امتحان کی کامیابی

Updated: May 30, 2020, 11:16 AM IST | Muhammad Murshid | Mumbai

میاں عتیق انتہائی شرارتی بچہ ہے۔ انہیں صرف کھیل کود سے مطلب ہے۔ پڑھائی سے دل چراتے ہیں مگر ایک خواب سب کچھ بدل دیتا ہے۔ وہ ایسا کون سا خواب دیکھتے ہیں اور خواب میں کس سے ملاقات ہوتی ہے، یہ جاننے کیلئے پڑھئے میاں عتیق کی مکمل کہانی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

میاں عتیق منہ اندھیرے بستر سے اٹھے اور دبے پاؤں کمرے سے باہر نکل آئے۔ امّی کو صبح کی نماز کے لئے وضو کرتے دیکھ کر ان کی تو جیسے جان ہی نکل گئی ان کے وہم میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ آج گھر کے کسی فرد کی آنکھ ان سے پہلے بھی کھل سکتی ہے۔ مگر انہوں نے جلد ہی اپنے آپ پر قابو پا لیا اور امّی کی نظر بچا کر چپکے سے صدر دروازے تک پہنچے۔ بڑی احتیاط کے ساتھ چٹخنی ہٹائی اور کواڑ کھول کر آہستہ سے باہر نکل گئے۔ جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچے تو انہیں کوئی ساتھی نظر نہیں آیا۔ بھلا اتنے سویرے کون صبح کی میٹھی نیند کا ناس کرکے ان کے ساتھ کھیلنے کے لئے آتا۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیا کہ مَیں جب تک کھیل کے میدان پہنچوں گا کوئی نہ کوئی آہی جائے گا۔
 برسات کا موسم، صبح کی تازگی اور ہلکی پھلکی ہوا نے ان کے اندر ایک عجیب مسرت آمیز تازگی بھر دی۔ تھوڑی دیر تک تو وہ کھیل کے میدان میں ادھر اُدھر تنہا دوڑتے اور بھٹکتے رہے۔ پھر ٹینٹ کے قریب کھڑے ہو کر اس طرح سیٹیاں بجانے لگے جیسے وہ اپنے ساتھیوں کو بلا رہے ہوں ۔ دفعتاً صبح کے اُجالوں پر سرمئی اندھیرے تیر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ آسمان پر کالے کالے بادلوں کے غول اس طرح جمع ہو رہے ہیں جیسے سیٹیوں کی آواز سن کر ان کے ساتھی جمع ہوا کرتے ہیں ۔ اندھیرا اور بھی گہرا ہوگیا۔ بوندا باندی شروع ہوگئی۔ کپڑے اگر بھیک گئے تو.... یہ سوچ کر ان کی سٹی گم ہوگئی اور وہ لپک کر ٹینٹ میں گھس گئے۔ بارش بے انتہا تیز ہوگئی۔ اور ساتھ ہی ہواؤں کے تیز جھکڑ چلنے لگے۔ گھر سے دور تنہا میدان میں بارش اور طوفان کا یہ بھیانک منظر دیکھ کر انہیں بڑا غصہ آیا اور دل ہی دل میں بارشوں اور ہواؤں کو اس طرح برا بھلا کہنے لگے جیسے ماسٹر صاحب کی نصیحت پر کہنے کے عادی تھے اور ماسٹر صاحب کا خیال آتے ہی انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ میدان میں آنے کے بجائے اگر وہ کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے تو گھر والے بھی خوش ہوتے اور سالانہ امتحان کی تیاری میں بھی کچھ مدد ملتی۔
 امتحان شروع ہونے کو صرف دس روز باقی تھے۔ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور یہ خیال آتے ہی ششماہی امتحان کا نتیجہ ان کے ذہن میں کلبلایا۔ اس وقت جو خفت اٹھانی پڑی تھی اسے یاد کرکے وہ کانپ اٹھے۔ امّی کی ڈانٹ اور نصیحت کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے گالوں پر ابّا جان کا زنّاٹے دار تھپڑ محسوس کیا اور بے اختیار اپنے ہاتھوں سے اپنا گال سہلانے لگے۔ آنکھوں سے گرم گرم دھار گالوں پر رینگنے لگی۔ آج انہیں اس کمی کا شدت سے احساس ہوا کہ کاش ان کی بھی کوئی بہن ہوتی جو ایسے موقع پر ان کی ہمدردی کرتی.... انہیں ٹافی دے کر پیار سے مناتی۔
 بارش جیسے چانک آئی تھی ویسے تھم گئی۔ وہ عجلت کے ساتھ ٹینٹ سے باہر نکلے۔ مگر انہیں محسوس ہوا کہ کوئی پیچھے سے ان کا دامن پکڑ کر کھینچ رہا ہے۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو ناگاہ بجلی چمکی جس کی روشنی سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں .... انہوں نے دیکھا کہ ایک روشن کتابی چہرے والی خوبصورت سی لڑکی ان کا دامن پکڑے کھڑی ہے۔
 تم کون ہو؟ میاں عتیق نے گھبرا کر پوچھا۔ ’’مَیں ۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ ’’مَیں کون؟‘‘ پھر میاں عتیق نے پوچھا۔
 ’’میرا نام ’امتحان کی کامیابی‘ ہے۔‘‘ لڑکی نے جواب دیا۔ ’’اچھا تو ایک کام میرا کر دو۔ مجھے امتحان میں پاس کرا دو اور مَیں اگر پاس کر گیا تو تمہیں مٹھائی دوں گا۔‘‘ میاں عتیق نے لجاجت سے کہا۔
 لڑکی نے مسکرا کر کہا ’’بڑے آئے کھلنڈر کہیں کے مٹھائی دینے والے.... یہ رشوت کسی اور کو دینا.... سمجھے! امتحان میں کامیاب ہونا ہے تو دل لگا کر پڑھو تب میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلاؤں گی اور تمہاری بہن بن جاؤں گی۔‘‘ بجلی ایک دفعہ پھر بڑے زور سے کڑکی اور وہ لڑکی غائب ہوگئی۔ میاں عتیق نے آنکھیں پھاڑپھاڑ کر ادھر اُدھر دیکھا اور پھر بیقراری کے عالم میں زور زور سے چلّانے لگے ’’مَیں دل لگا کر پڑھوں گا۔ مَیں دل لگا کر پڑھوں گا....! سنتی ہو! او.... ’امتحان کی کامیابی!‘ مَیں دل لگا کر پڑھوں گا۔ تم مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ.... واپس آجاؤ.... مَیں تمہیں اپنی بہن بناؤں گا....‘‘ نہ جانے وہ ابھی اور کتنی دیر تک بڑبڑاتے کہ ان کی امّی دوڑی ہوئی آئیں اور انہوں نے میاں عتیق کو جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کی امّی نے پوچھا ’’نیند میں کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ ’’نہیں ... امّی مَیں نے ’امتحان کی کامیابی‘ کو خواب میں دیکھا۔ وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ مَیں امتحان میں کامیاب ہو کر اسے ضرور لاؤں گا۔ امّی میں آج سے خوب دل لگا کر پڑھوں گا۔ وہ آئے گی تو مجھے اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلائیں گی.... اور مَیں اسے اپنی....‘‘ ’’بہن بناؤ گے....‘‘ امّی نے یہ کہہ کر ان کی پیشانی چوم لی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK