ڈٹینشن سینٹر کے قیام پر یوگی حکومت کا یوٹرن

Updated: September 19, 2020, 3:08 PM IST | Jeelani Khan Aleg | Lucknow

غازی آباد میں بنایا جانے والا ریاست کا پہلا ڈٹینشن سینٹر اب تعمیر نہیں ہو گا ،نند گرام میں واقع دلت طلبہ ہاسٹلز کوڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے پر روک،مایاوتی کے ٹویٹ اور سخت برہمی ظاہر کرنے کے بعد حکومت نے اپنا فیصلہ پلٹ دیا ،گزشتہ دنوں ہی یوگی سرکار نے خط لکھ کر مرکزی وزارت داخلہ سے حراستی مرکز کے تعلق سے اجازت مانگی تھی

Yogi Adityanath. Picture:INN
یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: آئی این این

اسےبی ایس پی سپریمو مایاوتی کا دبائو کہیں یا دلت ووٹ بینک کھسکنے کا ڈریا کچھ اور مگر یوگی حکومت نے این آر سی کے  ڈٹینشن سینٹر(حراستی مرکز ) کے قیام معاملے میں یو ٹرن لے لیا ہے۔ حکومت نے غازی آباد کے نندگرام میں واقع ایس سی ؍ایس ٹی طلبہ ہاسٹلز کو اب ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ڈراپ کردیا ہے  یعنی اب این سی آرغازی آباد میںریاست کا پہلا ڈٹینشن سینٹر قائم نہیں ہوگا۔تاہم، ابھی سرکار نے یہ طے نہیں کیا ہے کہ اب کس مقام پراس سینٹر کی تعمیر ہوگی یا کس عمارت کو اس کی شکل دی جائے گی۔ بی جے پی حکومت نے یہ یو ٹرن تب لیا ہے جب گزشتہ دنوں ہی اس نے مرکزی وزارت داخلہ کو ایک خط بھیج کر غازی آباد میں واقع ہاسٹلز کو ڈٹینشن سینٹر کے طور پر شروع کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ریاستی محکمہ سماجی فلاح و بہبود نے ان ہاسٹلز کو ڈٹینشن سینٹر کی شکل دینے کے لئے تمام ضروری تبدیلیاں، تعمیرنو اور صاف صفائی بھی کرا لی تھی۔یہ تمام تیاریاں مرکز کی ہدایت پر ہی ہوئی ہیں جس نے ایک فنڈ بھی ریاستوں کو اس تعلق سے جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں یوگی حکومت کو دلت مخالف قرار دیتے ہوئے ان ہاسٹلز کو ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی تھی۔انہوں نےیہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھااور یہ مانگ بھی کی تھی ان ہاسٹلز کو ایس سی؍ایس ٹی طلبا کے لئے ہی چھوڑدیا جائے تاکہ وہ یہاں تعلیم حاصل کرسکیں۔   غازی آباد کے ضلع مجسٹریٹ کے حوالے سے کئی ویب سائٹس نے اس فیصلے کی تصدیق بھی کی ہے تاہم ’انقلاب‘کا ان سے براہ راست رابطہ نہیں ہوسکا۔ نمائندہ نے ان کے موبائل اورآفس نمبر پر بھی کال کیا مگر تادم تحریرادھر سے کوئی جواب نہیں ملا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، ضلع مجسٹریٹ اجے شنکر پانڈے نےحکومت کی ہدایت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نندگرام  میں واقع امبیڈکر ایس سی؍ایس ٹی ہاسٹلز کو اب ڈٹینشن سینٹر کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔
 واضح رہے کہ تقریباََ ۴۰۸؍طلباءو طالبات کی رہائش کی صلاحیت والے ان ہاسٹلز کا افتتاح جنوری ۲۰۱۱ءمیں ہوا تھاجب مایاوتی وزیرا علیٰ تھیں۔ان میں مذکورہ طبقات کے طلبہ و طالبات دونوں کے لئے الگ الگ انتظام کیا گیا تھا۔ مگر طویل  عرصہ سے لڑکیوں کا ہاسٹل خالی پڑا ہے۔ یوگی حکومت کے منصوبے کے مطابق،اس سینٹر میں ان ’غیر ملکیوں‘ کو رکھا جانا تھاجن کےریاست کی جیلوں سے رہائی کے باوجود واپس وطن بھیجنے میں ضروری کارروائیوں میں تاخیر ہورہی تھی۔ساتھ ہی، اس سینٹر میں ان ’غیر ملکیوں‘کو بھی رکھنے کا منصوبہ تھاجو ہندوستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام ہوں اور انہیں ان  کے وطن واپس بھیجنا تھا۔محکمہ سماجی فلاح وبہبودکے مطابق،اس سینٹر میںتقریباً ۱۰۰؍افرادکوٹھہرانے کا نتظام کیا گیا تھا۔اسے ایک اوپن جیل کی طرح استعمال میں لایا جاتا۔
 دراصل، شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی معاملے پر عمل در آمد کےلئے موڈ بنا چکی مودی حکومت نےکئی ریاستوں میں ڈٹینشن سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی تھی ۔یوپی ان میں شامل ہے۔بی جے پی کی زیر اقتدار ریاست آسام میں سب سے زیادہ چھ ایسے سینٹر آپریشنل ہیں جبکہ کرناٹک، گوامیں بھی ایسے سینٹرزیر تعمیر ہیں۔مانا جارہا ہے کہ ان تمام سینٹروں میں ان مسلمانوں کو رکھا جائے گا جنہیں ریاستی اور مرکزی حکومتیں ہندوستانی نہیں مانتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK