یشونت سنہا کی یاترا کانپور پہنچی، ۳۰؍ جنوری کو دہلی پہنچے گی

Updated: January 29, 2020, 11:12 AM IST | Abdul Haleem | Kanpur

’ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے، ایسے میں حکومت کو پاکستان اور چین کی باتیں چھوڑ کر ملک کی فکر کرنی چاہئے۔ حکومت جھوٹ اور تشدد سے نہیں چلتی۔ یوپی حکومت مظاہرین پر تشدد کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔

کانپور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے یشونت سنہا ۔ تصویر : پی ٹی آئی
کانپور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے یشونت سنہا ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 کانپور : ’’ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے، ایسے میں حکومت کو پاکستان اور چین کی باتیں چھوڑ کر ملک کی فکر کرنی چاہئے۔ حکومت جھوٹ اور تشدد سے نہیں چلتی۔ یوپی حکومت مظاہرین پر تشدد کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ سی اے اے حکومت کی نوٹنکی اور اس کا مقصد ملک کی عوام کو بانٹنا ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار ممبئی سے ’گاندھی امن یاترا‘ لے کر شہر پہنچے سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ شہر پہنچنے پرسماجوادی لیڈران کے ساتھ سماجی اور ملی   لیڈروں نے جگہ جگہ یشونت سنہا کی گلپوشی کر کے والہانہ استقبالیہ پیش کیا۔ ملک کی بگڑتی معیشت پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت دیوالیہ ہورہی ہے۔ اب بی جے پی حکومت کو پاکستان و چین کی باتیں چھوڑ کر ملک کی فکر کرنے چاہئے۔ نامہ نگاروں سے بات چیت میںکہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی آواز دبانے کیلئے حکومت وہی راستہ اختیار کررہی ہے۔ جس طرح انگریزوں نے مہاتما گاندھی کے آندولن کو تبانے کیلئے تشدد کا راستہ اپنایا تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مظاہرین پر تشدد کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔
  سابق وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ اٹل بہاری کی حکومت اور موجودہ بی جے پی حکومت میں زمین آسمان کا فرق  ہے۔  پھول باغ واقع گاندھی مجسمہ کے نیچے منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں ’گاندھی امن یاترا‘  لے کر پہنچے سابق مرکزی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ ترقی کی سطح میں تیزی سے گراوٹ آرہی ہے۔ ایسے میں وزیر خزانہ کو فیصلہ کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ مالیات سے متعلق میٹنگوں میں بھی وزیر خزانہ شریک نہیں ہوتے ہیں۔ اگر نرملا سیتا رمن کی جگہ میں وزیر خزانہ ہوتا تو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے چکا ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش ا ورافغانستان سے آنے والے اقلیتوں کو شہریت دینے کے بجائے ملک کے عوام کو آپس میں تقسیم کرنا ہے۔ خیال رہے کہ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا ان دنوں ’گاندھی امن یاترا‘ لے کر ملک گیر دورے پر نکلے ہیں۔ ممبئی سے نکلنے والا یہ دورہ ۳۰؍ جنوری کو دہلی میں مہاتما گاندھی کی سمادھی پر ختم ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK