کرکٹ یا کسی بھی کھیل میں نسل پرستانہ تبصرے ناقابل قبول ہیں: گوتم گمبھیر

Updated: January 13, 2021, 9:07 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اوپنر گوتم گمبھیر نے کہا ہے کہ کسی بھی کھیل میں نسل پرستانہ تبصرے ناقابل قبول ہیں۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے۔ نہ صرف کرکٹ بلکہ کسی بھی کھیل میں ایسا نہیں ہونا چاہئے اور انہیں لگتا ہے کہ اس کے لئے سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔

Gautam Gambhir.Picture :INN
گوتم گمبھیر۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اوپنر گوتم گمبھیر نے کہا ہے کہ کسی بھی کھیل میں نسل پرستانہ تبصرے  ناقابل قبول ہیں۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے۔ نہ صرف کرکٹ  بلکہ کسی بھی کھیل میں ایسا نہیں ہونا چاہئے اور انہیں لگتا ہے کہ اس کے لئے سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ گمبھیر نے اسٹار اسپورٹس کے شو `کرکٹ کنکٹیڈ پر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرے ٹیسٹ کے دوران پیدا ہونے والے نسل پرستی کے معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔  انہوں نے کہا ’’جس کھلاڑی کے ساتھ یہ ہوتا ہے اسے صرف وہی محسوس کرتا ہے۔ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسی جگہوں پر اکثر کھلاڑیوں کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، چاہے وہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ ہو یا کوئی اور کھیل رہے ہوں۔ اگرچہ کھلاڑی اسے قبول کرلیتے ہیں ، لیکن یہ اس پر منحصر ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح کی بدسلوکی ہوئی ہے۔ اگر انہیں کوئی ایسی بات کہی گئی ہے جو قابل قبول نہیں ہے ، خاص طور پر جلد کے رنگت کے بارے میں تو وہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان چیزوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ گمبھیر نے تیسرا ٹیسٹ میچ جیتنے کے لئے رشبھ پنت اور چتیشور پجارا کی کوششوں  کی تعریف   کرتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کی بھی تعریف کی ، کیونکہ ان کے اور ہنوما وہاری اور روی چندرن اشون کے درمیان  اچھےکھیل کی وجہ سے میچ ڈرا ہوگیا۔ گمبھیر نے کہا کہ پنت نے عمدہ بیٹنگ کی۔ انہوں نے اپنی تکنیک کے مطابق بیٹنگ کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK