چاندی کا جوتا

Updated: February 15, 2020, 12:23 PM IST | Sufiya Sultana Siddiqui | Mumbai

سوداگر واپس آیا تو موچی نے جوتا تیار کر رکھا تھا اور اسے بہت خوبصورتی سے چاندی کے بکس میں بند کرکے رکھ چھوڑا تھا۔ جوتا اتنا خوبصورت تھا کہ سوداگر خود بھی دیکھ کر حیران رہ گیا۔

چاندی کا جوتا
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

مولا داد اپنے شہر کا سب سے زیادہ ہنرمند موچی تھا۔ وہ بہت اچھے اور مضبوط جوتے بنایا کرتا تھا۔ بہت جلد اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ وہ بڑی ایمانداری اور لگن سے کام کرتا تھا۔ اس کے بنائے ہوئے جوتوں کی قیمت زیادہ تو ہوتی تھی، لیکن وہ برسوں تک چلتے تھے۔ رحیم خان اسی شہر کا ایک سوداگر تھا وہ بہت دولت مند تھا۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی جسے اس نے شہزادیوں کی طرح پالا تھا۔ سارے لوگ اسے ’شہزادی‘ ہی کہتے تھے۔ اس کا نام اصل میں زرنگار تھا۔
 سوداگر جب کبھی سفر سے واپس آتا تو اپنی بیٹی کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی تحفہ لاتا۔ اس مرتبہ اسے قریب کے ایک گاؤں میں جانا تھا اس نے سوچا کہ گاؤں میں کون سی ایسی چیز ہوسکتی ہے جو اپنی بیٹی کے لئے لاؤں اور جو اسے پسند بھی آجائے۔ وہ سوچتا رہا آخر اسے خیال آیا کہ زرنگار کو نئے نئے جوتے پہننے کا شوق ہے۔ جوتوں کا خیال آتے ہی اسے مولا داد کا نام بھی یاد آیا۔ اس نے سوچا کہ مولا داد ہی سب سے اچھا جوتا بنا سکے گا مگر جوتا بھی بھلا کوئی تحفہ ہوا.... اسے پھر خیال آیا کہ کوئی انوکھا اور قیمتی جوتا بنوایا جائے تو یہ اچھا تحفہ ہوسکتا ہے۔ یہ سوچ کر وہ مولا داد کے پاس پہنچا اور اسے کہا کہ ’’مجھے اپنی بیٹی کے لئے ایک ایسا جوتا بنوانا ہے جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھا ہو....‘‘ یہ سن کر موچی سوچ میں پڑ گیا پھر بولا ’’صاحب میں ہر قسم کے جوتے بنا چکا ہوں۔ اب شاید ہی ایسا جوتا بنا سکوں جو کسی نے کبھی دیکھا نہ ہو۔ پھر بھی آپ جیسا کہیں گے ویسا بنا دوں گا۔‘‘ سوداگر سوچتا رہا۔ کچھ دیر بعد بولا ’’ابھی چند دن پہلے مَیں نے اپنی بیٹی کے لئے سرخ مخمل کا لباس بنوایا ہے جس پر چاندی کے تاروں کا کام ہے اگر مخمل کے جوتے پر چاندی کے تاروں کا کام بنا دو تو کیسا رہے؟‘‘ ’’خوب! بہت خوب صاحب! اچھا رہے گا مگر یہ ایسا نہیں ہوگا کہ کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو کیونکہ ایسے چار جوتے میں پہلے ہی بنا چکا ہوں۔ اگر آپ پورے جوتے چاندی کے بنوالیں تو ہر شخص دیکھتے کا دیکھتا رہ جائے گا۔‘‘ ’’اچھا! تمہارا خیال تو بہت اچھا ہے مگر یہ تو بہت سخت جوتا ہوگا اس سے ہماری بیٹی کے نرم نرم پیر چھل جائیں گے!‘‘ موچی بولا ’’نہیں جناب اندر نرم مخمل ہوگی اور اس کے کناروں پر بھی مخمل اور اس پر سنہری کا کام بنا دوں گا۔‘‘ سوداگر بولا ’’سنہری نہیں سفید ہی بنانا!‘‘ ’’اچھا جی بہت اچھا!‘‘ موچی بولا۔
 سوداگر نے پوچھا ’’یہ کام کتنے دن میں کر لو گے؟‘‘ ’’یہی کوئی پندرہ دن لگ جائیں گے۔‘‘ موچی نے جواب دیا۔ ’’پندرہ دن نہیں دس دن میں کر دو کیونکہ مَیں سفر سے واپس آؤں گا تو اپنی بیٹی کو تحفہ دوں گا۔‘‘ ’’ٹھیک ہے جناب! مگر محنت بہت ہے اس لئے قیمت بھی کچھ زیادہ ہی ہوگی....‘‘ سوداگر نے کہا ’’اس کی کوئی فکر نہ کرو جتنے کا بھی ہو بس جوتا بہترین ہو۔‘‘ سوداگر گاؤں چلا گیا۔ موچی نے چاندی خریدی اس کو جوتوں کی شکل میں ڈھال کر اس پر خوبصورت نقش و نگار بنائے، اس پر سرخ مخمل کا نفیس کام بنایا۔
 دسویں دن جب سوداگر واپس آیا تو موچی نے جوتا تیار کر رکھا تھا اور اسے بہت خوبصورتی سے چاندی کے بکس میں بند کرکے رکھ چھوڑا تھا۔ جوتا اتنا خوبصورت تھا کہ سوداگر خود بھی دیکھ کر حیران رہ گیا اور موچی کی ذہانت اور سلیقے کی داد دینے لگا، اس نے موچی کو منہ مانگی قیمت دی اور تحفہ لے کر گھر پہنچا۔ زرنگار باپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ سوداگر نے بیٹی کو تحفہ دیا۔ اس نے کھول کر دیکھا تو حیران رہ گئی اور بولی ’’ابّا جان اتنا حسین جوتا تو ہم نے کہیں بھی نہیں دیکھا۔‘‘ سوداگر مسکرا کر بولا ’’جاؤ جلدی سے پہن کر ہمیں دکھاؤ کہ کیسا لگتا ہے؟‘‘ زرنگار نے مخمل کا لباس پہنا اور اس کے ساتھ چاندی کا جوتا، وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ سوداگر کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ بولا ’’آج تو ہماری زرنگار واقعی کسی ملک کی شہزادی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ زرنگار نے اگلے دن بھی وہی خوبصورت لباس پہنا۔ وہ اپنے محل نما گھر میں دیر تک ٹہلتی رہی۔ اسے بھوک لگ رہی تھی۔ وقت تو کافی ہوچکا تھا نجانے ابھی تک دسترخوان کیوں نہیں لگا تھا۔ وہ باورچی خانے میں گئی اور اپنی خادمہ سے بولی کیا بات ہے آج اب تک دسترخوان کیوں نہیں لگا؟
 خادمہ بولی ’’بس جی، لگا ہی رہی ہوں، اس بھوکے بابا کا حال سن رہی تھی تو وقت کا خیال نہ رہا، کھانا تو تیار ہے۔ اس نے دوسری خادمہ کو دستر خوان لگانے کو کہا تو زرنگار نے پوچھا ’’بوڑھا فقیر کہاں ہے؟ بھوکا ہے؟ تم نے کچھ دے دیا ہوتا۔‘‘ ’’شہزادی بی بی! مَیں تو آپ کو بلانے ہی والی تھی، کھانا تو اسے کھلا دیا ہے۔ اس کا مسئلہ اور ہے، وہ آپ سے مدد چاہتا ہے۔‘‘ زرنگار بولی ’’اچھا تو پھر ہم خود ہی اس سے پوچھ لیتے ہیں۔‘‘ وہ باہر نکلی اور فقیر سے پوچھا ’’کیا چاہئے بابا؟‘‘وہ بولا ’’مَیں فقیر نہیں ہوں بی بی مگر محتاج ہوگیا ہوں اور ساتھ ہی مجھ پر یہ مصیبت بھی نازل ہوگئی کہ میری بیٹی سخت بیمار ہوگئی ہے۔ اس کے پیروں میں ایک خطرناک مرض ہوگیا ہے۔ حکیم صاحب کا کہنا ہے کہ اس کا علاج ایک دھات ہی سے ممکن ہے۔ اگر وہ مل نہ سکی تو اس کے پورے جسم میں زہر پھیلتا جائے گا اور پھر.... پھر....‘‘ فقیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔زرنگار کو بہت دکھ ہوا اور اس نے پوچھا ’’بتاؤ تو سہی کون سی دھات میں تمہاری بیٹی کا علاج ہے؟ شاید ہم تمہاری کچھ مدد کر سکیں۔‘‘ ’’چاندی! حکیم صاحب کہتے ہیں چاندی سے اس کو پورا پیر ڈھک جائے تو اس کا مرض دور ہوگا۔ گویا چاندی کا جوتا پہناؤں اسے، بھلا بتایئے! چاندی کا جوتا بھی کہیں ہوتا ہوگا؟ اگر ہو بھی تو مَیں غریب کہاں سے لاؤں! کیا کروں؟‘‘ یہ سن کر زرنگار دل ہی دل میں سوچنے لگی، پھر اس نے پاؤں سے جوتا اتارا۔ تھوڑی دیر اسے الٹ پلٹ کر دیکھا پھر اپنا حسین سا چاندی کا جوتا فقیر کے ہاتھ میں تھما دیا اور بولی ’’لو بابا! جاؤ اپنی بیٹی کا علاج کر لو!‘‘ فقیر کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اس کا خیال تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ پیسے مل جائیں مگر اسے تو اپنی ضرورت کی اصل چیز مل گئی تھی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔ زرنگار کو ذہنی سکون اور نیکی سے اطمینان حاصل ہو رہا تھا۔
 جب سوداگر کو پتہ چلا تو اسے بیٹی کی سخاوت پر بڑی حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ اس نے ویسا ہی جوتا دوبارہ بنوا کر بیٹی کو دے دیا۔ اس طرح زرنگار کو اپنا تحفہ واپس مل گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK