EPAPER
چائے کا ایک گھونٹ لے کر اس نے اپنی پسندیدہ میگزین اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اتنے میں فون کی رِنگ سنائی دی۔ ہاتھ بڑھا کر صوفے کی اس جانب دیکھا تو بھائی کا نام بلنک کر رہا تھا۔
March 23, 2026, 3:49 pm IST
نجی اسکول کے خالی راہداریوں میں اپنے جلتے بجھتے خوابوں کی دیئے جلائے وہ روز شام اس آس اور امید کے ساتھ اپنے گھر کا رخ کرتا کہ ایک دن یہ زندگی بھی اس پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک دن اسے ضرور مستقل ملازمت نصیب ہوگی۔
February 26, 2026, 2:54 pm IST
اس قدر کہ اسے اپنا وجود صرف اور صرف ماں کی شکل میں دکھائی دیتا۔ سردی کی چھٹیاں بتانے وہ گاؤں چلی آئی کہ بچے تھوڑا کھلی فضا کا لطف لے لیں گے اور دادی پھوپھی کا پیار بھی مل جائےگا۔ یہاں بھی وہ دن بھر اپنے کاموں میں مگن رہتی۔ منفی خیالات کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔
February 18, 2026, 3:07 pm IST
