EPAPER
آج وہ چیخ چیخ کر اپنے محافظوں سے سوال کر رہی تھی، جن کے سامنے آج تک ستارہ نے چوں تک نہیں کی تھی۔ آج وہ اپنے حق کے لئے لڑ رہی تھی، مگر یہ کیا؟ بدزبان اور بے شرم جیسے گھٹیا الفاظ سے اسے نوازا گیا، جس کی اسے کبھی امید نہ تھی۔
April 16, 2026, 5:00 pm IST
مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو میری شکل دیکھنے تک کی روادار نہ تھی اور آج یہ کایا پلٹ.... ’’دھیرج دھیرج بیوی ذرا دھیرج دھرو۔ مَیں جلد ہی گھر پہنچ رہا ہوں، بس دعا کرو راستے میں ٹریفک میں نہ پھنس جاؤں۔‘‘
April 14, 2026, 2:35 pm IST
درختوں کی بلند شاخوں سے چھن کر آتی ہوئی سنہری روشنی گھاس پر یوں بکھر رہی تھی جیسے کسی نے نرم سبز قالین پر باریک سونے کے ذرّے چھڑک دیئے ہوں۔
April 09, 2026, 2:18 pm IST
