نوجوان اور بے روزگاری

Updated: June 21, 2022, 11:23 AM IST | Mumbai

اگنی پتھ‘‘اسکیم جولائی سے جاری ہوجائے گی۔ حالانکہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جو نوجوان مظاہروں میں شریک تھے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 ’’اگنی پتھ‘‘اسکیم جولائی سے جاری ہوجائے گی۔ حالانکہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جو نوجوان مظاہروں میں شریک تھے اُنہیں اگنی پتھ کے ذریعہ فوج میں ملازمت حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا جائیگا مگر جو لوگ تقرری کیلئے نوجوانوں کا انتخاب کریں گے اُن کے پاس تمام مظاہرین کی تصویریں تو ہیں نہیں، اس لئے عین ممکن ہے کہ مظاہرہ کرنے والے نوجوان بھی تقرری کیلئے عرضی دے دیں۔ انتخاب کار عملہ کس طرح اُنہیں روکے گا ، روکے گا بھی یا نہیں، یہ کہنا مشکل ہے مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو اعتماد میں لینے کا موقع گنوا دیا۔ تمام مظاہرین تشدد برپا کرنے والے نہیں تھے۔ تشدد چند ایک نے برپا کیا ہوگا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت نے ان نوجوانوں (غیر متشدد) نوجوانوں کے جذبات کو نہیں سمجھا۔ انہیں شکوہ اس بات کا تھا کہ اُن کی اب تک کی محنت رائیگاں چلی گئی۔ وہ خود کو ’’مکمل بھرتی‘‘ کیلئے تیار کررہے تھے۔مکمل سے مراد فوج کی وہ ملازمت جو پہلے جیسی ہوا کرتی تھی۔ جس میں سبکدوشی کی عمر تک خدمات کی انجام دہی کا موقع ملتا تھا،تنخواہ اور مراعات ملتی تھیں۔ 
 یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کا نوجوان طبقہ بے روزگاری سے پریشان ہے۔ اتنا پریشان کہ صرف پریشان کہہ دینے سے اس کی پریشانی کا احاطہ نہیں ہوتا۔ورلڈاکنامک فورم نے اسے ’’دور تک پھیلی ہوئی نوجوانوں کی مایوسی‘‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ مایوسی ہندوستان کے معاشی استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ فورم کے اس تبصرہ سے قبل سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکنامی کے ظاہر کردہ اعداددوشمار اور بے روزگاری کی شرح سے وقتاً فوقتاً ملک میں نوجوانوں کی حالت زار کا منظرنامہ سامنے آتا رہا۔ پڑھے لکھے نوجوانوں میں بھی بے روزگاری کم نہیں ہے لہٰذا کم پڑھے لکھے اور ناخواندہ لوگوں کے روزگار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ لوگ جو شہر چھوڑ کر گاؤں چلے گئے اور زراعتی کاموں میں مصروف ہوگئے، وہ مایوس ہوکر ہی لوَٹے ہیں۔ مگر وہ پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ گاؤں جاکر اور زراعتی کاموں سے وابستہ ہوکر اُنہیں تھوڑی بہت یافت تو ہونے لگی، جو گاؤں واپس نہیں جاسکتے تھے اُن کے پاس تو یہ متبادل بھی نہیں تھا۔ اب بھی نہیں ہے۔ وہ کہاں جائیں؟  بے روزگاری کو ۴۵؍ برس میں سب سے زیادہ کی شرح تک پہنچے ہوئے بھی کافی وقت ہوچکا ہے۔ حکومت نے اتنے وقت میں بھی روزگار کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ یاد رہنا چاہئے کہ جو لوگ بے روزگار ہیں وہی پریشان ہوں ایسا نہیں ہے بلکہ پریشان حال لوگوں میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو (۱) کم معیاری یا غیر معیاری ملازمت پر اکتفا کررہے ہیں اور (۲) جنہیں تنخواہ تو مناسب ملتی ہے مگر وہ اپنے کام (جاب پروفائل) سے مطمئن نہیں ہیں۔ چھوڑ دیں تو دوسری ملازمت نہیں ملے گی۔ معیشت میں روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہوں تو لوگ اپنی پسند کی ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، اُنہیں یہ خطرہ نہیں رہتا کہ ایک کمپنی یا فرم سے علاحدہ ہوگئے تو دوسری کمپنی یا فرم میں نوکری نہیں ملے گی۔ جب اس طرح کی صورت حال ہوتی ہے تو کام کرنے والے پوری توانائی اور دلچسپی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے پیداواریت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار اس جانب توجہ دینا نہیں چاہتے اور یہی مسئلہ ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم سمجھتے کم ہیں، سمجھاتے زیادہ ہیں۔ سا بقہ حکومتوں میں بھی یہی رجحان تھا۔

youth Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK