Updated: October 13, 2026, 4:38 PM IST
| Mumbai
ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں کئی ایسے دلچسپ واقعات پوشیدہ ہیں جن کے بارے میں عام طور پر گیت سنتے وقت خیال بھی نہیں آتا۔ کسی گیت کی دل کش دھن، گلوکار کی آواز اور موسیقی کے ساز تو ہماری توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں، لیکن اس کے پس منظر میں معمولی سی چیز سے پیدا کی گئی کوئی آواز بھی گیت کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک دلچسپ قصہ فلم ’اجنبی‘ (۱۹۷۴ء)کےمشہور گیت’ہم دونوں دو پریمِی، دنیا چھوڑ چلے‘ سے وابستہ ہے۔
ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں کئی ایسے دلچسپ واقعات پوشیدہ ہیں جن کے بارے میں عام طور پر گیت سنتے وقت خیال بھی نہیں آتا۔ کسی گیت کی دل کش دھن، گلوکار کی آواز اور موسیقی کے ساز تو ہماری توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں، لیکن اس کے پس منظر میں معمولی سی چیز سے پیدا کی گئی کوئی آواز بھی گیت کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک دلچسپ قصہ فلم ’اجنبی‘ (۱۹۷۴ء)کےمشہور گیت’ہم دونوں دو پریمِی، دنیا چھوڑ چلے‘ سے وابستہ ہے۔اس گیت کی خاص بات صرف کشور کمار اور لتا منگیشکر کی آوازوں کا حسین امتزاج نہیں، بلکہ اس کی موسیقی میں ریل گاڑی کے چلنے کا احساس پیدا کرنے کے لیےاختیار کیا گیا ایک انوکھا طریقہ بھی ہے۔ اس آواز کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لیے ریگ مال کے دو ٹکڑوں کو آپس میں رگڑنے کا طریقہ استعمال کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ یعنی پردۂ سیمیں پر ریل گاڑی کے سفر اور اس کی حرکت کا جو احساس سننے والے تک پہنچتا ہے، اس کے پیچھے کسی ریل گاڑی،بڑی مشین یا سازوں کے بجائے ایک معمولی سی چیز کا کمال بھی شامل تھا۔معاملہ یہ تھا کہ ہدایت کار شکتی سامنت کو فلم کیلئے فوری طور پر ایک گیت تیار کرنا تھا کیوں کہ اداکار راجیش کھنہ کی تاریخیں ختم ہورہی تھی۔ اتفاق سے اس دوران سازندوں کی ہڑتال تھی۔سارے ریکارڈنگ اسٹوڈیو خالی ہوگئے اور سازوں پر دھول جمنے لگی۔ پریشان ہو کر ہدایت کار میوزک ڈائریکٹر آر ڈی برمن کے پاس پہنچے۔لیکن ان کے پاس بھی صرف ۳؍ سازندے موجود تھے۔ کوئی اور موسیقار ہوتا تو موسیقی تیار کرنے کو بالکل تیار نہیں ہوتا۔لیکن پنچم دا نے اپنے ساتھی رنجیت کو دو ریگ مال یعنی سینڈ پیپر یا پالش پیپر تھما دیئے اور جب وہ کھردرے کاغذ رگڑے گئے تو بند اسٹوڈیو میں ہی بغیر کسی مشین کے ٹرین کے چلنے جیسی آواز پیدا ہوگئی۔اس دوران آر ڈی برمن نے کسی اور آلے کا بھی استعمال نہیں کیا تھا کہ ریل کی آواز حقیقی محسوس ہوتی رہے۔