بہادر بچے

Updated: March 21, 2020, 12:01 PM IST | Md Ahmed Md Yusuf Ansari | Mumbai

حنیف ہمیں چھوڑ کر تہہ خانے سے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد آیا، تو اس کے ہاتھ میں ایک لوہے کا شکنجہ تھا۔ اس کے دو سرے دوست نے ہمارے ہاتھ پاؤں شکنجے میں زور سے کسے تو ہماری حالت غیر ہوگئی اور ہم شدید تکلیف سے بے ہوش ہوگئے۔

For Representation Purpose Only.
علامتی تصویر۔

میرے خالہ زاد بھائی بہن کاشف اور پروین امتحانات کے بعد ہمارے گھر آگئے۔ ان کی آمد سے میں اور میری بہن بوبی بہت خوش ہوئے۔ کاشف اور مَیں سارا دن گھومتے رہتے تھے، کیونکہ ہم دونوں کو جاسوسی کرنے کا بہت شوق تھا۔ ہمارے گھر سے کچھ دور ایک پرانا قلعہ تھا، جو بہت زمانے سے ویران پڑا تھا۔ یہ مشہور تھا کہ اس میں جن بھوت رہتے ہیں ۔ لوگ اس کے قریب جاتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ ایک شام ہم نے پکنک منانے کا فیصلہ کیا۔ امی نے دوپہر ہی سے کھانے پینے کی چیزیں تیار کر دی تھیں ، اس لئے سب شام کا انتظار کر رہے تھے۔ شام کو ہم نے قلعے کے قریب پکنک منائی۔ سیر و تفریح کے دوران ہم نے قلعے کے اندر جانے کا پروگرام بنایا، تو بوبی نے ڈرتے ہوئے کہا ’’نہیں بھیّا! قلعے میں جن بھوت رہتے ہیں ۔‘‘ کاشف نے ہنس کر کہا ’’کوئی بھوت وغیرہ نہیں ہوتے، سب بناوٹی باتیں ہیں ۔‘‘ آخر کاشف کے بہت اصرار پر ہم لوگ اس ویران قلعے میں داخل ہوگئے۔ یہاں ایک چھوٹی سی سیڑھی تھی، اوپر چھت پر جگہ جگہ لکڑی کے تختے لگے ہوئے تھے۔ قلعے کے اندر بے شمار کمرے تھے، جن میں سے کچھ کھلے اور کچھ میں تالے لگے ہوئے تھے۔ آخر ایک کمرے میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ الماری میں بہت سی نئی کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں ۔ ابھی ہم کتابیں دیکھ ہی رہے تھے کہ کاشف نے آواز دی ’’ذرا ادھر تو آؤ۔‘‘ جب ہم وہاں گئے تو کاشف ایک سرخ رنگ کے بٹن کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا، مَیں نے اس کی مدد کی۔ اچانک کتابوں کی الماری کی ایک طرف ہٹ گئی اور سامنے ایک تہہ خانہ نظر آنے لگا۔ ہم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ خوف اور تجسّس کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ ہم سیڑھیوں کے ذریعے تہہ خانہ میں اترنے لگے۔ سیڑھیاں بہت لمبی تھیں ، اس لئے چلتے چلتے ٹانگوں میں درد ہونے لگا۔ تہہ خانے میں گھپ اندھیرا تھا، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ پروین نے ٹارچ جلائی، تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ سامنے بڑے بڑے صندوقوں میں سونے چاندی، زیورات اور کرنسی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ بوبی نے حیرت سے کہا ’’یہ کہاں سے آگئے؟‘‘ کمال نے کچھ دیر سوچتے ہوئے کہا ’’میرے خیال سے یہاں کسی اسمگلر نے اپنا اڈہ بنایا ہے۔ ہم کو فوراً اس کا پتہ معلوم کرنا چاہئے۔ اب چلیں ....‘‘ چاروں گھر لوٹ آکر لیٹ گئے۔ شام کی چائے کے وقت سب اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئے، تو سب نے چائے پی۔ کاشف کچھ سوچ رہا تھا۔ اس کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر میرے والد نے پوچھا ’’کیا بات ہے کاشف، کیا سوچ رہے ہو۔ کاشف اس بات پر چونکا اور کہنے لگا ’’کچھ نہیں خالو جان!‘‘ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس واقعے کا کسی کو علم ہو۔ شام کی چائے کے بعد کاشف کمال سے کہنے لگا آج رات صرف ہم دونوں ہی جائیں گے۔ تم اپنی ٹارچ ساتھ لے لینا، بوبی اور پروین کو ہمارے پروگرام کا علم نہیں ہونا چاہئے۔
 ہم دونوں رات کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔ آخر خدا خدا کرکے رات ہوگئی۔ دونوں چپکے سے باہر آئے اور جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے قلعے کے نزدیک پہنچ گئے۔ قلعے کے اطراف میں دور دور تک اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ ہم نہایت ہوشیاری سے قلعے کے اندر داخل ہوئے۔ کتابوں والے کمرے میں داخل ہو کر سرخ بٹن دبایا تو کتابوں کی الماری ایک جھٹکے سے الگ ہٹ گئی۔ ہم تہہ خانے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک آواز نے چونکا دیا۔ کوئی کہہ رہا تھا ’’میرے دوست! مجھے یقین تھا کہ تم ضرور آؤ گے۔‘‘ ہم نے دیکھا، تہہ خانے کی اوپر والی سیڑھی پر ۲؍ آدمی کھڑے ہمیں گھور رہے ہیں ۔ دونوں تیزی سے اندر آئے اور ہمیں پکڑ لیا۔ ایک نے کہا ’’تم کو یہاں آنے کی جرأت کیوں کر ہوئی؟‘‘ ہم چپ کھڑے تھے۔ ہم نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک نے مسکرا کر اپنے ساتھی سے کہا ’’حنیف! ان بچوں کو جاسوسی کرنے کا شوق ہے، ان پر ترکیب تو آزماؤ۔‘‘ حنیف ہمیں چھوڑ کر تہہ خانے سے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد آیا، تو اس کے ہاتھ میں ایک لوہے کا شکنجہ تھا۔ اس کے دو سرے دوست نے ہمارے ہاتھ پاؤں شکنجے میں زور سے کسے تو ہماری حالت غیر ہوگئی اور ہم شدید تکلیف سے بیہوش ہوگئے۔
 کچھ دیر بعد ہمیں ہوش آیا تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ہم اپنے کمروں میں بستر پر پڑے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد پروین اور بوبی کمرے میں داخل ہوئیں تو انہوں نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’جاسوس صاحبان کو ہوش آگیا۔‘‘ کاشف نے حیران ہو کر کہا ’’ہم یہاں کیسے آگئے، ہم تو ڈاکوؤں کے قبضے میں تھے۔‘‘ پروین نے کہا ’’جب آپ لوگ قلعے میں جانے کی باتیں کر رہے تھے تو مَیں اور بوبی چائے کے خالی برتن اٹھا رہے تھے۔ بوبی نے آپ کی باتیں سن لیں اور ہم نے آپ کے تعاقب کا فیصلہ کیا اور جب آپ کا تعاقب کرنے لگے۔ آخر کار آپ دونوں تہہ خانے میں داخل ہوئے تو بوبی نے مجھ سے کہا کہ ہم تھوڑی دیر بعد جائیں گے۔ یہ ہماری آواز نہ سن لیں اور ہم لوگ کمرے کے دروازے کے پیچھے آپ کے جانے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے کسی آدمی کو ہاتھ میں شکنجے لئے جاتے دیکھا، تو ہم لوگ سمجھ گئے کہ آپ لوگ پکڑ لئے گئے ہیں ۔ مَیں بوبی کو تہہ خانے میں ہی کھڑا کرکے خود بھاگ کر خالو جان کو لے آئی۔ انہوں نے جلدی سے پولیس اسٹیشن فون کیا۔ پولیس نے قلعے کے گرد گھیرا ڈال کر اسمگلروں کو پکڑ لیا۔ اس طرح آپ لوگوں کی جان بچ گئی۔‘‘ بوبی بولی ’’کیا آپ لوگوں نے ہم لوگوں کو ایسا ہی بزدل سمجھا تھا؟‘‘ صبح ناشتے کی میز پر سب جمع تھے۔ ابّا جان اخبار پڑھ کر سنا رہے تھے۔ بڑی بڑی سرخیوں میں خبر شائع ہوئی تھی۔ ۴؍ بچوں نے ایک بڑے گروپ کو گرفتار کروا دیا۔ اسمگلروں کے قبضے میں لاکھوں روپے کی مالیت کا سونا، چاندی اور کرنسی برآمد۔ حکومت نے بچوں کو ان کے جرأت مندانہ قابل قدر کارنامے پر ۱۰، ۱۰؍ ہزار روپے کا انعام اور سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا۔ ابّا جان اخبار پڑھ رہے تھے اور مَیں سوچ رہا تھا کہ اس میں میری اور کاشف کی تو کوئی بہادری نہیں ہے، کارنامہ تو پروین اور بوبی نے انجام دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK