڑکیوں کے ساتھ اسکول کی بجلی کی وائرنگ  وغیرہ خراب ہوگئی ہے  ۔ 
 ویرار کے ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کے ایک دوسرے ممبرکے مطابق اسکول کی عمارت کی مرمت اور تزئین کاری کیلئے کمیٹی کی جانب سے وسئی پنچایت سمیتی اسکول ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ضلع پریشد پال گھر ، ایجوکیشن منسٹر اور وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو بھی اس سلسلے میں کئی خط بھیجے گئے ہیں لیکن ابھی تک کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے عبدالرحمان بلوچ نے اپنے ذاتی پیسے سے اسکول کی چھت کے ۲؍ کمروں پر بارش کا پانی ٹپکنے سے روکنے کیلئےپترا وغیرہ ڈال دیا تھا ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ  سال اردو اسکولوں کے علاوہ دیگر میڈیم کے ضلع  پریشد اسکولوں کو۴؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار روپے مرمت کیلئے دیئے بھی گئے ہیں لیکن اس  اردو اسکولوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK