یوم ِجمہوریہ: آئین، قانون،ان کی بالادستی اور وکالت کا پیشہ

Updated: February 04, 2022, 3:46 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اس دن ملک کا آئین روبہ عمل لایا گیا تھا۔ آئین کی حفاظت اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے قانون کا جاننا ضروری ہے۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

چند دنوں بعد ملک بھر میں ۷۳؍ ویں یوم جمہوریہ کا جشن منایا جائے گا۔یوم جمہوریہ کے متعلق آپ کو یقیناً معلومات ہوگی کہ یہ کیوں منایا جاتا ہے۔ اس دن آزاد ہندوستان نے آئین کو نافذ کیا تھا اور ایک جمہوری ملک بن گیا تھا یعنی عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے۔ شہریوں کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا تاکہ وہ اپنا لیڈر خود منتخب کریں ۔اس دن حکومت ہند ایکٹ جو ۱۹۳۵ء سے نافذ تھا، اسے منسوخ کر کے آئین ہند کا نفاذ عمل میں آیا تھا۔ یاد رہے کہ دستور ساز اسمبلی نے آئین ہند کو ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء کو اپنایا تھا اس لئے ۲۶؍ نومبر کو یوم آئین منایا جاتا ہے۔ آئین ہند کے نفاذ کے بعد ملک میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہوا۔
 اس دن قومی تعطیل ہوتی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں جشن منایا جاتا ہے۔ یوم جمہوریہ کی خاص اور اہم تقریبات نئی دہلی میں منعقد کی جاتی ہیں ۔ اس دن صدر جمہوریہ کی زیر صدارت اور موجودگی میں یہ تقریبات اور اجلاس بڑے ہی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں ۔ ان تقریبات کا اہم مقصد ہندوستان کو خراج پیش کرنا ہوتا ہے۔ نئی دہلی میں واقع رئسینا ہلز اور راشٹرپتی بھون کے قریب یہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں ۔ اسی علاقہ میں راج پتھ اور انڈیا گیٹ بھی واقع ہیں ۔ تقریب کے آغاز میں ملک کے وزیر اعظم گلدستوں کے ذریعے انڈیا گیٹ کے پاس گمنام شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صدر ہند اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں ۔
 یوم جمہوریہ اور اس کے پس منظر سے شہری واقف ہیں ۔ چونکہ اس دن آئین نافذ ہواتھا اس لئے بطور طالب علم آپ کا اس کے متعلق جاننا اہم ہے۔ آئین ہمیں کچھ حقوق فراہم کرتا ہے، ان کی حفاظت کرتا ہے اور بطور شہری ہماری ذمہ داریوں کی وضاحت کرتا ہے۔
آج کے تکنیکی دور میں معلومات ہم سے محض چند سیکنڈز دور ہیں لیکن ایسے افراد کم ہی ہوں گے جو معلومات تک رسائی حاصل کرنے کیلئے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہوں گے۔یہ ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعے ہم صرف کسی ایک کورس تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ ان کی مدد سے ہم بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں ۔ اس لئے آپ قانون کے شعبے میں کریئر بنانے کے خواہشمند ہوں یا نہ ہوں ، آئین کے متعلق بنیادی معلومات اور اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں آپ کو علم ضرور ہونا چاہئے۔ اس لئے کتابوں کے ذریعے یا انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں ضرور پڑھیں ۔
 بیشتر طلبہ میڈیکل، انجینئرنگ اور مینجمنٹ میں کریئر بنانے کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔ ایسے طلبہ کم ہی ہوں گے جو قانون میں اپنا کریئر بنانے کے خواہاں ہوں ۔ خیال رہے کہ یہ ایک اہم شعبہ ہے ۔ اگر ملک میں کوئی شخص کسی بھی قسم کا کوئی غیر قانونی کام کر بیٹھے یا اس پر کسی قسم کا الزام عائد کردیا جائے تو و ہ اپنی بے گناہی کس طرح ثابت کرے گا؟ اس کیلئے ملک بھر میں عدالتیں قائم کی گئی ہیں ۔ اگر کسی شخص کو انصاف نہیں مل رہا ہے تو وہ علاقائی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ تاہم، عدالتوں میں ، کیا آپ اپنی بے گناہی خود ثابت کرسکتے ہیں ؟ یقیناً نہیں ۔ اس کیلئے آپ کو کسی ایسے ماہر کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی جو قانون کا ماہر ہو۔ قانون کا ماہر وکیل کہلاتا ہے، اور یہی آپ کی جانب سے آپ کا معاملہ عدالت میں جج کے سامنے پیش کرتا ہے، اور اس کی مہارت کی بنیاد ہی پر عدالت اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ وکالت ایک اہم شعبہ ہے اس لئے ہر شہری کو اس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات ہونی چاہئیں ۔
 تاہم، ایسے طلبہ جو قانون کے شعبے میں کریئر بنانے خواہشمند ہیں ، ان کی رہنمائی کیلئے تعلیمی انقلاب نے شہر ومضافات کے چند وکلاء سے بات چیت کی جو ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔
یہ پیشہ آپ کو عزت اور شہرت دیتا ہے
 گزشتہ ۲۷؍ سال سے قانون کے شعبے میں فعال ایڈوکیٹ نیلوفر اختر کہتی ہیں کہ ’’ دنیا کے ہر ملک میں آئین بنایا گیا ہے جس کی پاسداری ہر شہری پر لازم ہوتی ہے۔ آئین کے بغیر کوئی بھی ملک منظم طریقے سے کام نہیں کرسکتا۔ آئین ہی نے ہمیں جمہوریت عطا کی ہے اس لئے ہر شہری کو اس کے بارے میں جاننا چاہئے۔ اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ آپ قوانین سے گھرے ہوئے ہیں ، مثلاً کسی چیز کو خریدتے وقت کون سی باتوں کا خیال رکھنا، ٹریفک سگنل نہ توڑنا، عوامی مقامات پر نہ تھوکنا وغیرہ۔ آپ کی ۸۰؍ فیصد زندگی قوانین سے گھری ہوئی ہے۔‘‘ سینئر ایڈوکیٹ نے یہ بھی بتایا کہ قانون کے شعبے میں لڑکیوں کو ضرور کریئر بنانا چاہئے۔ ملک کی بیشتر خواتین اپنے بنیادی حقوق سے نابلد ہیں ۔ میرے خیال میں ایک خاتون وکیل دیگر خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں زیادہ آسانی سے معلومات فراہم کرسکتی ہے۔ طلباء بھی اس شعبے میں کریئر بنائیں ۔ تاہم، ہر وکیل کا ایک ہی ہدف ہونا چاہئے کہ وہ بخوبی اپنے فرائض ادا کرے۔ وکالت کا پیشہ آپ کو عزت، شہرت اور دولت دیتا ہے۔ لہٰذا اپنے پیشے کی اہمیت کو سمجھیں ، اور قانونی کام کرنے کیلئے کوئی غیر قانونی طریقہ نہ اپنائیں ۔
یہ ایک معزز پیشہ ہے
 ستائیس سال سے قانون کے میدان میں سرگرم عمل ایڈوکیٹ جہاں آراء سرکھوت کہتی ہیں کہ ’’آئین قوانین کی ماں ہے۔ یہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتا ہے۔ ہر شہری کو زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ آئین کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس میں ایسے بھی قوانین ہیں جن کے متعلق جاننا ہر شہری کا فرض ہے جیسے انڈین پینل کوڈ، فیملی کورٹ ایکٹ، خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین وغیرہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک معزز پیشہ ہے۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کو ملک میں رائج مختلف قوانین کے بارے میں معلوما ت ہوتی ہے۔ ایک وکیل کے طور پر آپ کو بے گناہوں کو انصاف فراہم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ معاشرے میں اپنی الگ شناخت بناتے ہیں اور اس کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کسی بے گناہ کو الزام سے بری کرنے کا احساس بہت خوش کن ہوتا ہے۔
آئین کا مطالعہ ضرورکریں 
 ایڈوکیٹ ریحان جبالی کہتے ہیں کہ ’’آئین ملک کے ہر فرد کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔ میرے خیال میں ہر شہری کو اس کے بارے میں بنیادی معلومات ضرور ہونا چاہئے۔ آئین میں موجود آرٹیکل ۱۴؍ تا ۲۱؍ اہم ترین ہیں جنہیں شہریوں کو نہ صرف پڑھنا چاہئے بلکہ یاد بھی رکھنا چاہئے نیز دوسروں کو بھی ان کے متعلق آگاہ کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہر طالب علم کوقانون کے بارے میں جاننا چاہئے اور ملک میں ہونے والے اہم قانونی فیصلوں پر نظر رکھنا چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مستقبل میں آپ قانون کی تعلیم حاصل کریں یا نہ کریں آپ کو بنیادی معلومات ضرور ہوں گی۔ جو طلبہ لاء میں کریئر بنانے کے خواہشمند نہیں ہیں ، وہ بھی آئین کا مطالعہ کریں ۔
ایک وکیل با اختیار ہوتا ہے
 ایڈوکیٹ مونس آصف مومن آئین کی اہمیت کے متعلق کہتے ہیں کہ ’’ملک کو آزادی ملنے کے بعد آئین بنایا گیا تھا تاکہ شہریوں کو معلوم ہو کہ وہ کسی بھی قسم کی بادشاہت کے تحت نہیں بلکہ آزاد ہیں ، اور ان کے کچھ حقوق ہیں جو انہیں مرتے دم تک حاصل رہیں گے۔ انہی کیلئے آئین کی دفعات میں وقتاً فوقتاً ترامیم بھی کی جاتی ہیں ۔ آئین انہیں با اختیار بناتا ہے۔ ہر شہری کو چاہئے کہ وہ آئین کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اسے دوسروں کو بھی بتائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آج بہت سے طلبہ قانون کے شعبے میں کریئر بنانے کے خواہشمند ہیں لیکن وہ اسے مشکل سمجھ کر درمیان ہی میں چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہر کورس مشکل ہوتا ہے، لاء بھی مشکل ہے لیکن اگر آپ کو اس کورس میں دلچسپی ہے تو آپ یقیناً کامیاب ہوں گے۔ ایک وکیل بااختیار ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی ہر ممکن قانونی مدد کرے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK