زحل اور مشتری کی قربت،اب ایسا تقریباً ۴۰۰؍ سال بعد ہوگا

Updated: January 07, 2021, 9:47 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ماہرین فلکیات دو سیاروں کے قریب آنے کے اس عمل کو ’’گریٹ کنجنکشن‘‘ ، ’’عظیم موافقت‘‘، ’’عظیم اجتماع‘‘ یا ’’عظیم ملاپ‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ واقعہ ۴۰۰؍ سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ تاہم، ۸۰۰؍ سال میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہےجب انسانی آنکھیں اس منظر کو دیکھ سکی ہیں ۔ بعض افراد اسے ’’کرسمس اسٹار‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ زیر نظر تصاویر دنیا کے اُن مقامات کی ہیں جہاں یہ منظر واضح طور پر نظر آیا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اکیس دسمبر یعنی پیر کی رات کو لوگوں نے زحل ’’سیٹرن‘‘اور مشتری’’جوپیٹر‘‘ کے قریب آنے کا خوبصورت نظارہ کیا۔ خیال رہے کہ ایسا منظر ہمیشہ نہیں نظر آتا بلکہ صدیوں میں ایک بار ایسا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان دونوں سیاروں کے قریب آنے کا منظر دیکھنے کیلئے گھنٹوں پہلے سے انتظار کررہی تھی۔
گریٹ کنجنکش کیا ہے؟ 
 زحل اور مشتری ہمارے نظام شمسی کے دو سب سے بڑے سیارے ہیں جو ہماری زمین ہی کی طرح اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں ۔ تاہم، ۲۱؍ دسمبر کو وہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے تھے کہ زمین پر بسنے والوں نے ان دونوں کو بالکل جڑا ہوا دیکھا۔ ماہرین فلکیات اس عمل کو’’عظیم ملاپ‘‘ ، ’’عظیم موافقت‘‘ ، ’’عظیم اجتماع‘‘ یا ’’گریٹ کنجنکشن‘‘ کا نام دیتے ہیں ۔
ایسا ۴۰۰؍ سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے
 واضح رہے کہ یہ منظر شمالی نصف کرہ کے ان علاقوں میں دیکھنے کو ملا تھا جہاں آسمان صاف تھا۔ یہ دونوں سیارے دو بڑے روشن ستاروں کی طرح نظر آرہے تھے جبکہ ایک دوسرے کے عین سامنے آجانے کے بعد آسمان پر ایک بڑا روشن ستارہ نظر آرہا تھا۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ایسا ۴۰۰؍ سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ مگر انسانی آنکھیں اسے ۸۰۰؍ سال بعد دیکھ سکی ہیں ۔
 واشنگٹن میں خلا اور فلکیات سے متعلق قومی ادارے کے ایک ماہر ہنری تھروپ کا کہنا ہے کہ ’’یہ منظر اس وقت دکھائی دیتا ہے جب مشتری، جو نظام شمسی کا ایک بڑا اور زیادہ روشن نظر آنے والا سیارہ ہے، سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زحل کے قریب ایک خاص قطار میں آجا تا ہے، اور اس پر وہ کئی ہفتے تک رہتا ہے۔ اس دوران ایک وقت آتا ہے جب زمین سے وہ ایکدوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ حقیقتاً وہ اپنے اپنے مدار میں مقررہ فاصلوں پر گردش کر رہے ہوتے ہیں ۔‘‘اس بار۲۱؍ دسمبر کو زمین سے ان دونوں سیاروں کو دیکھنے کے زاویئے میں فرق ایک ڈگری کے دسویں حصے کے مساوی تھا جس کی وجہ سے وہ آپس میں جڑے ہوئے نظر آئے جبکہ وہ بدستور ایک دوسرے سے کروڑوں میل کی دوری پر تھے۔
ہر ۲۰؍ سال میں یہ ملاپ ہوتا ہے
 دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں سیارے سورج کے مدار میں گردش کرتے ہوئے تقریباً ہر۲۰؍ سال کے بعد ایکدوسرے کے قریب آتے ہیں لیکن وہ ایسے زاویے پر نہیں ہوتے کہ زمین سے اس طرح نظر آئیں کہ وہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یہ موقع تقریباً ۴۰۰؍ سال میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ ایسا ہی ایک موقع ۱۶۲۳ء میں آیا تھا لیکن اس وقت زمین سے یہ نظارہ نہیں کیا جا سکا تھا کیونکہ زمین پر اس وقت دن تھا، اور روشن سیارے اندھیرے ہی میں نظر آتے ہیں ۔
 ماہرین فلکیات نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل ان دونوں سیاروں کے بہت زیادہ قریب آنے کا موقع ۱۲۲۶ء میں آیا تھا۔ لیکن اس وقت طاقتور دوربین نہ ہونے کی وجہ سے لوگ یہ نظارہ نہیں کر سکے تھے۔ 
 پھر قریب آئیں گے۲۰۴۰ء میں
 فلکیات سے متعلق ہارودڑ سمتھ سونیئن سینٹر کے جوناتھن مک ڈوول کا کہنا ہے کہ ’’۲۰۴۰ء میں یہ دونوں سیارے ایک بار پھر ایک دوسرے کے بہت قریب آئیں گے، لیکن یہ اتنے قریب نہیں ہوں گے جتنے ۲۱؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو تھے۔ اور یہ منظر زمین سے نہیں دیکھا جا سکے گا۔ پھر اسی طرح کا ایک اور ملاپ مارچ ۲۰۸۰ء میں ہو گا۔ لیکن جو منظر ۲۱؍ دسمبر کو دیکھا گیا وہ اب ۳۳۷؍ سال بعد یعنی اگست ۲۴۱۷ء میں دیکھنا ممکن ہوگا۔ 
ایسا کیوں نظر آتا ہے؟
 در حقیقت یہ دونوں سیارے ۷۳۰؍ ملین کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہیں ۔مگر زمین کے سلسلے میں ان کی صف بندی کی وجہ سے زمین، زحل اور مشتری تینوں ایک ہی اونچائی پر آگئے تھے۔ اس کیلئے جغرافیہ کی ایک اصطلاح ’’سولی سائس‘‘ کو بھی سمجھنا ہوگا۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جب سورج دوپہر کے وقت اپنے بلند ترین یا نچلے ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں سال کا سب سے مختصر ترین دن اور طویل ترین رات واقع ہوتے ہیں ۔ سولی سائس سال میں دو مرتبہ (ایک بار موسم گرما میں اور ایک مرتبہ موسم سرما میں ) ہوتا ہے۔ موسم گرما میں جب یہ ہوتا ہے تو سال کا طویل ترین دن جبکہ مختصر ترین رات ہوتی ہے۔ موسم گرما میں ایسا ۲۱؍ جون کو ہوتا ہے۔ اسی طرح ۲۲؍ دسمبر کو سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوتی ہے۔ زمین کی سورج کے اطراف گردش موسمی تبدیلیوں کی وجہ بنتی ہے۔ اب شمالی نصف کرہ میں رہنے والوں کیلئے موسم سرما اور جنوبی نصف کرہ کے لوگوں کیلئے موسم گرما کا آغاز ہوگا۔ 
 مشتری اور زحل چونکہ چمکدار سیارے ہیں ، اور ۲۱؍ دسمبر کو وہ زمین سے ایک ہی اونچائی پر آگئے تھے اس لئے آسانی سے دیکھے گئے۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ اگر جو لوگ ۲۱؍ دسمبر کو یہ نہیں دیکھ سکے ہیں تو نئے سال کے دو ہفتوں تک یہ عظیم ملاپ دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ آسمان میں یہ دونوں سیارے ہماری زمین کے ساتھ ساتھ گزر رہے ہیں ۔
 اب یہ دونوں سیارے ایک دوسرے سے الگ ہونا شروع ہوگئے ہیں ، اور نئے سال میں یہ دونوں ایک دوسرے سے بہت دور ہوجائیں گے، اور پھر ۲۰؍ سال بعد ایک مرتبہ پھر قریب آئیں گے۔
کرسمس اسٹارکیا ہے؟
 بعض مذہبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آسمان میں زحل اور مشتری میں بڑھتی ہوئی قربت دراصل قربِ قیامت کی نشانی ہونے کے علاوہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد بہت جلد ہونے والی ہے۔ ماہر فلکیات جوہانس کیپلر کہتے تھے کہ ولادتِ عیسیٰ کی خوشخبری دینے والے جس ’’بیت اللحم کے ستارے‘‘ یا ’’کرسمس اسٹار‘‘ کا ذکر ہے، وہ کوئی ستارہ نہیں تھا بلکہ ایک نایاب فلکیاتی نظارہ تھا جب آسمان میں زحل اور مشتری ایک دوسرے سے بہت قریب آگئے تھے کہ وہ دو الگ الگ نقطوں کے بجائے ایک روشن ستارے کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ 
 چونکہ اس مرتبہ ۲۱؍ دسمبر کی شام بھی تقریباً وہی منظر ایک بار پھر ہوا، اس لئے بعض عیسائی حلقے ’’بیت اللحم کے ستارے کا ظہورِ نو‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے حضرت عیسیٰؑ کی واپسی کا اشارہ اور قربِ قیامت کی نشانی بھی قرار دے رہے ہیں ۔دوسری جانب، کیتھولک نیوز ایجنسی کی ایک خبر میں ویٹیکن رصدگاہ کے ڈائریکٹر برادر گائی جے کونسلمونیو کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ زحل اور مشتری میں بڑھتی ہوئی قربت کو بیت اللحم کا ستارہ قرار دینا ایک غیر یقینی بات ہے کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ ستارہ اصل میں کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK