کورونا وائرس کے سبب ٹوکیو اولمپکس ۲۰۲۰ء ایک سال کیلئے ملتوی

Updated: March 25, 2020, 10:01 AM IST | Agency | Tokyo

عالمی دباؤ کے سبب جاپان اور آئی او سی صدر باخ نے اولمپکس کو ملتوی کرنے کافیصلہ کیا۔کھلاڑیوں میں خوشی کی لہر ۔پاؤنڈس نے ملتوی ہونے کا اشارہ دیا تھا

OIC chairmen and CEO in PC - Pic : Agency
اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین موری يوشرو (بائیں)اورسی ای او توشیرو موتو پریس کانفرنس میں ۔ایجنسی

عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والے کورونا وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اور ان کھیلوں کو ملتوی کرنے کے عالمی دباؤ کے سبب جاپان نے اس سال ہونے والے ٹوکیو اولمپک کو اب۲۰۲۱ء  میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹوکیو اولمپک اس سال ۲۴؍جولائی سے۹؍ اگست تک منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے سے پیدا خطرے کو دیکھتے ہوئے جاپان نے ان کھیلوں کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے۲۰۲۱ء  میں منعقد کیا جائے گا۔
 جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے صدر تھامس باخ کے ساتھ کانفرنس کال کرنے کے بعد نامہ نگاروں کے سامنے یہ اعلان کیا ۔ آبے کے اس اعلان سے دنیا بھر کے کھلاڑیوں میں راحت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شنزو نے پیرکو ہی اشارہ دیا تھا کہ ان کھیلوں کو ملتوی کیا جا سکتا ہے جبکہ باخ نے کہا تھا کہ ان کھیلوں کو ملتوی کرنے کے بارے میں فیصلہ اگلے ۴؍ ہفتے میں لیا جائے گا۔
 دنیا کے۱۸۵؍ ممالک میں پھیل چکے کورونا وائرس `كووڈ۱۹؍ کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور اب تک اس خطرناک وائرس سےساڑھے ۱۶؍ ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ قریب ۴؍لاکھ  لوگ اس سے متاثرہ ہوئے ہیں۔
  آبے نے کہا کہ وہ اور آئی او سی کے صدر باخ نےان کھیلوں کو ایک سال تک ملتوی کرنے کے لئے اتفاق کیا ہے۔ ٹوکیو نے ان کھیلوں کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کر لی تھیں جب کورونا نے دنیا میں اپنے پیر پھیلانے شروع کئے تھے۔ جاپان اور آئی او سی گزشتہ چند ماہ سے مسلسل کہہ رہے تھے کہ ان کھیلوں کا انعقاد اپنے مقررہ وقت۲۴؍ جولائی سے شروع ہو جائے گا لیکن کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ جاپان اور آئی او سی پر بھی یہ دباؤ بڑھنے لگا کہ ان کھیلوں کو ملتوی کیا جائے۔ ٹوکیو اولمپک گھریلو اسپانسرشپ پر ۳؍ ارب ڈالر خرچ کئے  گئے ہیں جبکہ ۱۲؍ ارب ڈالر اس کی تیاریوں پر خرچ ہوئے ہیں۔
 خیال رہے کہ کینیڈا اور آسٹریلیا نے پیر کو ان کھیلوں سے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق۲۴؍ جولائی سے۹؍ اگست تک ہوتا ہے تو وہ اپنے کھلاڑی ان کھیلوں میں نہیں بھیجیں گے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر ان کھیلوں کو ۲۰۲۱ ء تک ملتوی نہیں کیا جاتا تو وہ اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ کینیڈا نے اولمپکس کو ایک سال کے لئے ملتوی کرنے کی مانگ کی تھی۔
 اس سے قبل بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے رکن   ڈک پاؤنڈس نے کہا کہ اس سال اولمپک کھیلوں کا انعقاد نہیں ہوگا۔ اسے ۲۰۲۱ءتک ملتوی کردیا جائے گا۔ انہوں نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ آئی او سی نے اسے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ۲۰۲۰ء اولمپک کھیلوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے ایک سال تک ملتوی کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منگل کی رات آئی او سی کے صدر تھامس باخ ، وزیر اعظم جاپان شنزو آبے ، ٹوکیو کے گورنر اور منتظم کمیٹی کے سربراہ ٹیلیفون پر بات چیت کریں گے۔
 اس سے قبل  برطانوی اولمپک اسوسی ایشن کے صدر نے کہا تھا کہ برطانیہ کے اس موسم گرما میں کوئی ٹیم ٹوکیو بھیجنے کا امکان نہیں ہے۔ ان کی طرف سے کہا گیا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ ، ناقابل قبول اور کھلاڑیوں کے مفادات کو نظرانداز کرنا ہے۔ برطانوی سائیکلسٹ کولم سکنر نے باخپر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا۔ آسٹریلیا اور کینیڈا پہلے ہی اعلان  کرچکے ہیں کہ وہ جاپان میں  اولمپکس میں شرکت نہیں کریں گے۔ پاؤنڈ س نے کہا کہ التوا کا فیصلہ آئی او سی سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اولمپکس کا آغاز۲۴؍ جولائی کو ٹوکیو میں ہونا تھا۔
 پاؤنڈس  جو کینیڈا سے ہیں ، نے کہا کہ آئی او سی جلد ہی ٹوکیو اولمپکس کے التوا سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔ اس سے قبل کینیڈا کی اولمپک کمیٹی نے کہا تھا کہ وہ رواں سال اپنے کھلاڑیوں کو اولمپکس میں نہیں بھیجے گی اور کھیلوں کو کم از کم ایک سال کے لئے ملتوی کردیا جانا چاہئے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اولمپکس سے متعلق فیصلہ فی الفور آنا چاہئے۔ اس وقت کھلاڑیوں کیلئے پریکٹس کرنا محفوظ نہیں ہے۔ اس کے بعد جاپانی وزیر اعظم  شنزو نے بھی آئی او سی سے اس پر جلد فیصلہ کرنے کیلئے کہا  تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK