انڈین پریمیر لیگ کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کے بعد کئی چیلنج کا سامنا

Updated: June 01, 2021, 11:56 AM IST | Agency | Mumbai

غیرملکی کھلاڑیوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے مختلف ممالک کےکرکٹ بورڈس کو منانا ہوگا کیونکہ اس دوران کئی باہمی سیریز ہونے والی ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل کے باقی۳۱؍ میچوں کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ستمبر۔اکتوبر میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے انعقاد میں اس کے سامنے کئی بڑے چیلنج پیش آنے والے ہیں۔  بی سی سی آئی اور فرنچائزی ٹیمیں تو آئی پی ایل کو مکمل کرانا چاہتی ہیں لیکن کیا دوسرے بورڈ بھی یہی جذبہ رکھتے ہیں۔ کیا وہ اپنے کھلاڑیوں کو لیگ میں حصہ لینے کی اجازت دیں گےجبکہ عالمی کپ ان کے سامنے کھڑا ہے اور کچھ باہمی سیریز (۶؍ ممالک کو ملاکر ) بھی ہونی ہے۔  آئی پی ایل کی راہ میں سب سے بڑی پریشانی انگلینڈ میں ہندوستان کی ۵؍ میچوں کی ٹیسٹ سیریز ہے جو۴؍ اگست کو شروع ہوگی اور ۱۴؍ ستمبر کو ختم۔ ایسے میں بی سی سی آئی کے لئے ستمبر کی شروعات میں آئی پی ایل کو شروع کرنا ممکن نہیں ہے ۔ وہیں انگلینڈ کے کھلاڑی آئی پی ایل میں دستیاب نہیں ہوں گے کیونکہ ہندوستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے قریب ایک ہفتے بعد انگلینڈ کو بنگلہ دیش کے دورے پر جانا ہے اور اس کے بعد پاکستان کے خلاف اس کے گھر پر سفید گیندکی  سیریز کھیلنی ہے جو اکتوبر کے وسط تک  جاری رہنے  کی امید ہے۔ اس وجہ سے انگلینڈکے کھلاڑیوں کی غیرموجودگی کئی فرنچائزیز کے لئے باعث تشویش  ہے۔ 
 اس کے علاوہ دوسرا  اہم چیلنج کیریبین  پریمیر لیگ  (سی پی ایل ) ہے جس نے جمعہ کو کھلاڑیوں کے مسودے کا اعلان کرتے ہوئے دُہرایا کہ ۲۰۲۱ء ایڈیشن۲۸؍ اگست سے۱۹؍ ستمبر کے بیچ منعقد کیا جائے گا۔ کئی چوٹی کے کھلاڑی اور کئی دیگر غیرملکی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف سی پی ایل میں شامل  ہیں۔ اس کے پیش نظر بی سی سی آئی نے سی پی ایل کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے اور انہیں اپنے شیڈول میں تبدیلی کی اپیل کی ہے تاکہ کھلاڑیوں کو سی پی ایل کے انعقاد کی جگہ سینٹ کٹس سےمتحدہ عرب امارات میں بایو ببل میں جلد منتقل کیا جاسکے حالانکہ بی سی سی آئی کے لئے یہ آسان کام نہیں ہوگا۔
 غیرملکی کھلاڑیوں کی موجودگی بی سی سی آئی کے سربراہان کے لئے تشویش کا سبب ہے اور انہیں دوسرے کرکٹ بورڈس کو منانا ہوگا کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کیلئے ریلیز کردیں۔
  کرک بز نے آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے بورڈس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن صرف ایک بورڈ نے جواب دیا۔ ویسٹ انڈیز بورڈ نے کہا’’ہم بی سی سی آئی سے بات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا پہلا میچ کب کھیلا جائے گا اور  ہمارے سی پی ایل کھلاڑیوں ، عملہ اور کمنٹیٹرس کیلئے  یواے ای میں کون سا پروٹوکول موجود ہوگا۔ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ فائنل کس تاریخ کو ہوگا ، کیوں کہ ہمیں افغانستان اور آسٹریلیا کے ساتھ سہ فریقی سیریز کی میزبانی کرنی ہے۔ لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی (پہلے مرحلے میں ۹؍کھلاڑی کھیلے تھے ) ریلیز کر دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خرچ کی لاگت کا بھی سوا ل ہے جو دُگنا یا ۳؍ گنا ہوسکتا ہے۔ غیرملکی کھلاڑیوں کو لانا اور واپس چھوڑنا ڈبل ہوجائے گا۔ انہیں بزنس کلاس میں دوبارہ لانااور پھر واپس چھوڑنا خرچ کو دُگنا کردے گا۔ اسکے علاوہ چارٹر طیاروں کا خرچ ہندوستانیوں، سی پی ایل اور دیگر کے لئے جو باہمی سیریز میں شامل ہوں گے اور انہیں خصوصی طیاروں سے لایا جائے گا تاکہ بایو ببل سے بایوببل منتقل کرنا یقینی   بنایا جاسکے۔ اگر سفر کا خرچ ڈبل ہوتا ہے تو رہنے کا خرچ ۳؍ گنا زیادہ ہوگا۔ بی سی سی آئی نے ہوٹلوں کا خرچ ایڈجسٹ کرلیا تھا لیکن کیا وہ دبئی میں ایسا کرسکیں گے یہ ایک بڑا سوال ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK