EPAPER
عبیر کی آنکھیں پچھلے دنوں کا احوال سنا رہی تھیں۔ اس کا مرجھایا ہوا چہرہ اور آنکھوں کی ویرانی دیکھنے والے دلوں کو گداز کر رہے تھے۔ آج حدید کا سوئم تھا۔ گھر میں مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔ قریبی رشتے دار بھی تین دن سے وہیں رہ رہے تھے۔
June 01, 2026, 2:35 pm IST
علی کو بھی اس بحث سے مزہ آنے لگا وہ بات گھماتے ہوئے بولا ’’چھوڑو کپڑے کی بات، یہ بتاؤ بکرے لینے کب چل رہے ہیں؟ اب تو چار پانچ دن ہی رہ گئے ہیں۔
May 26, 2026, 1:39 pm IST
ہم جب کہانیاں پڑھتے ہیں تو اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ کہانیاں صرف کتابوں میں لکھی جاتی ہیں۔ کسی مصنف کے ذہن میں جنم لیتی ہیں، پھر لفظوں کا لباس پہن کر صفحوں پر اُتر آتی ہیں مگر زندگی ہمیں آہستہ آہستہ یہ سکھا دیتی ہے کہ سب سے گہری کہانیاں وہ ہوتی ہیں جو لکھی نہیں جاتیں، بس جِی لی جاتی ہیں، خاموشی سے، بےساختہ، بغیر کسی اعلان کے۔
May 14, 2026, 3:42 pm IST
