EPAPER
بڑی سی راہداری عبور کرتے ہوئے میرال کے قدم اچانک ایک مردانہ آواز پر رک گئے۔ اونچی ہیلز، اور نفیس لباس پہنے ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے ہاتھ میں موجود موبائل پر وہ مسلسل مصروف تھی۔ ’’میم، ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘
October 06, 2026, 1:59 pm IST
’’ہادی میں اس طرح کے ماحول میں نہیں رہ سکتی۔ مجھے ایسے شور شرابے کی کوئی عادت نہیں ہے۔‘‘ وہ نرمی سے اُسے کہنے لگی۔ ’’کیا مطلب ہے کیا کہنا چاہتی ہو یہ کہ تم بڑی تہذیب یافتہ فیملی سے آئی ہو اور ہم، ہم لڑاکو جھگڑالو سب ہیں، میری ماں، میرے رشتےدار، میری بہنیں، سب خراب ہیں؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔‘‘
September 29, 2026, 3:11 pm IST
مریم ایک عام سی لڑکی تھی۔ وہ پڑھنے میں اچھی تھی، خواب دیکھتی تھی اور اسے یقین تھا کہ دُنیا میں اچھے لوگ زیادہ ہیں۔
September 23, 2026, 2:51 pm IST
