EPAPER
ہم اخلاق کو ایک داخلی ذمہ داری کے بجائے خارجی مہم بنا چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چند تقاریر، نصیحتیں اور رسمی اجتماعات ہمیں اپنے فرض سے سبکدوش کر دیں گے حالانکہ اخلاق نہ کسی اسٹیج سے منتقل ہوتا ہے اور نہ کسی ہال میں سکھایا جا سکتا ہے۔
January 23, 2026, 4:41 pm IST
سب سے زیادہ داخلی انتشار موجودہ ’نوجوان نسل‘ میں ہے، جو ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور اسی کے معیارات میں اپنی شناخت تلاش کررہی ہے۔ اسے کیا اور کیسے سمجھائیں؟
January 23, 2026, 4:44 pm IST
قرآن مجید کا اندازِ بیان اتنا جامع اور سحرانگیز ہے کہ جب تعذیب خانوں کا ذکر ہوتا ہے تو اس عجیب و غریب انداز میں کہ کانوں سے سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے اور قوتِ متخیلہ اس کی تائید کرتی ہے، اور جب راحت بخش قیام گاہوں اور ٹھنڈے اور گھنے سایوں کا ذکر ہوتا ہے تو قوتِ احساس و ادراک پر حالت ِ محویت و استغراق طاری ہوجاتی ہے۔کاش ہم غور کریں!
January 23, 2026, 4:38 pm IST
