کچھ لوگوں کو ٹھنڈی یا گرم چیزیں کھانے پر دانتوں میں درد ہوتا ہے، کیوں ؟

Updated: April 09, 2021, 7:00 AM IST | Mumbai

زندگی میں کبھی نہ کبھی دانتوں میں درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی یہ عارضی ہوتا ہے تو کبھی اتنا شدید ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بعد ہی درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ دانتوں کی حفاظت کیلئے عام طور پر ٹھنڈی، گرم یا میٹھی چیزیں کھانے یا پینے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کو مذکورہ چیزیں کھانے یا پینے سے دانتوں میں درد ہوتا ہے۔

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

زندگی میں کبھی نہ کبھی دانتوں میں درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی یہ عارضی ہوتا ہے تو کبھی اتنا شدید ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بعد ہی درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ دانتوں کی حفاظت کیلئے عام طور پر ٹھنڈی، گرم یا میٹھی چیزیں کھانے یا پینے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کو مذکورہ چیزیں کھانے یا پینے سے دانتوں میں درد ہوتا ہے۔اسی طرح کچھ لوگ گرم چیزیں کھانے یا پینے سے بھی گریز کرتے ہیں تاکہ وہ دانتوں کے درد سے محفوظ رہ سکیں ۔ تاہم، ایسے لوگوں سمیت اکثریت کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ آخر ٹھنڈی چیزیں کھانے یا پینے کے دوران دانتوں میں درد کیوں ہوتا ہے اور پھر اس درد کا احساس دماغ تک کیسے پہنچتا ہے؟
 سائنسدانوں نے حال ہی میں اس مسئلے کا حل طویل تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد نکالا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دراصل دانتوں میں موجود خلیے ’’اوڈونٹو بلاسٹ‘‘ متاثر ہونے کی وجہ سے ٹھنڈی چیزیں کھانے یا پینے سے دانتوں میں درد ہوتا ہے۔
 سائنسی جریدے امریکن اسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس کے سائنس ایڈوانسز میں شائع متعدد یورپی اور امریکی ممالک کے ماہرین کی تحقیقات کیلئے کئے گئے جائزے کی رپورٹ کے مطابق دانتوں کے اوپر اور باہر موجود اوڈونٹو بلاسٹ نامی خلیہ ٹھنڈی چیزیں کھانے اور پینے کے دوران درد کی کیفیت کا احساس دلاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اوڈونٹو بلاسٹ ٹھنڈی چیزوں کے کھانے اور پینے کے درمیان درد کی کیفیت کا احساس کیوں دلاتا ہے؟ماہرین نے بتایا کہ دراصل جب دانتوں میں انفلیمیشن یعنی سوجن، جلن یا خارش ہوتی ہے تو اوڈونٹو بلاسٹ نامی خلیہ ٹھنڈی چیزوں کے آنے پر درد کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔پھر یہی خلیے دانتوں کو دماغ سے جوڑنے والے سسٹم ’’ٹرانزنٹ رسیپٹر پروٹین۔۵ (ٹی آر پی سی۔۵) کوٹھنڈی چیزوں کے کھانے یا پینے کے دوران اٹھنے والے درد کی رپورٹ دیتے ہیں جو انسانی دماغ تک پہنچتی ہے اور پھر انسان کو درد محسوس ہونے لگتا ہے۔
 مذکورہ تحقیق کو۴؍ مختلف ماہرین نے مرتب کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے امریکہ اور یورپ کے متعدد ممالک کے ماہرین کی جانب سے کئے جانے والے سرویز اور تحقیقاتی رپورٹس کا جائزہ لیا۔ 
 سائنسدانوں نے انسانوں اور چوہوں پر کی جانے والی تحقیقات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق نتائج سے دانتوں کے علاج کیلئے کئی نئے اشارے ملتے ہیں اور نتائج دانتوں کی بیماریوں کیلئےمفید ثابت ہوں گے۔ ان تمام تحقیقات کو سائنسدانوں نے امید افزاء قرار دیا ہے۔
 دوسری جانب، یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر کوئی ٹھنڈی یا گرم چیز کھانے پر دانتوں میں جھنجناہٹ کیوں ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اوڈونٹوبلاسٹ نامی خلیے کی وجہ ہی سے یہ ہوتا ہے۔ تاہم، کئی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ کوئی اور ہے۔ اس پر مزید تحقیق کےبعد ہی کوئی بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK