دھوکہ

Updated: August 15, 2020, 3:06 AM IST | Abrar Mohsin | Mumbai

یہ کہانی ترکی کے ایک بادشاہ کی ہے۔ اس بادشاہ کو عجیب و غریب چیزیں جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ اس کی یہ خواہش تھی کہ اس کے پاس ہر چیز ایسی ہو جو دوسروں کے پاس نہ ہو اور وہ اس پر رشک کریں ۔ ایک مرتبہ بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی ریس دوسرے بادشاہ کے گھوڑے سے کروائی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بہت دنوں کی بات ہے ترکی پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بڑی آن بان اور شان و شوکت والا تھا وہ۔ ترکی اس زمانے میں بڑا طاقتور ملک تھا اس لئے آس پاس کے چھوٹے بادشاہ اس کے نام سے تھراتے تھے کہ نہ جانے ان کی کون سی بات اسے ناگوار گزرے اور وہ اپنی مضبوط فوج کو لے کر چڑھ دوڑے۔ اسی لئے اسے خوش کرنے کے لئے دوسرے بادشاہ تحفے بھیجا کرتے تھے۔ جب کوئی ہمیشہ تحفہ دیتا ہے تو خواہ تحفہ کتنا ہی گھٹیا کیوں نہ ہو ہمارا فرض ہے کہ اسے بڑی خوشی کے ساتھ قبول کریں لیکن وہ بادشاہ کیونکہ بہت طاقتور تھا اسے اپنی بڑائی پہ ناز تھا اس لئے وہ ہمیشہ ناک بھوں چڑھایا کرتا تھا۔اس بادشاہ کو عجیب و غریب چیزیں جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ اس کی یہ خواہش تھی کہ اس کے پاس ہر چیز ایسی ہو جو دوسروں کے پاس نہ ہو اور وہ اس پر رشک کریں اور اسی لئے دور دور سے سوداگر اس کے دربار میں آتے اور اس سے بڑی بڑی رقمیں اینٹھ کر لے جاتے۔
 بادشاہ کا اصطبل بھی بہت بڑا تھا جس میں اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے موجود تھے۔ بادشاہ نے ان گھوڑوں کو دور دیس سے آئے ہوئے سوداگروں سے سونے کے مول خریدا تھا۔ بادشاہ کی سواری کا جو خاص گھوڑا تھا اس کا تو جواب ہی نہ تھا۔ لمبا، چوڑا، خوبصورت گھوڑا جب دوڑاتا تو ایسا معلوم ہوتا گویا ہوا سے باتیں کر رہا ہے۔
 ایک روز بادشاہ کے پاس پڑوس کے ایک ملک کا بادشاہ آیا۔ اس کے گھوڑے کا بھی جواب نہ تھا۔ نہ جانے ترکی کے بادشاہ کو کیا سوجھی کہ کہنے لگا ’’تمہارا گھوڑا کافی اچھا ہے مگر یہ میرے گھوڑے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔‘‘ دوسرے بادشاہ نے دبی زبان سے کہا ’’بادشاہ سلامت! آپ کا گھوڑا واقعی لاجواب ہے مگر میرا گھوڑا بھی کچھ کم نہیں ہے۔‘‘ بادشاہ بدمزاج تو ہوتے ہیں ۔ بس یہ سننا تھا کہ فوراً طیش آگیا اور طے کیا کہ دونوں گھوڑوں کی دوڑ ہوگی اور بھائی دوڑ ہوئی۔ دونوں گھوڑے خوب دوڑے مگر ترکی کے بادشاہ کا گھوڑا ہار گیا۔ بادشاہ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ اس نے حکم دیا ایسے ناکارہ گھوڑے کو فوراً مار دیا جائے۔ اس کے بعد اس نے یہ عہد کر لیا کہ اب اگر کبھی وہ سواری کرے گا تو اسی گھوڑے پر جو دنیا کا سب سے تیز رفتار گھوڑا ہوگا۔ بس پھر کیا تھا بادشاہ نے ہر ملک کو اپنے قاصد دوڑا دیئے۔ بہت سے گھوڑے بادشاہ کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ خوبصورت، مضبوط اور تیز رفتار مگر بادشاہ کو ایک بھی پسند نہ آیا۔ وہ تو ایسے گھوڑے کا خواب دیکھ رہا تھا جس کا جواب ساری دنیا میں نہ ہو۔
 ایک دن بادشاہ کے دربار میں عرب کا ایک سوداگر آیا اور اس نے بادشاہ سے کہا ’’حضور! بڑی مشکل سے عرب کے ریگستان کو پار کرکے مَیں آپ کی خدمت میں ایک بہترین گھوڑا لایا ہوں ۔‘‘بادشاہ نے خوش ہو کر کہا ’’کہاں ہے گھوڑا؟‘‘سوداگر نے ادب سے کہا ’’کل صبح آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔‘‘اگلے دن صبح ہی صبح سوداگر گھوڑے پر سوار ہو کر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ کو بڑی مایوسی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ وہ دُبلا پتلا، پستہ قد، کالے رنگ کا ایک معمولی گھوڑا تھا۔’’یہی گھوڑا لائے ہو؟‘‘ بادشاہ نے پوچھا۔’’جی حضور یہی ہے وہ۔‘‘’’کیا دام ہیں ؟‘‘ بادشاہ نے حقارت سے پوچھا۔ ’’دس ہزار اشرفیاں ۔‘‘ سوداگر نے کہا۔بادشاہ چکرا گیا۔ اس نے سوچا ’’ضرور کوئی بات تو ہے جو سوداگر ایسے معمولی گھوڑے کے دام دس ہزار اشرفیاں بتا رہا ہے۔‘‘بادشاہ نے سوداگر سے کہا ’’تمہارا گھوڑا بالکل معمولی ہے لیکن کیونکہ اتنی دور سے آئے ہو اس لئے تمہارا دل رکھنے کے لئے ہم تمہیں دس ہزار اشرفیاں دیں گے۔‘‘ ارے یہ کیا....! جیسے ہی بادشاہ نے دس ہزار اشرفیوں کی تھیلی سوداگر کی طرف بڑھائی اسے جلدی سے جھپٹ کر تھیلی جیب میں ڈالی اور گھوڑے پر بیٹھ کر رفو چکر ہوگیا۔ ’’اس بدمعاش کا پیچھا کرو۔‘‘ بادشاہ نے غضبناک ہوکر سپاہیوں سے کہا، ’’یہ سوداگر نہیں ، کوئی ڈاکو تھا۔ جلد اسے گرفتار کرکے ہمارے سامنے لاؤ۔ ہم اسے سزائے موت دیں گے۔‘‘ اُسی وقت سیکڑوں سپاہی گھوڑوں پر سوار ہوکر اس کے پیچھے دوڑ پڑے مگر کئی دن کی دوڑ دھوپ کے بعد بھی وہ اس کی گرد کو بھی نہ پاسکے۔ بادشاہ غصہ سے ہونٹ چبا رہا تھا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار دھوکہ کھایا تھا۔ اس گستاخ سوداگر کی جسارت اور بدتمیزی پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔
 وزیر صاحب! بادشاہ نے وزیر سے کہا ’’اعلان کرا دو... سوداگر کو گرفتار کرکے ہمارے پاس لانے والے کو مالا مال کر دیا جائے گا۔‘‘تمام سپاہی اور رعایا جی جان لگا کر سوداگر کو تلاش کرنے لگے۔ بادشاہ کو روز خبریں ملتی رہتیں ۔ ’’بادشاہ سلامت.... آج وہ نظر آیا تھا۔ ہم نے اس کا پیچھا کیا مگر اس کی گرد کو بھی نہ پاسکے۔‘‘کوئی کہتا ’’جہاں پناہ! آج سوداگر ایک پہاڑی پر کھڑا تھا۔ مگر جیسے ہی ہم نے اس کا تعاقب کیا وہ نہ جانے کہاں گم ہوگیا؟‘‘ ایسی خبروں سے بادشاہ اور زیادہ جھنجھلا رہا تھا۔ وہ اپنے وزراء اور سپاہیوں کو بلا کر بری طرح پھٹکارتا۔ ’’شرم آنی چاہئے تم سب کو.... ڈوب مرو.... ایک آدمی کو گرفتار نہیں کرسکتے.... سب کو موت کے گھاٹ اتروا دوں گا۔ بے غیرتو!‘‘مگر سوداگر تو ایک چھلاوہ تھا۔ ابھی یہاں ہے تو منٹوں میں کئی میل دور نظر آئے گا۔ آخر کس طرح اسے پکڑیں عجیب مصیبت تھی۔
 بادشاہ کی جھنجھلاہٹ بڑھتی جارہی تھی۔ اس نے اعلان کر ا دیا۔ اگر آج شام تک سوداگر گرفتار نہ ہوا تو ترکی پر قہر نازل ہوگا۔ سوداگر کا گرفتار ہونا ناممکن تھا۔ لوگ قہر کا انتظار کرنے لگے۔
 رفتہ رفتہ سورج دور مغرب کی سمت جھک چلا۔ ڈوبتے سورج کی سنہری روشنی محل کے سونے کے میناروں کو جگمگانے لگی۔ بس سورج غروب ہی ہونے والا تھا۔ کوئی لمحہ کی بات تھی۔ ترکی والے سہمے ہوئے شاہی قہر کا انتظار کررہے تھے۔
 بادشاہ محل کے ایک جھروکے سے دور تک پھیلے ہوئے میدان کو دیکھ رہا تھا جس میں دھیرے دھیرے شام کے دھندلکے بڑھتے جا رہے تھے.... اچانک دور بہت دور ایک غبار سا اٹھتا نظر آیا جو تیزی کے ساتھ محل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بادشاہ نے بغور دیکھا کوئی شخص گھوڑے پر سوار تھا۔’’ارے....‘‘ بادشاہ نے ایک بار آنکھیں ملیں اور سوار کی طرف دیکھا، ’’کہیں میری آنکھیں دھوکہ تو نہیں کھا رہی ہیں ۔‘‘ بادشاہ بڑبڑایا... ’’یہ.... یہ تو وہی بدمعاش ہے.... ہاں .... ہاں .... وہی ہے یہ.....‘‘ اب وہ بالکل ہی نزدیک آگیا تھا۔ ’’سپاہیو....!‘‘ بادشاہ چلّایا۔ ’’مگر نہیں ....‘‘ بادشاہ نے سوچا....’’دیکھو تو یہ کس لئے آرہا ہے!‘‘ محل کے نزدیک آکر اس نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال لی۔ تھوڑی دیر بعد ایک چوبدار نے بادشاہ سے کہا ’’حضور! ایک نقاب پوش آپ کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا ہے۔‘‘ ’’حاضر کیا جائے۔‘‘ بادشاہ نے بڑی رعب دار آواز میں کہا۔
 نقاب پوش نے نقاب اتار دی اور جھک کر بادشاہ کو سلام کیا۔ ’’بدمعاش....‘‘ بادشاہ دہاڑا ’’ہمارے ساتھ دھوکا کیا تو نے.... تیری گردن اڑا دوں گا .... سپاہیو.....‘‘ ’’مگر حضور! مَیں نے کون سا دھوکا کیا ہے آپ کے ساتھ؟‘‘ سوداگر نے کہا۔ ’’کیا تو اشرفیاں لے کر نہیں بھاگا....؟‘‘ بادشاہ نے غصے سے کہا۔’’حضور....‘‘ سوداگر بولا ’’میرا بھاگنا ضروری تھا۔ جب مَیں نے گھوڑا آپ کو دکھایا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ آپ کو گھوڑا پسند نہیں ۔ مَیں نہیں چاہتا تھا کہ آپ کو ایک ایسی چیز دوں جو آپ کو پسند نہ ہو۔ اسی لئے مَیں نے یہ حرکت کی۔ کیا اب بھی آپ کو گھوڑے کی برق رفتاری کا اندازہ نہیں ہوا...؟ آپ کے تمام سپاہی، آپ کی سلطنت کے بہترین شہسوار بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکے.... بہرحال جہاں پناہ.... دنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتار میرا یہ گھوڑا آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔‘‘ بادشاہ کے غضبناک چہرے پر اچانک مسکراہٹ پھیل گئی۔’’وزیر صاحب....‘‘ اس نے کہا ’’سوداگر کو مالا مالا کر دو۔ واقعی اس کے گھوڑے کا دنیا میں جواب نہیں ....‘‘اور اس کے بعد سوداگر مہینوں بادشاہ کا مہمان رہا۔ پھر بہت سا سونا چاندی لے کر اپنے وطن کو لوٹ گیا۔ترکی کا بادشاہ بڑے فخر کے ساتھ کہتا تھا ’’میرے پاس دنیا کا سب سے تیز رفتار گھوڑا ہے۔ کوئی اس مقابلہ نہیں کرسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK