مغربی ممالک کی یہودی آباد کاری کی مشترکہ مخالفت

Updated: November 24, 2021, 9:31 AM IST | Jerusalem

۲۰؍ سے زائد ممالک کے سفارتکاروں کا فلسطین کے ’حساس ‘ علاقوں کا دورہ، یورپی یونین کے کمشنر نے اسرائیلی اقدام کو نئی رکاوٹ بتایا

Demolition of Palestinian homes and forced construction of Jewish colonies in Jerusalem continues (Photo: Agency)
یروشلم میں فلسطینیوں کے مکانات کا انہدام اور یہودی کالونیوں کی تعمیر جبری طور پر جاری ہے ( تصویر: ایجنسی)

بیت المقدس میں ۲۰؍ سے زیادہ غیر ملکی سفارتی مشنوں کے سربراہان نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں یہودیوں بستیوں کے نئے منصوبوں پر عمل درآمد روک دیں۔ ان سربراہان نے دو ریاستی حل کے مستقبل اور مقبوضہ بیت المقدس کے باقی فلسطینی اراضی سے رابطے پر ان منصوبوں کے نتائج کے اثرات سے خبردار کیا ہے۔یہ موقف بیت المقدس میں یورپی یونین کے کمشنر اسفین کون وان بورجسڈروف نے  ایک پریس کانفرنس میں ظاہر کیا۔ 
 پریس کانفرنس کا انعقاد غیر ملکی سفارت کاروں کے اُن علاقوں کے دورے کے بعدکیا گیا جو سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ ان سفارت کاروںکا تعلق یورپی یونین کے ممالک کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، میکسیکو اور ارجنٹائنا سے ہے۔ کمشنر کے مطابق نئی یہودی بستیوں کی آباد کاری سے اسرائیلی دیوار کے عقب میں بسنے والے بیت المقدس کے ۷۰؍ سے ۸۰؍ ہزار باسیوں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک نئی رکاوٹ قائم کر دے گی جو بیت المقدس کے شمال کو اس کے جنوبی حصے اور رام اللہ کو بیت المقدس سے علاحدہ کر دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ علاقے مقبوضہ ہیں اور اگر مذکورہ یہودی بستیوں کی تعمیر کی گئی تو یہ دو ریاستی حل پر اثر انداز ہو گا۔ اسی وجہ سے آج ہم یہاں موجود ہیں۔ یہ اس منصوبے پر ہمارے احتجاج اور مخالفت کا اظہار ہے۔‘‘ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے پیر کے روز اپنے لبنانی ہم منصب عبداللہ بوحبیب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’فلسطینی اسرائیلی تصفیہ اپنے نقطہ ٔجمود سے متحرک نہیں ہو رہا ہے۔‘‘
 لاؤروف کے مطابق چار رکنی بین الاقوامی کمیٹی اپنی ذمے داری انجام دے رہی ہے تاہم کوئی نئی سوچ یا اقدام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اب بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد سے متعلق فلسطینی صدر محمود عباس کے منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس  منگل کے روز روس کے دورے پر روانہ ہوئے ج ہاں  وہ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے اور اس معاملے  میں سیاسی عمل بحال کرنے کے راستوں پر مشاورت کریں گے۔ یہ بات محمود عباس نے روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ادھر فلسطینی ذمے داران نے گزشتہ ہفتے ’الشرق‘ اخبار کو بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے کے دوبارہ کھولے جانے کے معاملے پر اقوام متحدہ میں امریکی خاتون مندوب لنڈا تھامس گرینفیلڈ سے بات چیت کی۔ تاہم امریکی مندوب نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ فلسطینی ذمے داران کے مطابق گرینفیلڈ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں’ ’تھوڑا وقت درکار‘‘ ہے۔

israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK