آئی پی ایل کے پہلے کوالیفائر میں راجستھان کےمقابلے گجرات کا پلڑا بھاری

Updated: May 24, 2022, 1:30 PM IST | Agency | Mumbai

ہاردک پانڈیا کی ٹیم خطاب کی مضبوط دعویدار ہے اور وہ فائنل میں داخل ہونے کیلئے آج پہلی رکاوٹ پار کرنا چاہے گی۔سنجوسیمسن کی ٹیم بھی بڑے مقابلے کیلئے تیار

Gujarat Titans captain Hardik Pandya and Rajasthan Royals captain Sanju Samson.Picture:INN
گجرات ٹائٹنس کے کپتان ہاردک پانڈیا اور راجستھان رائلز کے کپتان سنجوسیمسن ۔ تصویر: آئی این این

مہلک بولنگ اٹیک اور متعدد فنشرس کے ساتھ ڈیبیو سیزن میں گجرات ٹائٹنس کی ٹیم منگل کو یہاں انڈین پریمیر لیگ کے پہلے کوالیفائر میں مضبوط دعویدار کے طور پر سابق چمپئن  راجستھان رائلز کا مقابلہ کرے گی۔ اس میچ میں گجرات کا پلڑا بھاری رہنے کا امکان ہے۔   ہاردک پانڈیا پہلی بار آئی پی ایل میں کسی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور ٹائٹنس کو بلے اور گیند دونوں سے لیگ مرحلے میں سرفہرست بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ نمبر۴؍پر کچھ عمدہ اننگز کھیلنے کے علاوہ  پانڈیا نے اپنے کھلاڑیوں کا خوب استعمال کیا، چاہے وہ ڈیتھ اوورس میں راشد خان کی ہوشیار گیند بازی ہو یا ڈیوڈ ملر اور راہل تیوتیا کی حملہ آور جوڑی کے ساتھ اسٹار کی طوفانی بلے بازی۔ ٹیم کا کمزور پہلو اس کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ رہی ہے۔ شبھمن گل سے ہر کسی کو بہت امیدیں ہیں لیکن وہ اچھی شروعات کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن تجربہ کار ردھیمان ساہا کو ٹاپ آرڈر پر لانے سے ٹیم کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ وکٹ کیپربلے بازساہا نے ۹؍ میچوں میں ۳؍ نصف سنچریوں کے ساتھ ٹاپ آرڈر پر گل کی خراب کارکردگی کی تلافی کی ہے۔ افغانستان کے لیگ اسپنر راشد نے درمیانی اور ڈیتھ اوورس میں شاندار گیندبازی کی جبکہ ہندوستانی تیز گیند باز محمد سمیع نے ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کیا اور پاور پلے میں۱۱؍ وکٹ کے ساتھ موجودہ سیزن کے سب سے کامیاب بولر ہیں۔ساہا، جو ہندوستانی ٹیم سے باہر ہونے کے بعد سے ہی سرخیوں میں ہیں، ایک بار پھر اپنے بنگال کے ساتھی سمیع کے ساتھ اپنے ہوم گراؤنڈ پر اچھا مظاہرہ کرنے کیلئے بے قرار ہوں گے۔ پلے آف میچ نئے وکٹ پر کھیلے جائیں گے تا کہ  تیز گیندباز اس پر نظر رکھیں۔ ایسے میں لوکی فرگیوسن اور سمیعکے ساتھ ساتھ پانڈیا تیز گیند بازی کی ذمہ داری الزاری جوزف کو سونپ سکتے ہیں۔ ٹائٹنس نے لیگ مرحلے میں رائلز کو۳۷؍ رن سے شکست دی تھی لیکن پہلے ٹورنامنٹ کے چمپئن کے پاس کچھ ٹاپ اسپنرس ہیں اور وہ تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی میں سخت مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم  ٹائٹنس نے گزشتہ چند میچوں میں توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسے آخری ۵؍ میچوں میں ۳؍ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف۸؍ وکٹوں کا نقصان بھی شامل ہے۔ ٹائٹنس نے ۴؍ میں سے۳؍ میچ ہارے ہیں جبکہ رائلز نے پہلے بلے بازی  کرتے ہوئے ۵؍ میں سے۴؍ میچ ہارے، اس لئے ٹاس کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ سنجو سیمسن کی ٹیم میں جوس بٹلر اور یزویندر چہل شامل ہیں، جو اس سیزن میں اورنج اور پرپل کیپ  کی دوڑ میں  شامل ہیں۔ اورنج کیپ سب سے کامیاب بلے باز کو دی جاتی ہے جبکہ پرپل کیپ سب سے کامیاب بولر کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیم کے پاس روی چندرن اشون کا تجربہ ہے جنہوں نے سیزن کے دوسرے ہاف میں اپنے تنوع سے متاثر کیا اور اپنی بلے بازی سے بڑا فرق پیدا کیا۔ چنئی سپرکنگز کے خلاف ۵؍ویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے باقاعدہ بلے باز شیمرون ہتمائر اور ریان پراگ سے آگے، اشون نے۲۳؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۴۰؍ رن بنائےاور ٹیم کو ۵؍ وکٹوں سے فتح دلائی ۔ساتھ ہی  ٹیم کو سرفہرست ۲؍ میں رہنے کو یقینی بنایا۔ لیکن اگر ٹیم کو۲۰۰۸ء کی آئی پی ایل جیتنے والی کارکردگی کو دُہرانا ہے تو نہ صرف اشون بلکہ ٹاپ آرڈر کو بھی بہتر کارکردگی پیش کرنی  ہوگی۔ ٹیم کے ٹاپ اسکورر بٹلر ٹورنامنٹ کے آخری مرحلے میں مایوس کن رہے اور وہ گزشتہ ۳؍ میچوں میں ۲۔۲؍ اور ۷؍کی اننگز سے صرف۱۱؍ رن ہی بنا سکے۔ انگلینڈ کے بٹلر نے رواں سیزن میں ۳؍ سنچریاں اور ۳؍ نصف سنچریاں اسکور کی ہیں لیکن وہ پچھلی ۵؍ اننگز میں۵۰؍ رن کا ہندسہ چھونے میں ناکام رہے ہیں اور ٹیم کو امید ہو گی کہ ان کی رن مشین ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلے گی۔ سیمسن اور ہتمائر بھی اچھا نہیں  کھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹیم کی بیٹنگ متاثر ہوئی ہے۔ کوالیفائر وَن  میں ہارنے والی ٹیم کو فائنل میں جگہ بنانے کا ایک اور موقع ملے گا جو ان دونوں ٹیموں کے لئے  راحت کا باعث ہو سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK