مخالف ٹیم کے وکٹ کیپر کی سلیجنگ کوہلی کو’ وراٹ‘ اننگز کھیلنے کی تحریک دیتے ہیں

Updated: May 22, 2020, 11:26 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ میدان پر اچھی کاکردگی کے لئے انہیں حریف ٹیموں کے وکٹ کیپرز کے ذریعے کی جانے والی سلیجنگ سے اچھی کارکردگی کی ترغیب ملتی ہے ۔ون ڈے اور ٹی -۲۰؍ کرکٹ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی رن چیز کرنے کے معاملے میں ماسٹر ہیں۔وراٹ کوہلی ٹارگیٹ کا پیچھا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور دوسری اننگز میں بلے بازی کرتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کیلئے کئی میچ جیتے ہیں۔

Virat Kohli - Pic : INN
وراٹ کوہلی ۔ تصویر : آئی این این

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ میدان پر اچھی کاکردگی کے لئے انہیں حریف ٹیموں کے وکٹ کیپرز کے ذریعے کی جانے والی سلیجنگ سے اچھی کارکردگی کی ترغیب ملتی ہے ۔ون ڈے اور ٹی -۲۰؍ کرکٹ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی رن چیز کرنے کے معاملے میں ماسٹر ہیں۔وراٹ کوہلی ٹارگیٹ کا پیچھا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور دوسری اننگز میں بلے بازی کرتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کیلئے کئی میچ جیتے ہیں۔رن مشین کے نام سے مشہور وراٹ نے حال ہی میں بتایا کہ رن چیز کرنے کے معاملے میں ان کی تحریک کیا ہوتی ہے۔بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے ون ڈے کپتان تمیم اقبال کے ساتھ فیس بک کے ایک لائیو سیشن میں وراٹ نے بتایا کہ کس طرح وكٹ كيپرز ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
 وكٹ كيپرز کی سلیجنگ وراٹ کوہلی کو تحریک دیتی ہے۔ بنگلہ دیش کے وکٹ کیپر مشفق الرحیم کی مثال دیتے ہوئے وراٹ نے بتایا کہ کس طرح سے وکٹوں کے پیچھے سے آ رہے سخت  الفاظ انہیں اور جارح ہونے کیلئے حوصلہ افزا کرتے ہیں۔ وراٹ کوہلی نے بتایا کہ کئی بار مشفق الرحیم جیسے وکٹ کیپر اسٹمپس کے پیچھے سے کچھ کہتے رہتے ہیں اور میں موٹیویٹ ہو جاتا ہوں۔آپ کو اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔میں میدان پر کبھی بھی اپنے اوپر  شبہ نہیں کرتا۔ ہدف کا تعاقب کرنے میں مہارت رکھنے والے کوہلی نے کہا کہ بچپن میں ہندوستانی ٹیم کے میچوں کو دیکھ کر وہ سوچتے تھے کہ وہ ٹیم کی جیت میں مدد کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایمانداری سے کہوں تو جب میں بچہ تھا اور ہندوستانی ٹیم کے میچ دیکھتا تھا تو ان کے ہارنے کے بعد سوتے وقت سوچتا تھا کہ میں میچ جیت دلا سکتا تھا۔اگر میں ۳۸۰؍رنوں کے ہدف کا تعاقب کر رہا ہوں تو میں نے کبھی محسوس نہیں کرتا کہ اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
 کوہلی نے انکشاف کیا کہ ان کے والد نے ان کی دہلی کی جونیئر ٹیم میں سلیکشن کے لئے رشوت دینے سے انکار کردیا تھا اوررشوت نہ دینے پر انہیں ٹیم میں منتخب نہیں کیا گیا تھا جس سے ان کا دل ٹوٹ گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میری اپنی آبائی ریاست میں کبھی کبھار کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو درست نہیں ہوتیں اور ایک موقع پر ایک شخص نے مجھے میرٹ پر ٹیم کا حصہ نہیں بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے میرے والد کو کہا تھا کہ مجھ میں میرٹ تو ہے لیکن فائنل سلیکشن کیلئےکچھ رشوت دینی پڑے گی۔
 کوہلی نے بتایا کہ میرے والد نے میرٹ پر سلیکشن پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو وراٹ کو منتخب کرنا ہے تو میرٹ پر کریں، میں آپ کو کچھ بھی اضافی نہیں دوں گا۔ ہندوستانی ٹیم کے موجودہ کپتان نے کہا کہ ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر وہ بہت روئے اور ان کا دل ٹوٹ گیا لیکن اس واقعہ نے انہیں بہت کچھ سکھایا اور وہ سمجھ گئے کہ دنیا اسی طرح چلتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھ گیا تھا کہ اگر مجھے آگے بڑھنا ہے تو مجھے کچھ ایسا کرنا ہو گا جو کوئی اور نہیں کر رہا۔ اگر مجھے کامیاب بننا ہے ہے تو مجھے سب سے بہتر بننا ہوگا اور یہ سب کچھ مجھے اپنی کوششوں اور سخت محنت سے حاصل کرنا ہوگا۔کوہلی نے کہا کہ میرے والد نے صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل کے ذریعے مجھے درست راستہ دکھایا، ان چھوٹی چیزوں نے میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK