کیا ادھو ٹھاکرے کے پاس شیوسینا سربراہ کا عہدہ برقرار رہے گا؟

Updated: January 22, 2023, 10:32 AM IST | Mumbai

رکن اسمبلی انل پرب کے مطابق شندے گروپ کے پاس صرف چند اراکین اسمبلی ہیں جبکہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ پارٹی کا ایک ایک کارکن ہے

Uddhav Thackeray will have to give up his seat for Eknath Shinde (File photo)
ادھو ٹھاکرے کو ایکناتھ شندے کیلئے کرسی چھوڑی پڑے گی ( فائل فوٹو)

الیکشن کمیشن کے سامنے شیوسینا   کی تقسیم اور اس کے انتخابی نشان کے تعلق سے سماعت جاری ہے۔ پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے اور باغی لیڈر ایکناتھ شندے دونوں ہی کے گروپ نے  اپنی اپنی طرف سے دلائل پیش کر دیئے ہیں اور اب ۳۰؍ جنوری کو الیکشن کمیشن اس تعلق سے کوئی فیصلہ سنا سکتا ہے۔ لیکن ادھر ادھو ٹھاکرے کی سربراہی کے معاملے میں ایک پیچ پھنساہوا ہے۔ 
  دراصل ۲۳؍ جنوری ( پیر) کو ادھو ٹھاکرے کی صدارت کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔ اب تکنیکی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اگلی میعاد کیلئے بھی پارٹی کے سربراہ مقرر کئے جائیں گے  یا  الیکشن کمیشن انہیں روک دے گا؟ فی الحال  اس تعلق سے خاموشی ہے لیکن پارٹی کے رکن اسمبلی انل پرب کا کہناہے کہ بنیادی طور پر ادھو ٹھاکرے ہی  شیوسینا کےسربراہ ہیں اور ہم نے الیکشن کمیشن کے سامنے جو دلائل پیش کئے ہیں وہ قانون کی پاسداری کی بنا پر کی ہے ورنہ پارٹی کا ہر ایک کارکن ادھو ٹھاکرے ہی کو اپنا لیڈر تصور کرتا ہے۔ 
  پرب نے کہا کہ ۲۰۱۸ء میں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ  میں ادھو ٹھاکرے کو دوبارہ صدر منتخب کئے جانے پر کسی نے کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا تھا۔ اب شندے گروپ کے اراکین پارٹی چھوڑ کر چلے جانےکے بعد اس پر اعتراض ظاہر کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا شندے گروپ کے پاس ایوان میں صرف ۴۰؍ اراکین ہیں جو  ادھو ٹھاکرے کی سربراہی کے خلاف ہیں ورنہ پارٹی انتظامیہ  میں جہاں ہزاروں کارکنان کام کرتے ہیںسبھی ادھو ٹھاکرے کی صدارت کے حق میں ہیں۔ اس لئے بنیادی طور پر ادھو ٹھاکرے ہی پارٹی کے صدر ہیں۔  انل پرب نے کہا کہ ایکناتھ شندے کی بغاوت اور پھر حکومت کا قیام ہی غیر آئینی ہے اس لئے انہیں ادھو ٹھاکرے کی صدارت پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔  انہوں نے کہا الیکشن کمیشن میں سماعت کے بعد پارٹی کا نام اور انتخابی نشان ( تیر کمان) دونوں ہی ہمارے پاس رہے گا۔  ادھر دہلی میں ایکناتھ شندے گروپ کے وکیل نہار ٹھاکرے نے میڈیا کے سامنے کہا کہ  الیکشن کمیشن کے سامنے شندے گروپ ہی  اصل شیوسینا تھی کیونکہ اسکے پاس منتخب اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب پارٹی کو قانونی حیثیت اس کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی تعداد کی بنیاد ہی پر ہوتی ہے ۔  ہمارے پاس  اراکین   کی تعداد زیادہ ہے اسلئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہمارے ہی حق میں آئے گا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK