چوّنی

Updated: April 24, 2021, 3:54 PM IST | Ubaid Qamar

بس کا انتظار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ انجم اور اس کے ساتھیوں کو تقریباً ۲؍ گھنٹے بعد بس ملتی ہے۔ شرارتی ہونے کی وجہ سے انہیں بس میں بیٹھے مسافر کافی کچھ سنا دیتے ہیں مگر آخر میں سب کی رائے بدل جاتی ہے، پڑھئے مکمل کہانی

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

اسکول کے گیٹ پر بہت سے لڑکے بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ سب کے چہروں سے بے چینی اور بے بسی ٹپک رہی تھی۔ دو گھنٹہ کے وقفہ میں پٹنہ جانے والی تین بسیں آئیں اور کوئی نہ رکی۔ دو بسیں تو سچ مچ فل گزری تھیں۔ لیکن پچھلی بس کافی خالی جگہ رہتے ہوئے بھی ڈرائیور نے نہیں روکی۔ انجم پیچھے سے بس پر پتھر کا ٹکڑا مارتے ہوئے چلّایا تھا ’’بے رحم! معلوم ہوتا ہے کم بخت بے اولاد ہے!‘‘ اور کسی لڑکے نے بھوک کے مارے جل بھن کر بدعا دی تھی.... ’’اور بھگوان نے چاہا تو بے اولاد ہی مرے گا!‘‘ اور سب لڑکے ہنس پڑے تھے۔ اب شرارتی انجم بیچ سڑک پر سینہ تانے کھڑا تھا۔ اس نے اپنا ٹفن بکس پاس ہی سڑک پر رکھ دیا اور پھر وہ چلانے لگا.... ’’دیکھتے ہیں اس بار کون بس نہیں روکتا! ہے کوئی مائی کا لال جو بغیر بس روکے گزر جائے!‘‘
 یکایک کئی لڑکے اپنا ٹفن بکس اور بستہ سنبھالتے ہوئے چلّا پڑے.... ’’بس آرہی ہے! بس آرہی ہے!‘‘ اور پھر سب ایک دوسرے کا نام لے کر پکارنے لگے۔ انجم چیخ رہا تھا.... ’’تم سب میرے پاس آجاؤ، ورنہ بس نہیں رکے گی!‘‘ کئی لڑکے انجم کے پاس سڑک پر ہاتھ اٹھائے کھڑے ہوگئے۔ بس پوری رفتار کے ساتھ چلی آرہی تھی۔ ایک جھٹکے کے ساتھ بس رکی اور پھر تیزی سے نکل گئی۔ دو تین لڑکے جلدی میں دوڑتے ہوئے گر پڑے۔ اب ایک دوسرے پر بگڑ رہے تھے۔ للّو ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی چیز لئے چلّا رہا تھا ’’انجم! اے انجم! یہ دیکھو تمہارا ٹفن بکس بس سے دب کر کتنا خوبصورت ہوگیا ہے!‘‘ سب لڑکوں نے زور دار قہقہہ لگایا۔ انجم نے جلدی میں اپنا ٹفن بکس سڑک ہی پر چھوڑ دیا تھا۔ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اس نے ٹفن بکس للّو سے لے کر سڑک پر لڑھکا دیا۔ تین چار لڑکے بس کے پیچھے پیچھے دوڑے اور پھر فٹ بال کھیلا جانے لگا۔
 للّو یکایک تالی بجاتے ہوئے چلّایا ’’واہ! واہ! تین تین بسیں ایک ساتھ آرہی ہیں! انجم بڑبڑانے لگا ’’ماشاء اللہ! کتنا اچھا انتظام ہے بس سروس کا! نہ آئے گی تو ایک بھی نہ آئے گی اور آنے لگی تو ایک ایک لائن میں چلی آرہی ہیں جیسے بس نہ ہوں، مال گاڑی آرہی ہو!‘‘
 پہلی بس جیسے ہی آکر رکی۔ بٹالین نے حملہ کر دیا، جب تک دوسری بسیں بغل سے نکل گئیں۔ انجم سب سے پہلے بس پر چڑھ کر کنڈکٹر کے پاس کھڑا ہوگیا اور سب لڑکے چیختے چلّاتے ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہوئے بس پر چڑھنے لگے۔ کچھ لڑکے ابھی نیچے ہی تھے کہ کنڈکٹر نے وسل بجا دی انجم بگڑ پڑا ’’دیکھتے نہیں ہو ابھی لڑکے چڑھ ہی رہے ہیں!‘‘ اس نے گاڑی رکوا دی۔
 اور جب سب لڑکے چڑھ گئے تو آخر میں للّو نے کسی طرح بھیڑ میں گیٹ پر لٹک کر منہ سے زور دار سیٹی بجائی، جواب میں اوپر سے انجم نے سیٹی ہی میں کہا ’’آل رائٹ!‘‘ اور پھر کنڈکٹر کی وسل کے ساتھ ہی بس چل پڑی۔
 لڑکوں کے اس ہنگامہ میں دس ہی منٹ بس رُکی ہوگی۔ لیکن پسنجر بگڑ رہے تھے۔ طرح طرح کی آوازیں بس کے اندر ابھر رہی تھیں، ایک حضرت نے ہنستے ہوئے کہا ’’آخر اس بٹالین نے کنڈکٹر اور ڈرائیور کو حراست میں لے کر بس پر قبضہ کر ہی لیا!‘‘
 ایک ادھیڑ عمر کی عورت بولی ’’لڑکے سب ہیں! آفت کی پڑیا!‘‘ پچھلی سیٹ پر بیٹھے شریمان بڑبڑائے ’’کیا ضروری تھا کہ سب لڑکے اسی بس پر جاتے۔‘‘ ’’کیا ضروری تھا کہ آپ اسی بس پر پدھارتے؟‘‘ دروازہ پر لٹکے للّو نے جواب دیا۔ اور وہ شریمان للّو کو گھورنے لگے۔ انجم جہاں کھڑا تھا اُس سے ایک سیٹ آگے بیٹھے دھوتی کُرتا میں ملبوس سیٹھ جی نے گونجتی ہوئی آواز میں کہا ’’جس دیش کے بچے اتنے وحشی ہیں وہ دیش کیا ترقی کرے گا۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے داد طلب نگاہیں اوپر اٹھائیں۔ بدقسمتی سے اُن کی نگاہیں انجم ہی سے ٹکرا گئیں۔ پھر تو نگاہوں ہی نگاہوں میں ایسی داد ملی کے بیچارے کو نگاہیں نیچی کرلینی پڑیں۔
 یکایک پچھلی سیٹ پر عجیب سا شور و غل ہونے لگا، سب کی گردن پیچھے مڑ گئی۔ پیچھے سے ایک بڑھیا کی لرزتی آواز اُبھری ’’ہم کو بڑا اسپتال جانا بہت ضروری ہے بابو!‘‘ کنڈکٹر نے گرج کر کہا ’’ضروری ہے تو ہم کیا کریں۔ چلو ابھی فوراً اترو!‘‘ اور کنڈکٹر نے وسل دے کر بس رکوا دی۔
 بڑھیا ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی ’’مجھ پر دیا کرو بابو! ہم کو اسپتال جانا بہت ضروری ہے.... میرا بیٹا وہاں بیمار ہے!‘‘
 یکایک بہت سے لوگ چیخ پڑے ’’کیا بات ہے؟ ہوا کیا، کیا تماشا ہے۔ ارے بھائی گاڑی کیوں رکوا دی؟‘‘ کنڈکٹر نے آگے کی طرف منہ کرکے کہا ’’ہوگا کیا! پیسہ نہ کوڑی گاڑی پر چڑھ گئی۔ جیسے اسی کی گاڑی ہے۔ کل پندرہ پیسہ ہے اس کے پاس! باقی چوّنی ہم اپنی جیب سے دیں کیا؟‘‘ اور وہ بڑھیاں کو گھسیٹ کر بس سے اتارنے لگا۔
 ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں ’’ہاں! ہاں! جلدی اتارو اسے، افوہ.... ارے جلدی کرو بھائی! گھسیٹ کر اتار دے، بس پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکی ہے۔‘‘
 انجم جیسے چیخ پڑا ’’خبردار! شرم نہیں آتی۔ بوڑھی عورت کو دھکا دیتے ہوئے؟ بیٹھنے دو اسے آرام سے! پیسہ ہم دیتے ہیں!‘‘ اور انجم نے ایک اٹھنی بڑھیا کے ہاتھ میں تھما دی۔ بڑھیا اسے دعائیں دینے لگی۔ اور سب لوگ تحسین بھری نظروں سے انجم کو دیکھنے لگے۔
 یکایک بس میں للّو کی زور دار آواز گونجی ’’کوئی ہے.... گھسیٹ کر اتار دے ان سب کو بس سے؟ کسی کی جیب سے ایک چوّنی تک نہیں نکلی!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK