ٹیم انڈیا کے اسٹار سوریہ کمار یادو سب سے بڑا خطرہ ہیں: میتھیو ہیڈن

Updated: November 09, 2022, 1:24 PM IST | Agency | Sydney

سابق آسٹریلوی کھلاڑی نے کہا:میرے خیال میں برصغیر کے سوریہ کمار جیسے کھلاڑی درمیانی اوور سے لے کر آخری اوور تک خوبصورت کھیل دکھا رہے ہیں

Suryakumar Yadav. Picture:INN
ریہ کمار یادو ۔ تصویر:آئی این این

 آسٹریلوی بلے باز میتھیو ہیڈن کا خیال ہے کہ ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں طاقت ہمیشہ کلیدی نہیں ہوتی ہے اور برصغیر کے سوریہ کمار جیسے کھلاڑیوں نے دکھایا ہے کہ وہ چاروں طرف شاٹس کھیلنے کی صلاحیت کے ساتھ خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کھیل کے مختصر ترین فارمیٹ پر آسٹریلیا، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں کے پاور ہٹرس کا غلبہ رہا ہے لیکن ہیڈن نے اپنی بات کو درست کرنے کیلئے سوریہ کمار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح توازن برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔ آسٹریلیا کے سابق اوپنر اور پاکستانی ٹیم کے موجودہ مینٹور ہیڈن نے بدھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے موقع پر کہا’’ٹی ۲۰؍کرکٹ میں پاور گیم پر ابھی کام کیا جا رہا ہے۔ اگر آپ اب تک کے ٹورنامنٹ کو دیکھیں تو میرے خیال میں برصغیر کے سوریہ کمار جیسے کھلاڑی جو درمیانی اوور سے لے کر آخری اوور تک خوبصورت کھیل دکھا رہے ہیں، ان میں چاروں طرف شاٹس کھیلنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ اس میں جدت لا کر خطرہ بن گئے ہیں۔ سوریہ کمار نے۲۰۲۲ء میں ٹی۲۰؍ انٹرنیشنل میں۱۰۰۰؍ سے زیادہ رن بنائے ہیں۔ انہوں نے اتوار کو زمبابوے کے خلاف صرف۲۵؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۶۱؍ رن کی اننگز کھیل کر ایم سی جی میں موجود تقریباً ۸۲؍ہزار تماشائیوں کو محظوظ کیا۔ اس دوران انہوں نے کچھ غیر روایتی شاٹس بھی کھیلے۔  لہٰذا یہ ہمیشہ طاقت کا معاملہ نہیں ہوتا ہے۔ہیڈن نے کہاکہ میرے خیال میں اس ٹورنامنٹ میں بہت سی ٹیمیں رہ گئی ہیں کیونکہ انہوں نے وکٹ بچانے اور کھیل میں نیا پن لانے کے درمیان توازن قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا’’ `آسٹریلیا اس کی ایک بڑی مثال ہے لیکن وہ نئی گیند کا اچھی طرح سے سامنا نہیں کر پائے اور اس سے مڈل آرڈر پر دباؤ پڑتا ہے۔ دفاعی چمپئن آسٹریلیا سپر۱۲؍مرحلے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہا۔ ٹیم گروپ ون میں ۷؍ پوائنٹس کے ساتھ ختم ہوئی لیکن انگلینڈ نے بہتر نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے اسے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK