سری لنکا نے ۲۰۱۱ء کےورلڈ کپ فائنل کی تفتیش کا حکم دیا

Updated: July 01, 2020, 10:54 AM IST | Agency | New Delhi

شریفوں کے کھیل پر پھر فکسنگ کے آسیب کا سایہ ، فائنل ہندوستان کو ’فروخت ‘ کرنےکے سری لنکا کے سابق وزیر کھیل کے الزام کی مجرمانہ پہلو سے تفتیش کی جائیگی

Team India - Pic : PTI
ٹیم انڈیا ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 ورلڈ کپ کے فائنل مقابلے  میں فکسنگ کے الزامات کی سری لنکا نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ واضح  رہےکہ سری لنکا کے سابق وزیر کھیل مہندانندا الودگاماگے نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھاکہ سری لنکا نے ورلڈ کپ فائنل ہندوستان کو’ `فروخت ‘کیا تھا اور اس کی جیت کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ سابق وزیر کھیل کے اس سنسنی خیز الزام سے کرکٹ کی دنیا میںہنگامہ مچا ہوا ہےاور فکسنگ کا آسیب پھر شریفوں  کے اس کھیل پر چھاتا ہوا نظر آیا۔سری لنکا کی وزارتِ کھیل کے سیکریٹری کے ڈی ایس روان چندرا نے خبر رساں ادارے `اے ایف پی کو بتایا کہ ورلڈ کپ۲۰۱۱ء  کے فائنل کے فکس ہونے سے متعلق جرم کے پہلو سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں جرائم سے متعلق پولیس کی خصوصی تفتیشی یونٹ (ایس آئی یو) کو معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری دی ہے۔اُن کے بقول ایس آئی یو ایک آزاد تحقیقاتی ادارہ ہے جو ہر پہلو سے معاملے کی تفتیش کرے گا۔سری لنکا کے مقامی میڈیا کے مطابق۲۰۱۱ء ورلڈکپ کے فائنل میچ کیلئے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے والے سابق چیف سلیکٹر اروند ڈی سلوا کو تحقیقاتی ٹیم نے منگل کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کر لیا ہے۔
 یاد رہے کہ ہندوستان نے ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں سری لنکا کو ۶؍ وکٹوں سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کیا تھا۔سری لنکن ٹیم کی فائنل میں شکست پر بعض کرکٹرز نے انگلیاں بھی اٹھائی تھیں۔۱۹۹۶ء کے ورلڈکپ کی فاتح سری لنکن ٹیم کی قیادت کرنے والے سابق کپتان ارجنا رانا ٹنگا نے بھی۲۰۱۱ء  کے ورلڈکپ فائنل کے نتیجے پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ 
 سری لنکا کی۲۰۱۱ء کے ورلڈ کپ میں قیادت کرنے والے کرکٹر کمارا سنگاکارا میچ کے مشکوک نتیجے کے الزامات کو مسترد کرچکے ہیں۔انہوں نے سابق وزیر کھیل کے الزماات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر الودگاماگے کے پاس شواہد ہیں تو وہ اپنے دعوؤں کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے رکھیں۔
 یاد رہے کہ رواں ماہ ہی سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ آئی سی سی کرپشن الزامات پر تین سابق کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔ تاہم بورڈ نے ان کھلاڑیوں کے نام ظاہر نہیں کئے تھے۔آئی سی سی قوانین کے تحت میچ فکسنگ مجرمانہ فعل ہے اور الزامات ثابت ہونے پر کھلاڑی کو پانچ لاکھ ڈالر سے زائد کا جرمانہ اور۱۰؍ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
 ماضی میں بھی مختلف ٹیموں سے تعلق رکھنے والے کئی کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ کے الزامات ثابت ہونے پر سزا ہو چکی ہے۔سزا پانے والے نمایاں کرکٹرز میں  ہندوستانی ٹیم کے سابق کپتان اظہر الدین اور پاکستان ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک بھی شامل ہیں جن پر تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی۔سزا پانے والے دیگر کرکٹرز میں سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر، ناصر جمشید، سری سانتھ، محمد اشرفل کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK