• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نمازِ جمعہ اور خطبۂ جمعہ شعائر ِاسلام میں سے ہیں

Updated: February 09, 2024, 2:27 PM IST | Sohail Bashirkar | Mumbai

خطبۂ جمعہ کو اس قدر غور سے سننے کی تلقین کی گئی ہے کہ ’’کہا گیا ہے کہ اگر کوئی دوران خطبہ شور کرے تو اس کو یہ کہنا کہ چپ ہوجاؤ بھی مناسب نہیں۔ ‘‘ ظاہر ہے خطبۂ جمعہ کی کافی اہمیت ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے خطبۂ جمعہ کو وہ مرکزی اہمیت نہیں دی۔

Understanding the importance of Friday sermons, this effective system should be utilized
جمعہ کے خطبات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس موثر نظام سے استفادہ کیا جائے۔ تصویر : آئی این این

خطبۂ جمعہ کو اس قدر غور سے سننے کی تلقین کی گئی ہے کہ ’’کہا گیا ہے کہ اگر کوئی دوران خطبہ شور کرے تو اس کو یہ کہنا کہ چپ ہوجاؤ بھی مناسب نہیں۔ ‘‘ ظاہر ہے خطبۂ جمعہ کی کافی اہمیت ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے خطبۂ جمعہ کو وہ مرکزی اہمیت نہیں دی۔ ایک متفق علیہ حدیث ہے؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ’خاموش ہو جاؤ‘ تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی۔ ‘‘ فرشتے اس شخص کا نام اپنے رجسٹر میں نہیں لکھتے ہیں جو خطبۂ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد آئے۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہردروازے پرفرشتے کھڑے ہوکر پہلے آنے والے کو پہلے لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آنے والا شخص اس کی طرح ہے جس نے اونٹ قربان کیا ہو، اس کے بعد اس کی طرح ہے جس نے مینڈھا قربان کیا، پھر اس کے بعد آنے والا اس کی طرح ہے جس نے مرغی قربان کی ہو۔ پھر اس کے بعد آنے والا اس کی طرح ہے جس نے انڈا صدقہ کیا ہو، اور جب امام نکلے اور منبر پرپہنچ جائے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ کر ذکر سننے آجاتے ہیں۔ ‘‘ (مسلم، ۸۵۰)
جس قوم کے پاس خطبۂ جمعہ جیسا مؤثر نظام ہو، اس کی بنیادی اقدار بہترین ہونی چاہئیں۔ وہ بہت زیادہ Update ہونے چاہئیں۔ آج کے دور میں میڈیا کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے پاس میڈیا نہیں ہے، لیکن خطبۂ جمعہ متبادل میڈیاکا کام دے سکتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ اپنے اصحاب کی جن ذرائع سے تربیت کرتے ان میں خطبۂ جمعہ کا کلیدی مقام تھا۔ جب اسلام عرب سے باہر پھیل گیا تو خطبۂ جمعہ کو مؤثر بنانے کے لئے علما نے یہ طریقہ اپنایا کہ دو خطبوں سے پہلے مقامی زبان میں تقریر ہوتی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اکثریت یہ تقریر نہیں سنتی۔ بیشتر لوگ خطبۂ جمعہ ہونے سے چند منٹ پہلے مسجد پہنچتے ہیں۔ اس طرح اس تقریر کی افادیت آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ لوگ تیسرے خطبہ کو خطبۂ جمعہ میں شامل نہیں سمجھتے، تاہم خطبۂ جمعہ کی اہمیت ان کے نزدیک برقرار ہے اور وہ خطبہ کی اذان شروع ہونے سے ٹھیک پہلے مسجد پہنچ جاتے ہیں۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ بہت سی جگہوں پر پہلا خطبہ مقامی زبان میں دیا جاتا ہے، جس سے لوگوں کی رہنمائی بھی ہو جاتی ہے۔ 
نمازِ جمعہ اور جمعہ کے خطبے اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہیں، جن کا مقصد لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جمعہ کا اہتمام ہو، ہر بستی میں ایک ہی وقت خطبۂ جمعہ ہو۔ سب دوکانیں، کاروباری ادارے اور دفاتر اس وقت بند ہوجائیں اور پوری بستی کو یہ محسوس ہو کہ آج جمعہ ہے۔ اس کے بعد امام صاحب پہلا خطبہ مقامی زبان میں دیں اور دوسرا خطبہ عربی زبان میں دیں، اس طرح شعائر اسلام کی تعظیم ہو سکتی ہے۔ ورنہ یہ ہوتا ہے کہ آدھے لوگ اس مسجد میں جاتے ہیں جہاں ابتدائی وقت میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے اور آدھے لوگ وہاں جاتے ہیں جہاں آخری وقت خطبۂ جمعہ ہوتا ہے، اس طرح جمعہ کا اہتمام کہیں نظر ہی نہیں آتا۔ اب تو زیادہ تر مساجد کے ذمہ داران اس وجہ سے ابتدائی وقت میں خطبۂ جمعہ رکھتے ہیں تاکہ وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ نماز کے لئے آئیں اور مسجد کے لئے امداد بھی فراہم ہوسکے۔ بہرکیف، اہمیت اس بات کی ہے کہ نمازِ جمعہ کا اہتمام نظر آنا چاہئے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں :
’’مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید وفروخت ترک کردو، اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ‘‘ (الجمعة:۹)۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ’’اذان جمعہ کے بعد خرید وفروخت حرام ہے۔ ‘‘ امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں :’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ کار یہ تھا کہ آپؐ دیگر ایام کے مقابلے میں مخصوص عبادتوں کے ذریعے جمعہ کے دن کی تعظیم وتکریم کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ جمعہ کا دن افضل ہے یا عرفہ کا دن۔ ‘‘(زاد المعاد، ۱/۳۷۵)۔ اب، جبکہ یہ بات واضح ہے کہ خطبات ِ جمعہ کی اتنی زیادہ اہمیت ہے تو پھر خطیب مسجد کی ذمہ داری بھی اسی حساب سے بڑھ جاتی ہے، تاکہ اس ہفتہ وار پروگرام سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ بہتر یہ ہے کہ علاقے میں اہلِ علم کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ہر جمعہ کو یہ طے کریں کہ اگلے جمعہ کو ہر مسجد میں کس موضوع پر خطبہ ہو؟ کاش یہ ہو کہ اہلِ علم ہر ہفتے ائمہ حضرات کو خطبۂ جمعہ کے لیے مواد فراہم کریں۔ خطبۂ جمعہ مختصر مگر جامع ہو۔ موجودہ حالات میں جب امت مسلمہ رسوم ورواج میں پھنسی ہوئی ہے، ضرورت ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کی جائے۔ جب رزقِ حلال کے حوالے سے بیداری کی کمی ہو تو ضرورت ہے رزق حلال پر زور دیا جائے۔ رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی، اور ناپ تول پر کمی پر خطبہ دیا جائے تاکہ لوگ ان رذائل سے محفوظ رہیں۔ اسلام نے معاشرتی مسائل پر کھل کر اور تفصیلی بات کی ہے۔ ضرورت ہے کہ معاشرتی مسائل کو بھی موضوع بنایا جائے۔ بغض، حسد، کینہ اور غیبت کیخلاف جو وعیدیں آئی ہیں اُن کے بارے میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کی غرض سے خطبۂ جمعہ بہترین پلیٹ فارم ہے، کاش ہم اسے زیادہ سے زیادہ مؤثر بنائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK