سائی سینٹر میں ہاکی کھلاڑی فلمیں دیکھ کراور کتابیں پڑھ کر فاضل وقت گزار رہے ہیں

Updated: March 25, 2020, 11:04 AM IST | Agency | New Delhi

کورونا وائرس کے سبب ہاکی کی مرد اور خاتون ٹیموں کوسائی سینٹر میں رکھا گیا ہے جہاں وہ اولمپکس کی تیاری کررہی ہیں

Hockey India Player - Pic : Twitter
ہاکی انڈیا کھلاڑی ۔ تصویر : ٹویٹر

بنگلورکے سائی سینٹر  میں  اولمپکس کی تیاری کرنے والے ہندوستانی ہاکی کھلاڑی کووڈ ۱۹؍ وبائی بیماری کی وجہ سے کیمپس سے باہر نہیں جاسکتے ہیں ، لہٰذا پریکٹس سے دور ان کا وقت انگریزی کی بہتری ، کتابیں پڑھنے اور اپنی پسندیدہ بالی ووڈ فلمیں دیکھنے میں گزارر ہے۔ ٹوکیو اولمپکس کے ملتوی ہونے کے باوجود  ہندوستان کی مرد اور خواتین ہاکی ٹیمیں اپنے شیڈول کے مطابق پریکٹس کر رہی ہیں۔ ابتدا میں ان کھلاڑیوں کو وقفہ دیا جانے والا تھالیکن پھر انہیں بنگلور کے سائی سینٹر میں رہنے کو کہا گیا۔ کھلاڑی  کیمپس سے باہر نہیں جا سکتے اور نہ ہی کوئی  انجان  شخص احاطے میں داخل ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سخت مشق کے درمیان ہر کھلاڑی  کے اپنے اپنے تفریح  کے طریقے ہیں۔ 
     مردوں کی ٹیم کے سینئر ممبر اور گول کیپر پی آر سریجیش کتابیں پڑھنے میں وقت گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’اگرچہ ہمارے معمولات بہت مصروف ہیں لیکن اتوار اور بدھ کی شام تعطیل ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہم فٹنیس   پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ میں نے ’ڈا ونچی کوڈ‘ پڑھ ڈالی ہے جو ہیلر کیلر کی سوانح عمری ہے اور کچھ اچھی کتابیں پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا ’’میرے والد کی عمر۶۰؍برس  سے زیادہ ہے اور بچے ۷ ؍ سال سے چھوٹے ہیں۔ میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ گھر سے بالکل  باہر نہ نکلیں۔
  جالندھر میں رہنے والے اسٹار فارورڈ مندیپ سنگھ نے کہا کہ تمام کھلاڑی اپنی انگلش کو بہتر کرنے پر زور دے رہے ہیں جس کے لئے ہوم ورک بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا’’کرس سرائیلو (ہندوستانی ٹیم کے تجزیہ کوچ) کی اہلیہ ہفتے میں ایک بارکھلاڑیوں کی  انگریزی کی کلاس لیتی ہیں۔ ہمیں کتابیں پڑھنی ہیں اور اسائنمنٹ کرنا ہے اور ہم اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ میں اولمپکس پر مبنی کتاب پڑھ رہا ہوں۔
   ہریانہ کے سرسا سے ویڈیو کال پر ہندوستانی خواتین کی ٹیم کی  تجربہ کار گول کیپر سویتا کی والدہ اسے روزانہ کورونا انفیکشن سے بچنے کیلئے گھریلو نسخہ دیتی ہیں۔ سویتا کا کہنا ہے کہ سائی سینٹر کے محفوظ ماحول کی وجہ سے کنبہ کے افراد کو بھی یقین دلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم پریکٹس کے ساتھ ٹیم بانڈنگ پر کام کر رہے ہیں۔ ایک ہی وقت میں تمام چہرے روزانہ موجود ہیں ، ہم روم میٹ کو تبدیل کر رہے ہیں اور بہتر ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تیراکی، تفریحی  کی ذمہ داری کچھ کھلاڑیوں کو بھی سونپ دی گئی ہے جو کچھ نئے کھیل کھلاتے ہیں۔خیال رہے کہ ۲۲؍مارچ کی شام۵؍بجے جنتا کرفیو میں ہندوستانی خواتین کی ٹیم نے کورونا وائرس کے خلاف کمپلیکس میں تالیاں بجائیں اور میڈیکل عملہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔
 سویتا نے کہا’’ہم باہر نہیں جارہے ہیں اور   جانابھی نہیں  چاہتے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ صورتحال کتنی مشکل ہے۔ ہمیں یہ بھی لگا کہ پورے ملک کو اس مہم میں شامل ہونا چاہئے۔ ‘‘ ٹیم کی نوجوان کھلاڑی نونیت کورنے کہا کہ کھلاڑی فاصلہ اور صفائی برقرار رکھنے کی ہدایت پر بھی عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا’’ یہاں ہر جگہ ہینڈ واش اور سینیٹائزر   رکھے ہوئے ہیں۔ ہم  ورزش کرنے کے بعد اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم فاصلہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
 نونیت نے بتایا کہ اپنے فاضل  وقت میں کھلاڑی میٹنگ روم میں بہت سی پسندیدہ فلمیں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’عام طور پر ہم خریداری یا فلموں کے لئے باہر جاتے تھے۔ پچھلے ہفتے ہم نے بہت ساری فلمیں دیکھیں ، جن میں پانی پت ، پیار کا پنچناما ، وار وغیرہ شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK