گجرات کو انڈین پریمیر لیگ کاچمپئن بنانےوالے ۵؍ٹائٹنس

Updated: May 31, 2022, 2:17 PM IST | Agency | Mumbai

گجرات ٹائٹنس کی ٹیم نے اپنے پہلے ٹی ۲۰؍ لیگ ٹورنامنٹ میں خطاب جیتا اور ڈیوڈ ملر ، ہاردک پانڈیا ، راشد خان ، محمد سمیع اور شھبمن گل نے ٹیم کو چمپئن بنانے میں اہم رول ادا کیا

Hardik Pandya. Picture:INN
ہاردک پانڈیا ۔ تصویر: آئی این این

 اتوار کو رات ختم ہونے والے آئی پی ایل کے ۱۵؍ویں سیزن میں گجرات ٹائٹنس نے چمپئن شپ کی ٹرافی اٹھائی اور اپنے پہلے ٹی ۲۰؍ لیگ ٹورنامنٹ میں دھماکہ خیز کامیابی حاصل کر لی۔ لیکن ٹیم کو اس مقام تک پہنچانے کیلئے اس کے ۵؍ٹائٹنس نے اہم کردار ادا کیا اور مسلسل اپنی کارکردگی سے سبھی کومتاثر کیا۔ ان ۵؍ٹائٹنس میں کپتان ہاردک پانڈیا ، آل راؤنڈر راشد خان ، بلے باز ڈیوڈ ملر، بلے باز شبھمن گل اور گیندباز محمد سمیع کانام قابل ذکر ہے ۔ ان سبھی نے تواتر کے ساتھ اچھی کارکردگی پیش کرتے ہوئے ٹیم کو چمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔  ہاردک پانڈیا کو جب گجرات ٹیم کا کپتان بنایا گیا تو سبھی نے ان پر تنقید کی تھی کہ وہ فی الحال فٹ نہیں ہیں اور کس طرح ایک نئی ٹیم کی کپتانی سنبھال سکیں گے لیکن گروپ مرحلے میں جب ان کی ٹیم  نے ۱۴؍ میچوں میں ۱۰؍ فتح اور ۴؍ شکست کےبعد ٹیبل پر۲۰؍ پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پوزیشن حاصل کی تو سبھی نے ان کا لوہا مان لیا۔ اس کے بعد کوالیفائر وَن میں ان کی کپتانی نے گجرات ٹائٹنس کو فائنل میں پہنچا دیا اور ناقدین اور مصبرین خاموش ہوگئے۔ انہوںنے کیپٹن کول رہتے ہوئےاچھی حکمت عملی بنائی اور کھلاڑیوں کا بہتر انداز میں استعمال کیا۔ کپتانی کے ساتھ انہوں نے بلے بازی اور گیندبازی میں اچھا مظاہرہ کیا۔ گجرات کے کپتان ہاردک پانڈیا نے ۱۵؍ میچوں میں  ۴۸۷؍ رن بنائے، ان کا بہترین اسکور ناٹ آؤٹ ۸۷؍رن رہا،ان کا اوسط ۴۴ء۲۷؍ رہا۔ گیندبازی میں انہوں نے ۱۰؍ اننگز میں بولنگ کی اور ۸؍وکٹ لئے ۔ ان کا بہترین مظاہرہ ۱۷؍رن پر ۳؍وکٹ رہا۔ ٹیم کے دوسرے اسٹار افغانستان سے تعلق رکھنے والے آل راؤنڈر راشد خان تھے جنہوں نے گیند اور بلے سے ٹیم کو فائنل میں کامیاب بنانے کیلئے اچھا مظاہرہ کیا۔ گجرات ٹائٹنس نے انہیں اپنی ٹیم میں میگا  نیلامی سے پہلے ہی شامل کرلیا تھا۔ انہیں آئی پی ایل کے ایک میچ میں کپتانی کرنے کا موقع بھی ملا تھا ۔ انہو ںنے ۱۶؍ میچ کھیلے اور انہیں ۸؍اننگز میں بلے بازی کا موقع ملا۔ ان کا اوسط ۲۲ء۷۵؍ تھا۔ راشدنے کل ۹۱؍ رن بنائے اور ان کا بہترین اسکور۴۰؍رن تھا۔ گیندبازی میں انہوں نے کمال کردکھایا۔اکنامی ریٹ  کے مطابق وہ ٹیم کے ٹاپ گیندباز رہے۔ ۱۶؍اننگز میں راشد نے ۱۹؍  وکٹ لئے۔ ان کا بہترین مظاہرہ ۲۴؍ رن پر ۴؍ وکٹ تھا۔ اس سیزن میں انہوںنے کل ۶۳ء۵؍  اوور گیندبازی کی تھی۔  تیسرے نمبرپر ہندوستانی ٹیم کے تجربہ کار تیز گیندباز محمد سمیع رہے جنہوں نے گجرات ٹائٹنس کی جانب سے سب سے زیادہ ۲۰؍ وکٹ لئے۔ انہوں نے اس سیزن کے پہلے میچ ہی سے گجرات کیلئے اچھی کارکردگی پیش کی۔ گجرات کیلئے اپنے پہلے میچ میں سمیع نے ۳؍وکٹ لئے۔ سمیع نے  ۱۶؍ میچوں کی ۱۶؍ اننگز میں ۶۰؍اوورکئے اور ۲۰؍   وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔ ان کا بہترین مظاہرہ ۲۵؍ رن پر ۳؍ وکٹ تھا۔   ہاردک پانڈیا نے ٹیم انڈیا کے اس تیز گیندباز کا اچھا استعمال کیا۔ 
 چوتھے نمبرپر جنوبی افریقہ کے تیز بلے باز ڈیوڈ ملر کانام آتا ہے۔ڈیوڈملر کئی برسوں سے آئی پی ایل کھیل رہےہیں لیکن ان کا بلہ کبھی بھی اس طرح نہیں چلا جس طرح اس آئی پی ایل میں چلا ہے۔ انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ آئی پی ایل کی اس فرنچائزی نے انہیں بہت زیادہ موقع دیا ہے۔ڈیوڈ ملر نے ۱۶؍ میچوں میں شرکت کی اور ۱۶؍ اننگز میں بلے بازی کی ۔ ۹؍میچوں میں وہ ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے تھے۔ ان کا بہترین اسکور نا ٹ آؤٹ ۹۴؍ رن تھا۔ ۶۸ء۷؍  کے اوسط کے مطابق وہ ٹیم کے ٹاپ بلے باز رہے۔ آئی پی ایل کے اس ٹورنامنٹ میں انہوں نے ۲؍ نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ ٹیم انڈیا کے نوجوان بلے باز شھبمن گل نے بھی اس آئی پی ایل میں اچھی کارکردگی پیش کی۔ حالانکہ ان کے کھیل میں تسلسل کی کمی تھی، بہر کیف اپنی بلے بازی سے انہوں نے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ شبھمن نے ۱۶؍ میچوںمیں ٹیم کی نمائندگی کی اور ۱۶؍اننگز میں بلے بازی کی۔ ۳۴ء۵۰؍ اوسط سے انہوں نے ۴۸۳؍رن بنائے۔ گل نے ۳۶۵؍ گیندوں کا سامنا کیا اور ۲؍ بار ناٹ آؤٹ پویلین لوٹ گئے تھے۔ ان کا بہترین اسکور ۹۶؍ رن تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK