Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئے نثرنگار

افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر

آج وہ چیخ چیخ کر اپنے محافظوں سے سوال کر رہی تھی، جن کے سامنے آج تک ستارہ نے چوں تک نہیں کی تھی۔ آج وہ اپنے حق کے لئے لڑ رہی تھی، مگر یہ کیا؟ بدزبان اور بے شرم جیسے گھٹیا الفاظ سے اسے نوازا گیا، جس کی اسے کبھی امید نہ تھی۔

April 16, 2026, 5:00 pm IST

افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر

افسانہ: سود و زیاں

مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو میری شکل دیکھنے تک کی روادار نہ تھی اور آج یہ کایا پلٹ.... ’’دھیرج دھیرج بیوی ذرا دھیرج دھرو۔ مَیں جلد ہی گھر پہنچ رہا ہوں، بس دعا کرو راستے میں ٹریفک میں نہ پھنس جاؤں۔‘‘

April 14, 2026, 2:35 pm IST

افسانہ: سود و زیاں

افسانہ: یادوں کی روشنی

درختوں کی بلند شاخوں سے چھن کر آتی ہوئی سنہری روشنی گھاس پر یوں بکھر رہی تھی جیسے کسی نے نرم سبز قالین پر باریک سونے کے ذرّے چھڑک دیئے ہوں۔

April 09, 2026, 2:18 pm IST

افسانہ: یادوں کی روشنی
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK