EPAPER
نجی اسکول کے خالی راہداریوں میں اپنے جلتے بجھتے خوابوں کی دیئے جلائے وہ روز شام اس آس اور امید کے ساتھ اپنے گھر کا رخ کرتا کہ ایک دن یہ زندگی بھی اس پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک دن اسے ضرور مستقل ملازمت نصیب ہوگی۔
February 26, 2026, 2:54 pm IST
اس قدر کہ اسے اپنا وجود صرف اور صرف ماں کی شکل میں دکھائی دیتا۔ سردی کی چھٹیاں بتانے وہ گاؤں چلی آئی کہ بچے تھوڑا کھلی فضا کا لطف لے لیں گے اور دادی پھوپھی کا پیار بھی مل جائےگا۔ یہاں بھی وہ دن بھر اپنے کاموں میں مگن رہتی۔ منفی خیالات کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔
February 18, 2026, 3:07 pm IST
ٹرین اپنے مخصوص آہنی وقار کے ساتھ پٹری پر چل رہی تھی، کھڑکی کے باہر پھیلا ہوا ہندوستان کسی اداس نظم کی طرح ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ مَیں سامنے والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی اس خاموش مسافر کو دیکھ رہی تھی جو ایک خواجہ سرا تھی سادہ لباس، سنجیدہ آنکھیں، اور ہاتھ میں ایک کتاب۔
February 18, 2026, 2:41 pm IST
