چچا چھکن نے کرکٹ کھیلا

Updated: November 28, 2020, 3:06 AM IST | Afnan Tanveer Ahmed Bijapurey | Mumbai

اتوار کا دن تھا۔ چچا گھر میں بیٹھے بور ہو رہے تھے۔ چچی دوپہر کا کھانا بنا رہی تھیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اتوار کا دن تھا۔ چچا گھر میں بیٹھے بور ہو رہے تھے۔ چچی دوپہر کا کھانا بنا رہی تھیں ۔ اتنے میں اخبار والا انقلاب لے آیا۔ چچا نے اخبار لیا اور پھر سے صوفے پر آکر بیٹھے اور اخبار پڑھنا شروع کیا۔ پانچ منٹ کے بعد چچا کی پیشانی سے کوئی سخت چیز آٹکرائی اور چچا نے کراہنا شروع کر دیا۔ ۲؍ منٹ بعد چچا نے دیکھا جہاں وہ سخت چیز لگی تھی وہاں سوجن آگئی ہے۔  چچا نے صوفے کے اطراف میں دیکھا تو وہاں موٹی اور سخت گیند تھی۔ چچا نے گیند اٹھائی اور آنگن میں آئے تو دیکھا کہ امامی، مودے، ودّو، للّو، ننھے اپنی گیند ڈھونڈ رہے تھے اور بنّو کونے میں بیٹھی دیکھ رہی تھی۔  چچانے کہا ’’بیوقوفو!‘‘ اور ان کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا ایسا کرتے کرتے ان کے آنگن کے پورے دس چکر ہو گئے۔ چچا تھک ہا رکر جہاں بنّو بیٹھی تھی وہاں بیٹھ گئے۔  
بچوں نے پھر سے کھیلنا شروع کر دیا۔ چچا دیکھ رہے تھے کہ بچّے کیسا اور کتنا اچھا کھیل رہے ہیں ۔ چچا کے اندر بھی کرکٹ کھیلنے کا شوق پیدا ہو گیا اور کھیلنے کی اُمنگ جاگی اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ آج کرکٹ کھیل کر رہیں گے۔  چچا نے امامی کے ہاتھ سے بلّہ لیا اور کہا مجھے آئوٹ کرکے بتائو اتنا کہہ کر پان منہ میں رکھا اور کھیلنا شروع کیا۔ کافی دیر تک بلّے اور گیند کا رابطہ ہی نہیں ہو پایا اور اس دوران چچا کے جسم پر اتنی گیندیں لگیں کہ چچا کی ہڈّی پسلی ایک ہو گئی۔ پھر ایک گیند پر چچا نے ہوا میں بلّہ جو لہرایا تو آنگن کا بلب جو کل ہی لگوایا تھا وہ نیچے آرہا اور اس کے بعدکھڑکیوں کے کانچ ٹوٹنے لگے۔ ایک مرتبہ ننھے نے اتنی زوردار گیند پھینکی وہ چچا کے منہ پر لگنے والی تھی۔ چچا ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور پیچھے للّو کھڑا تھا گیند اس کے پیٹ پر لگ گئی وہ دہاڑیں مار کر رونے لگا۔ چچا نے کہا ’’جائو اور بنّو کے پاس بیٹھو۔ ‘‘ ایک گیند چچا نے اتنی زور سے ماری کہ وہ آنگن کی دیوار کو پھلا نگتے ہوئے باہر چلی گئی اور باہر سے چھن کی آواز آئی۔ تبھی باہر سے کسی کے چلّانے کی آواز آئی ’’نالائقوں ! کس نے یہ گیند ماری.... ‘‘ چچا نے دروازے سے جھانک کر دیکھا کہ ایک موٹا تگڑا آدمی کھڑا ہے اور گیند سے اس کی کار کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے اوراب وہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔  چچا نے بلّہ ودّو کو دے دیا اور خو ددیوار کے پیچھے چھپ گئے۔ آدمی نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ بچّے کھیل رہے تھے۔ اس نے گیند بچوں کو دے دی اور چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی چچا دیوار کے پیچھے سے آئے، بلّہ لیا اور پھر سے کھیلنا شروع کر دیا۔  
کھیلتے کھیلتے اچانک چچا نے گیند اتنی زور اور پھرتی سے ماری کہ وہ کچن کی کھڑکی سے اندر چلی گئی اور کھانے کی کڑھائی نیچے چچی کے پیروں پر گر گئی۔ چچی نے غصے میں کڑھائی رکھ دی اور باتھ روم میں پیر دھوئے اور آنگن میں آئیں ۔  چچا سے کہا، ’’آپ کو کرکٹ کھیلنا نہیں آتا لائیے میں سکھا دیتی ہوں ۔‘‘ اتنا کہہ کر چچی نے چچا کے ہاتھ سے بلّہ لیا اور مارنے پیچھے لگ گئیں ۔ چچا بھاگنے لگے اور سب بچے کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔
سوشل اردو ہائی اسکول، شولاپور

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK