دھونی پر بنی فلم کے امپائر شاہد مرزا کی ’ان ٹولڈ اسٹوری‘

Updated: June 26, 2020, 4:59 AM IST | Sanjeev Ranjan | Ranchi

لاک ڈاؤن کے سبب بے روزگار ہوچکے امپائر۲؍وقت کی روٹی کےلئے پریشان

MS Dhoni - Pic : INN
ایم ایس دھونی ۔ تصویر : آئی این این

’ ایم ایس دھونی:دی ان ٹولڈ اسٹوری‘فلم کا وہ سین کرکٹ شائقین کو ضرور یاد ہوگا جس میں ایک بچہ اسکول میں جاکر کہتا ہے کہ ’ماہی مار رہا ہے‘۔ریل لائف میں اُس میچ میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینے والے رانچی ضلع کرکٹ اسوسی ایشن کے امپائر شاہد مرزا ان دنوں مفلسی کے دور سے گزر رہے ہیں۔لاک ڈاؤن نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔معاشی بدحالی نے زندگی کا تانا بانا کچھ اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ ۲؍وقت کی روٹی کا بھی جگاڑ کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کچھ جان پہچان والوں کی دریادلی اورجگاڑ کے سہارے زندگی کٹ رہی ہے۔
 پوری طرح امپائرنگ کی فیس سے زندگی کی گاڑی چلانے والے شاہد مرزاکی زندگی کو لاک ڈاؤن نے پوری طرح سے لاک کرکے رکھ دیا ہے۔رانچی ضلع کرکٹ لیگ میں ہندوستان کے سب سے کامیاب کپتان کہے جانے والے مہندر سنگھ دھونی کے ساتھ کھیل چکے شاہد مرزا اب رانچی ضلع کرکٹ اسوسی ایشن کے لیگ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیتے ہیں۔اسکول لیگ،بی ڈویزن، اے ڈویزن اور سپر ڈویزن میں امپائرنگ کرنے والے شاہد مرزا کو ایک میچ میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے عوض ۳۰۰؍ روپے ملتے ہیں۔کورونا کی عالمی وباءکی وجہ سے ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے سبب ان کی یہ آمدنی بھی بند ہوچکی ہے۔
 گزشتہ ۱۰؍برسوں کے دوران سیکڑوں میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے چکے شاہد مرزا گزشتہ ۳؍مہینے سے بے روزگار ہیںاور دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی گھر میں قید ہوکر رہے گئے ہیں۔ مصیبت کے اس دور میں کرکٹ اسوسی ایشن کی جانب سے مالی مدد کی بات تو دور کسی اعلیٰ عہدیدار نے تسلی کے دو بول بھی نہیں کہے۔ حالانکہ اس سال جتنے بھی میچ ہوئے تھے اس کی فیس اسوسی ایشن نے امپائروں کو ادا کر دی تھیں لیکن یہ پیسے آخر کتنے دن چلتے۔ اب جبکہ کرکٹ پوری طرح سے بند ہوچکا ہے تو ایسی حالت میں زندگی کی گاڑی چلانے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہر آنے والا دن ایک چیلنج لے کر آرہا ہے۔گزشتہ دنوں کچھ سماجی تنظیموں کی جانب سے کچھ امپائروں کو راشن وغیرہ ضرور فراہم کیا گیا لیکن اتنا ہی کافی نہیں ہوتا۔مایوسی میں ڈوبےشاہد مرزا کہتے ہیں کہ ’ایم ایس دھونی:دی ان ٹولڈ ا سٹوری‘ میں امپائرنگ کرنے کیلئے ۳۰؍ امپائروں میں سے میرا انتخاب ہوا تھا۔خیر یہ اُس وقت کی بات ہے اور یہ آج کے حالات ہیں۔وہ ریل لائف تھی اور یہ ریئل لائف ہے۔ضلع کرکٹ اسوسی ایشن کے ایک دیگر امپائر دلیپ کمار کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نے ہماری زندگیوں کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ مارچ سے ہی میچ نہیں ہو رہے ہیں۔امپائرنگ ہی ہمارا مالی سہارا ہوا کرتا ہے لیکن اب ہم بے سہارا ہوگئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK