لڑکے بن گئے بندر

Updated: May 09, 2020, 4:10 AM IST | Saadat Siddiqui | Mumbai

رمیش موہن کی چال سمجھ گیا لیکن اس نے اپنے دل کی بات موہن پر ظاہر نہ ہونے دی اور اس سے بولا دوست کیا کیا جائے... ہم لوگوں کی قسمت ہی ایسی ہے۔ افسوس کرنے سے فائدہ کیا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بہت زمانے کی بات ہے کسی گاؤں میں دو دوست رہا کرتے تھے۔ ایک کا نام رمیش تھا اور دوسرے کا نام موہن۔ رمیش بہت نیک اور ایماندار آدمی تھا اور موہن بے ایمان اور دھوکے باز۔ رمیش موہن کو نیک آدمی بنانے کے لئے کوشش کرتا رہتا۔ مومن اس کی بات کی ہاں میں ہاں تو ملا دیتا لیکن عمل نہیں کرتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ ان دونوں کو کہیں سے ایک خزانہ مل گیا۔ جب وہ خزانہ لے کر چلنے کو تیار ہوئے تو موہن کے دل میں لالچ آگیا۔ وہ رمیش سے بولا ’’سنو دوست! آج کا دن شبھ نہیں ہے، اس خزانے کو آج یہیں دفن کردو۔ کل ہم دونوں اسے اپنے اپنے گھر کے گھر لے جائیں گے۔‘‘ رمیش نے موہن کی بات مان لی۔ ان لوگوں نے وہ خزانہ ایک محفوظ مقام پر دفن کر دیا اور اپنے گھر واپس آگئے۔
 آدھی رات کو موہن اس جگہ پہنچا جہاں خزانہ دفن تھا اور سارا خزانہ اپنے ساتھ لے آیا۔ اس نے خزانے کی جگہ کو ئلے رکھ کر زمین برابر کر دی۔اگلے دن صبح دونوں دوست خزانہ لینے کے لئے چلے.... وہاں زمین کھود کر دیکھا تو خزانے کا کہیں پتہ نہ تھا..... موہن سر پیٹتے ہوئے بولا ’’ہائے ری قسمت! سارا خزانہ کوئلہ بن گیا....‘‘ رمیش موہن کی چال سمجھ گیا..... لیکن اس نے اپنے دل کی بات موہن پر ظاہر نہ ہونے دی اور اس سے بولا ’’دوست کیا کیا جائے.... ہم لوگوں کی قسمت ہی ایسی ہے۔ افسوس کرنے سے فائدہ کیا.... چلو واپس چلیں ....‘‘ کچھ دن کے بعد رمیش نے موہن کی شکل کی ایک مورتی بنوائی اور دو بندر بھی پال لئے۔ وہ روزانہ اس مورتی کے اوپر بندروں کے کھانے کیلئے چیزیں رکھ دیا کرتا تھا اور بندر مورتی پر چڑھ کر ساری چیزیں کھا جاتے تھے۔ یہ اس کا معمول بن گیا تھا۔
 ایک دن اس نے اپنے دوست موہن کے دونوں بچوں کو اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ جب لڑکے کھانے کے لئے رمیش کے یہاں آئے تو کھانے کے بعد اس نے انہیں اپنے گھر نہیں جانے دیا۔کافی دیر تک جب لڑکے اپنے گھر نہیں پہنچے تو موہن انہیں لینے کے لئے رمیش کے گھر آیا۔ رمیش نے موہن کو مورتی کے قریب بیٹھا دیا اور دونوں بندر وہاں چھوڑ دیئے۔ بندر چیں چیں کرتے مورتی پر جھپٹے۔
 ’’یہ کیا تماشہ ہے؟‘‘ موہن بولا۔’’یہ تماشہ نہیں .... یہ دونوں بندر تمہارے لڑکے ہیں ، انہیں اپنے ساتھ لے جاؤ....‘‘ رمیش نے جواب دیا۔’’یار کہیں لڑکے بھی بندر بن سکتے ہیں ؟‘’’جب خزانہ کوئلے میں بدل سکتا ہے تو لڑکے بھی بندر ہوسکتے ہیں .... اس میں تعجب کی کیا بات ہے....‘‘موہن رمیش کا مقصد سمجھ گیا۔ وہ اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوا اور رمیش سے معافی مانگتے ہوئے بولا ’’دوست.... آج تم نے مجھے جو سبق سکھایا ہے وہ کبھی نہ بھولوں گا.... مجھے معاف کردو.... آج سے ایماندار اور نیک بننے کی کوشش کروں گا۔‘‘ رمیش نے موہن کے بچّے واپس کر دیئے۔ وہ گھر واپس چلا گیا.... اور تھوڑی دیر کے بعد ہی آدھا خزانہ رمیش کے ہاں پہنچا گیا۔ .....اور پھر اس کے بعد اس نے کبھی بے ایمانی نہیں کی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK