امّی جان سچ کہتی ہیں

Updated: September 26, 2020, 3:00 AM IST | Zohan Khan | Mumbai

زیدان، کتنی دیر سے تم موبائل میں کھیل رہے ہو، چلو رکھو جلدی، ورنہ تمہاری خیر نہیں ۔’’ امّی ابھی کچھ دیر پہلے تو لیا ہے، دوپہر میں مدیحہ کی آن لائن کلاس کے بعد چارجنگ پر لگا ہوا تھا۔‘‘ مَیں دیکھ رہی ہوں کے مغرب کے بعد سےموبائل تمہارے ہاتھ میں ہے، نہ نماز پڑھنے کی کو ئی فکر ہے اور نہ کھانے کی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 زیدان، کتنی دیر سے تم موبائل میں کھیل رہے ہو، چلو رکھو جلدی، ورنہ تمہاری خیر نہیں ۔’’ امّی ابھی کچھ دیر پہلے تو لیا ہے، دوپہر میں مدیحہ کی آن لائن کلاس کے بعد چارجنگ پر لگا ہوا تھا۔‘‘ مَیں دیکھ رہی ہوں کے مغرب کے بعد سےموبائل تمہارے ہاتھ میں ہے، نہ نماز پڑھنے کی کو ئی فکر ہے اور نہ کھانے کی۔ آخر ایسی بھی کیا دیوانگی۔ چلو بس رکھو اب۔  ’’امّی گیم کا یہ اسٹیج پورا ہوجائے تومَیں رکھ دوں گا‘‘ یہ کہہ کر زیدان میا ں دوبارہ اپنی دنیا میں گم ہوگئے۔ جب سےکوروناوائرس کے سبب پابندیوں کا دور شروع ہوا تب ہی سے تمام تعلیمی ادارے بند ہی ہیں ۔ زیدان میاں بھی امتحان نہ دے سکے اور پرائمری سطح کے دیگر طلبہ کی طرح انہیں بھی اگلی جماعت میں پرموٹ کردیا گیا۔ بغیر امتحا ن دیئے اگلی جماعت میں چلے میں جانے کا ایک الگ ہی احساس تھا۔ گرمیوں کی بڑی چھٹیوں سے پہلے ہی اسکول بند ہوچکے تھے۔ کوروناکی وجہ سے کہیں باہر جانے کا تصور ہی محال تھا۔ محلے میں کھیل بھی نہیں سکتے تھے، بلاوجہ اپنے گھروں سے باہر نکل کرگھومنے والوں کی پولیس کے ذریعے خاطر داری کے کئی مناظر ٹی وی پر دیکھ ایسی کسی جسارت کی ہمت بھی نہیں ہوتی تھی۔ جب زیدان میاں کسی دوست کے گھر جانے کی ضد کرتے تو وبا کے دور کے سبب امّی بھی کسی کےگھرجانے کی اجازت دینے سےانکار کردیتیں ۔
  شروع شروع میں تو زیدان میاں کو اسکول نہ جانا اور یوں گھر میں رہنا بڑا اچھا لگنے لگا تھا لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ وہ بور ہونے لگے۔ اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ ان کی روز لڑائیاں ہونے لگی۔ امّی پہلے تو دونوں کو ساتھ مل کر کھیلنے کیلئے سمجھاتیں ۔ اس کے باوجود اگر میدان جنگ کے حالات بن جاتے تو پھر دونوں بھائی بہن کی شامت بھی آجاتی اور امّی کی مار کے ساتھ ابو کی ڈانٹ بھی پڑ جاتی۔
  اپریل اور مئی کے ماہ کیسے گزر گئے پتہ ہی نہ چلا۔ کبھی رات میں ابو کا کام ختم ہونے کے بعد ان کے موبائل پر کوئی گیم کھیلنے کا بھی الگ مزہ تھا لیکن روزانہ ایسا ممکن نہیں تھا۔ ان ایام میں ٹی وی پر اکثر کورونا وائرس کے تعلق سےفکر مند کرنے والی خبریں دیکھ کر کبھی کچھ پریشانی محسوس ہونے لگتی اور کچھ خوف بھی لگنے لگا تھا۔ ایسے حالات میں امّی ابو دعائیں پڑھ کر دم کرتے اور اللہ پر پورا یقین کرنے والوں کی حوصلہ افزا داستانیں بھی سنا دیتے۔
  دیکھتے ہی دیکھتے جون بھی شروع ہو گیا اور اب اسکول کھلنےکے دن قریب آنے لگے تھے۔ زیدان میاں کی بھی بے تابی کا یہ عالم تھا کہ وہ اسکول جانے کیلئے کچھ زیادہ ہی پُر جوش نظر آنے لگے، لیکن وبا کے قابو میں نہ آنے کی وجہ سے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور فرمان جاری ہوگیا کہ حالات ٹھیک نہ ہونے تک گھر سے ہی آن لائن تعلیم حاصل کرنی ہوگی۔ اب مسئلہ یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ گھر میں اسمارٹ فون تو ایک ہی ہے وہ بھی صرف ابو کے پاس۔ جسے وہ اکثر اپنے ورک فرام ہوم کے دوران استعمال کرتے ہیں جبکہ امّی کے پاس بٹن والا فون تھا۔ لیپ ٹاپ بھی ابو کے کام کاضروری حصہ تھا۔ خیر،کسی طرح ابو نےدونوں بچوں کی تعلیمی ضروریات کے مدنظرایک نیا اسمارٹ فون آن لائن آرڈر کردیا۔ جلد ہی نیا موبائل گھر بھی پہنچ گیا۔ ابو کے فون کو استعمال کرتے ہوئے زیدان میاں اسمارٹ فون چلانے سے واقف تھے۔ اس لئے ابو نے بھی غیر ضروری چیزوں سے بچنے، پڑھائی کیلئے احتیاط سے اس کا استعمال کر نے کی تاکید کرتے ہوئے اس موبائل کی نگرانی اپنے بیٹے کے حوالے کردی۔ زیدان میاں بھی اس ذمہ داری پر فخر محسوس کرنے لگے اور چھوٹی بہن کو اپنی اہمیت جتانے لگے۔
  اب آن لائن کلاس بھی شروع ہوگئی۔ یہ بھی اچھا ہی ہوا کہ ہےروزانہ دنوں بھائی بہن کی کلاس کے اوقات الگ الگ تھے۔ اس کے بعد بھی موبائل زیدان میاں کے ہاتھوں سے شاید ہی کبھی الگ ہوتاتھا۔ ایسا لگنے لگا کہ کے کورونا کے دور میں ایک موبائل ہی ان کا وہ دوست ہے جس کے ساتھ وہ ایک نئی دنیا کی سیر وتفریح کیلئے نکل پڑتے ہیں ۔ دن دن بھر کا یہی معمول بن گیا تھا۔چارجنگ ختم ہوتے ہی موبائل چارج پر لگا دیا جاتا۔ اس دوران بھی زیدان میاں بار بار چیک کرتے تک ابھی اکتنا چارج ہونا باقی ہے۔ جیسے ہی ۸۰؍ فیصدسے زیادہ چارج ہوا،موبائل فوراً دوبارہ ان کے ہاتھوں میں ـ آجاتا۔ امّی اور ابو بھی زیدان میاں کی ان حرکتوں پر نظر رکھ رہے تھے اور جب معاملہ حد سے زیادہ بڑھنے لگا تو وہ بھی موبائل کے غیر ضروری استعمال پر سرزنش کرنے لگے۔
  اس کے باوجود جب بھی امّی اور ابو اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے زیدان میاں موبائل کی جانب لپک پڑتے۔ پھر کبھی امّی ابو پیارسے سمجھاتے یا پھر روایتی انداز میں ۔ اسی طرح کا معمول جاری رہا ہے، جولائی آیا اورگزر گیا۔ اگست نے بھی دستک دی۔اس بار گھر میں ہی یوم آزادی کی تقریبات صرف ٹی وی پر دیکھنے کو ملیں ، محلے میں بھی کچھ خاص ہلچل نہیں رہی۔
  ایک صبح اچانک زیدان میاں امّی سے کہنے لگے کہ ان کے سر میں درد ہورہا ہے۔اس پر امّی نے بھی طنزیہ انداز میں کہا’’ اور دیکھتے رہو موبائل۔‘‘ اس کے باجود انہوں نے سر میں تیل لگا کر اچھی طرح مالش کردی۔ آن لائن کلاس شروع ہوئی تو نہ جانے کی کیوں زیدان میاں کوموبائل کی اسکرین کچھ مدھم نظر آ ئی اور ہوم ورک کرنے بیٹھے تو کتابوں کے الفاظ رقص کرنے لگے۔ اب آنکھوں میں بھی ایک درد سا اٹھنے لگا۔ تکلیف سے زیدان میاں آنکھ پر ہاتھ رکھ کر امّی، امّی پکارنے لگے۔ امّی بھی دوڑی چلی آئیں ۔ کچھ معاملہ ان کی سمجھ میں بھی آگیا۔ انہوں نے زیدان میاں کی آنکھوں میں گلاب کا ٹھنڈاپانی ڈالا اور آرام کرنے کو کہا۔ 
 دوسرے دن امّی ابو انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ جانچ کے بعد معلوم ہواکہ بہت زیادہ اسکرین پر وقت گزارنے کی وجہ سے آنکھوں پر بار پڑ ا ہے اور اب اسے ٹھیک کرنے کیلئے چشمہ پہننا پڑے گا۔ زیدان میاں روہانسے ہوکر کہنے لگے کہ وہ آئندہ امّی ابو کی ہر بات مانیں گے۔ اب گھر میں بھی وہ اپنی بہن اور دوستوں کو بھی نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی امّی کی ہر بات مانا کریں کیونکہ امّی جان ہمیشہ سچ کہتی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK