EPAPER
سیرت مصطفیٰؐ ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا کما رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنا پاکیزہ کما رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا بول رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی زبان سے کیا نکل رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے علم نے اس کے کردار کو کتنا سنوارا ہے۔حضورؐ نے علم کو کردار سے، عبادت کو اخلاق سے اور ایمان کو عمل سے جوڑ دیا۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کی دنیا کو شدید ضرورت ہے۔
August 26, 2026, 2:35 pm IST
ہم سیرت کو کہاں تلاش کر رہے ہیں؟ کتابوں میں؟ جلسوں میں؟ تقاریر میں؟ محفلوں میں؟ یقیناً یہ وہاں بھی ہے؛ مگر سیرت کی اصل منزل ہماری زندگی ہے۔ اگر ہماری زبان سچ بولے، ہمارا ہاتھ کسی کمزور پر نہ اٹھے، ہماری تجارت میں دیانت ہو، ہمارے اختلاف میں شائستگی ہو، ہمارے اقتدار میں انصاف ہو، ہمارے گھروں میں محبت ہو اور ہمارے دل میں انسانیت کیلئے جگہ ہو تو سمجھنا چاہئے کہ سیرت ہمارے اندر اتر رہی ہے۔
August 26, 2026, 2:16 pm IST
سوال یہ ہے کہ ہم آمد مصطفیٰؐ کی خوشی کیسے مناتے ہیں؟کیا میلادِ مصطفیٰؐ صرف چراغاں، جلسوں، جلوسوں اور محفلوں کا نام ہے؟ یا یہ اس عہد کی تجدید بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو تعلیماتِ مصطفیٰؐ کے مطابق ڈھالیں گے؟
August 26, 2026, 2:15 pm IST
