وقار یونس نے ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا چھوڑا

Updated: May 31, 2020, 11:55 AM IST | Agency | Islamabad

پاکستان کے سابق کرکٹر وقار یونس نے جمعہ کو واضح کیا کہ ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا اور ہیکر نے ان کے آفیشل ہینڈل سے ایک فحش ویڈیو لائیک کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو حذف کردیا ہے۔

Waqar Younis - Pic : INN
وقار یونس ۔ تصویر : آئی این این

 پاکستان کے سابق کرکٹر وقار یونس نے جمعہ کو واضح کیا کہ ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا اور ہیکر نے ان کے آفیشل ہینڈل سے ایک فحش ویڈیو لائیک کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو حذف کردیا ہے۔
   ٹویٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ صبح جب میں اٹھا تو کسی  نے میرا ٹویٹر ہیک کرکے نہایت ہی نازیبا، بیہودہ ویڈیو کو میرے اکاؤنٹ سے لائک کیا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ میرے اور میرے اہل خانہ کیلئے  بڑی افسوس ناک، شرمناک اور تکلیف دہ بات ہے۔ وقار یونس نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ سوشل میڈیا یا ٹویٹر اپنے جاننے والوں سے بات چیت کا ذریعہ ہے لیکن بدقسمتی سے اس انسان نے یہ کردیا۔
 انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی ہوچکا ہے اور یہ انسان تو باز نہیں آئیگا لہٰذا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد میں سوشل میڈیا پر نہیں آؤں گا کیونکہ مجھے میرے گھر والے زیادہ عزیز ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے بعد آپ مجھے سوشل میڈیا پر نہیں دیکھیں گے اور اگر کسی کو اس بات سے تکلیف ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔
 خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر وقار یونس کے نام ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہوا تھا جس کی وجہ ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ کے لائک سیکشن میں ایک نازیبا ویڈیو کو لائک کرنا تھا۔اگرچہ یہ ویڈیو مارچ  ۲۰۱۹ء میں ٹویٹر پر ایک اکاؤنٹ کی جانب سے پوسٹ کیا گیا تھا تاہم وقار یونس کے اکاؤنٹ پر حالیہ لائک میں یہ سب سے اوپر نظر آرہا تھا۔اس ویڈیو کو پاکستانی کرکٹر کے اکاؤنٹ سے لائیک کئےجانے کے بعد سے ٹویٹر پر ایک وقار یونس کے نام سے ٹرینڈ چلنے لگا اور صارفین ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ وقار یونس کے لائیک سیکشن کو کوئی نہ دیکھے تاہم اس موقع پر بھی کچھ صارفین نے میمز کا سہارا لیا اور مختلف میمز شیئرس کیں۔یہاں یہ واضح رہے کہ ٹویٹر پر وقار یونس کے۱۷؍ لاکھ سے زائد فالورس ہیں جبکہ وہ خود صرف۱۰۶؍ افراد کو فالو کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK