کیا حق مانگنے کا بھی حق نہیں ہے؟

Updated: February 02, 2022, 9:12 AM IST | Pervez Hafeez | Mumbai

متنازع شہریت قوانین کے خلاف شاہین باغ کی خواتین کے احتجاج اور نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے آندولن جیسی پرامن اور جمہوری تحریکوں کو کچلنے کے لئے جس طرح کے اقدام کئے گئے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکار کو شہریوں کے حقوق کے مطالبہ سے کس قدر چڑ ہے۔

Agricultural Laws.Picture:INN
زرعی قوانین۔ تصویر: آئی این این

نریندر مودی کو اس بات کا دکھ ہے کہ ہندوستانی شہریوں نے  پچھلے ۷۵؍ برسوں میں اپنے فرائض کو فراموش کر کے سدا اپنے حقوق کی بات کی ہے جو وزیر اعظم کی نظر میں ’’قومی اور معاشرتی برائی‘‘ ہے۔ مودی جی کو لگتا ہےکہ ۷۵؍ برسوں سے حقوق کی بات کرکے اور ان حقوق کی حصولیابی کے لئے ’’لڑ جھگڑ کے‘‘ اور اپنے فرائض سے پہلو تہی کرکے شہریوں نے نہ صرف اپنا اور اپنے ملک کا قیمتی وقت گنوایا بلکہ  ہندوستان کو کمزور بھی بنادیا۔  مودی جی  نے ۲۰۱۸ء  میں بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کئے بغیر صرف حقوق کا مطالبہ کرنا آئین کی بنیادی اسپرٹ  کے منافی ہے۔ اگر شہریوں کے فرائض اتنے ہی اہم ہوتے تو آئین کے معماروں نے انہیں نظر انداز کیوں کیا ہوتا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ملک کا آئین بنا تھا اس وقت صرف شہریوں کے بنیادی حقوق اس میں درج تھے؟ بنیادی فرائض آزادی کے تیس سال بعد ۱۹۷۶ء  میں اس وقت آئین میں جوڑے گئے جب ملک میں ایمرجنسی نافذ تھی اور شہریوں کی آزادیاں سلب کر لی گئی تھیں۔ متعدد دیگرموضوعات کی طرح شہری حقوق اور فرائض کے متعلق مودی جی کا فرمان بھی نقائص سے عاری نہیں ہے۔ اپنے حقوق کا علم رکھنے اور ان حقوق کی حفاظت کرنے والے باشعور شہری کسی جمہوری ملک کے استحکام اور استقامت کے ضامن ہوتے ہیں۔ شہریوں کی اپنے حقوق سے بے نیازی اور ریاست کے ذریعہ شہریوں کے حقوق کی پامالی سے ملک کمزور ہوتا ہے۔ مودی جی کا یہ کلیہ بھی غلط ہے کہ حقوق کی بات کچھ حد تک کچھ وقت کے لئے اورچند مخصوص صورت حال میں ہی صحیح ہوسکتی ہے۔ جس طرح حق بات ہر حالت میں صحیح ہوتی ہے اسی طرح حق کی بات بھی ہر حالت میں صحیح ہے۔ مودی جی کی اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا ہے کہ ملک کے تئیں شہریوں کی ذمہ داریاں بھی ہیں لیکن ان کا یہ آدیش قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے کہ شہریوں کے نزدیک فرائض کی اہمیت حقوق سے زیادہ ہونی چاہئے۔ سچ تو یہ ہے کہ شہریوں کے فرائض نہیں بلکہ ان کے حقوق پر جمہوریت کی بنیاد ٹکی ہے۔    فرائض پر زیادہ زور کسی جمہوری نظام میں نہیں بلکہ شخصی آمریت یا بادشاہت میں دیا جاتا ہے۔ شہریوں اور رعایا میں فرق یہ ہے کہ شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں جن کی ضمانت انہیں ملک کا آئین فراہم کرتا ہے جبکہ رعایا کو حقوق نہیں مراعات ملتی ہیں جو بادشاہ وقت کی نظر عنایت کی مرہون منت ہوتی ہیں۔جارح قوم پرستی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو درکنار کرکے اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دیں۔ مودی جی کا یہ کہنا کہ حقوق پر زیادہ توجہ اور فرائض سے عدم توجہی نے ملک کو کمزور کیا ہے شاید ان کی اس دلی تمنا کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت کو اتنی زیادہ طاقت اور اتنا زیادہ اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ اس کے فیصلوں پر کسی کو سوال کرنے کی جرأت نہ ہو۔ متنازع شہریت قوانین کیخلاف شاہین باغ کی خواتین کے احتجاج اور نئے زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کے آندولن جیسی پرامن اور جمہوری تحریکوں کو کچلنےکیلئے جس طرح کے اقدام کئے گئے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکار کو شہریوں کے حقوق کے مطالبہ سے کس قدر چڑ ہے۔ شہریوں کو اپنے فرائض اگر یاد نہ ر ہیں تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا ہے۔  مصیبت تو تب آتی ہے اگر سربراہ مملکت اپنے فرائض اور ذمہ داریاں بھول جائے۔بیک جنبش قلم نوٹ بندی کے نفاذ اور پچھلے دروازے سے زرعی قوانین پاس کرالینے جیسے اقدام کرتے وقت حکومت نے اگر ان کے نتائج کا اندازہ لگا لیا ہوتا توکروڑوں شہریوں کو اتنے مصائب کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی سیکڑوں مظلوموں کی جانیں جاتیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ فیصلے کرتے وقت حکومت نے  اپنے فرائض منصبی کو یکسر فراموش کردیا تھا۔  اگر انہوں نے نسلی امتیاز اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند نہ کی ہوتی اور طویل عرصے تک تحریک نہیں چلائی ہوتی تو کیا کالوں کوامریکہ میں برابری کا درجہ حاصل ہوگیا ہوتا؟ مغرب میں شہریوں کے حقوق کی کتنی حرمت ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کورونا کی ویکسین کو لازمی قرار دینے اورلاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں کی مخالفت میں ہزاروں لوگ کینیڈا کی راجدھانی اوٹاوا میں سڑکو ں پر اتر آئے۔ ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ کینیڈین حکومت کے یہ اقدام تو عوام کے فائدے کے لئے ہیں اور کوئی پاگل ہی ان کی مخالفت کرسکتا ہے لیکن مظاہرین کا موقف یہ ہے کہ لازمی ٹیکہ کاری یا لاک ڈاؤن ان کی شہری آزادی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ مظاہروں کے سبب نارمل زندگی درہم برہم ہوگئی اس کے باوجود کینیڈا کی پولیس نے نہ تو مظاہرین پر گولیاں برسائیں اور نہ ہی حکومت نے انہیں وطن دشمن قرار دیا۔ اب ذرا یاد کیجئے یوپی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس نے اورکووڈ کی دوسری لہر کے وقت آکسیجن کی عدم موجودگی کی شکایت کرنے والوں کے ساتھ انتظامیہ نے کیا سلوک کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ تاناشاہوں کو عوام کے حقوق کے مطالبے سے خوف آتا ہے اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہوجائیں اور پوری تندہی سے صرف اپنا فرض نبھاتے رہیں۔ ہندوستانی شہریوں کا یہ برین واش کیا جارہا ہے کہ سچی وطن پرستی کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کریں اورایک سچے دیش بھکت کی یہ نشانی ہے کہ وہ حکومت کے تمام فیصلوں کو بلا چوں چراں تسلیم کرلے۔جس تقریر میں مودی جی شہریوں کے حقوق اور فرائض پر اپدیش دے رہے تھے اسی تقریر میں انہوں نےیہ بھی دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے امیج کو مسخ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم کا اشارہ غالباً ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی فرقہ وارانہ منافرت پرعالمی میڈیا میں ہورہی بے پناہ تنقیدوں کی جانب تھا۔ اب تو بات صرف میڈیاکے مضامین تک محدود نہیں رہ گئی ہے۔ Genocide Watch جیسے معتبر عالمی ادارے کے سربراہ گریگری اسٹینٹن نے حال میں امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے یہ وارننگ دی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام کاپوراپورا خطرہ موجود ہے۔ان کی وارننگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے ۱۹۹۴ءمیں روانڈا میں ہوئے قتل عام کی پیشن گوئی ۱۹۸۹ء میں ہی کردی تھی۔ کبھی دہلی کے جنتر منتر پر تو کبھی ہری دوار میں، کبھی رائے پور میں تو کبھی پریاگ راج میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے نہ صرف ملک کے شہریوں بلکہ پولیس اور فوج تک کو لگاتار اکسایا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کو ملک کے اندر آئین اور قانون کی اس طرح کھلے عام دھجیاں اڑائے جانے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ انہیں افسوس اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی میڈیا میں ان کی رپورٹنگ ہورہی ہے۔ اب امریکی میڈیا سے اپنے گودی میڈیا جیسی تابعداری کی توقع تو نہیں کی جاسکتی ہے نا۔ویسے بھی ہندوستان کے امیج کو دھچکا سنتوں کا چولا پہنے زہر اگلتے ان پاکھنڈیوں سے پہنچ رہاہے ہیں، اسٹینٹن جیسے انسانیت نواز امریکی اسکالر اورنیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے دیانت دار صحافیوں سے نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK