مہنگائی، بے روزگاری بمقابلہ گیان واپی

Updated: May 18, 2022, 11:07 AM IST | Mumbai

بنارس کے ایک ہی احاطہ میں گیان واپی مسجد اور وشوناتھ مندر کی موجودگی ملک کے سیکولرازم کی جیتی جاگتی علامت ہے مگر جو لوگ بھائی چارہ کی اس علامت کو وسیع النظری اور وسیع القلبی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے، اُنہیں کچھ نہ کچھ سوجھتا رہتا ہے۔

Gyanvapi Masjid.Picture:INN
گیان واپی۔ تصویر: آئی این این

بنارس کے ایک ہی احاطہ میں گیان واپی مسجد اور وشوناتھ مندر کی موجودگی ملک کے سیکولرازم کی جیتی جاگتی علامت ہے مگر جو لوگ بھائی چارہ کی اس علامت کو وسیع النظری اور وسیع القلبی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے، اُنہیں کچھ نہ کچھ سوجھتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایودھیا کے ساتھ کاشی اور متھرا کو بھی جوڑا۔ عدالتی حکم سے ایودھیا حاصل ہوجانے کے بعد ان کی توجہ کاشی اور متھرا پر مرکوز ہے۔ گیان واپی مسجد کے خلاف محض چند دنوں میں جتنے واقعات رونما ہوگئے اُن سے احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ منظم تھا، پہلے سے طے شدہ تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایودھیا تنازع کے فیصلے اور پارلیمنٹ میں بنائے گئے قانون کے باوجود کہ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے کی تمام عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی اور اِن کے خلاف کوئی دعویٰ دائر نہیں کیا جاسکے گا، مقامی عدالت نے نہ صرف یہ کہ فریق ِ مخالف کی سنی بلکہ سروے کا بھی حکم دے دیا۔ اتنا ہی نہیں، مسجد انتظامیہ کی اس التجا کو مسترد کردیا کہ سروے کیلئے مقرر کئے گئے کمشنر (اجے مشرا) کو تبدیل کیا جائے۔ اب گزشتہ روز کے اس فیصلے سے کہ کمشنر کو ہٹایا جائے، یہ واضح ہوگیا ہے کہ مسلم فریق کی بے اطمینانی درست تھی، یہ الگ بات کہ کمشنر کو ہٹانے کیلئے دیگر وجہ (سروے کے جزوی افشاء ) کو بنیاد بنایا گیا ہے۔  سروے کی سرگرمی کی تصویر کشی یا ویڈیو گرافی اور اس کا سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام تک پہنچنا عدالت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے جیسا ہے اس لئے اجے مشرا کا ہٹایا جانا اچھا قدم ہے جس سے اُمید بندھتی ہے کہ سپریم کورٹ عبادت گاہوں کی حیثیت برقرار رکھنے کے ۱۹۹۱ء کے فیصلے کی خلاف ورزی کو بھی ملحوظ رکھے گا اور نچلی عدالت کی جلد بازی کو بھی جس کے تحت مسجد کے حوض کو محض اس دعوے پر کہ وہاں سے ایک ہندو مذہبی علامت ملی ہے سیل کرنے کا حکم جاری کیا گیا اور صرف ۲۰؍ مصلیان کو نماز کی اجازت دی گئی (اسے سپریم کورٹ نے بدل دیا ہے)۔ اس کیس کی مزید تفصیلات کا جائزہ لے لیا جائے تب بھی یہی محسوس ہوگا کہ سب کچھ منظم ہے اور یہ اسلئے ہے کہ ملک کے عوام انہی معاملات میں اُلجھے رہیں اور بے روزگاری نیز مہنگائی کی نہایت تشویشناک صورتِ حال کے خلاف آواز نہ اُٹھائیں۔ کوشش یہ بھی ہے کہ ملک کے دو بڑے فرقوں کے درمیان، جو زمانۂ قدیم سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے آئے ہیں، تسلسل کے ساتھ کشیدگی رہے اور کوئی بھی واقعہ اتنا سرسری، کمزور یا کشش سے عاری نہ ہو کہ عوام اس میں دلچسپی نہ لیں۔ اسی لئے ہر واقعہ میں آپ کو پرتیں اور گھماؤ بھی ملے گا اور ’’مسالہ‘‘ بھی۔ اس کا ایک اور مقصد ہے۔ وہ ہے قومی میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلوں کو مواد فراہم کرنا تاکہ وہ ایک خاص نقطۂ نظر سے عوام کا ذہن بدلنے نیز اُن کی توجہ ہٹانےپر مستقلاً مامور رہیں۔ اسی سے ملتا جلتا دوسرا مقصد سوشل میڈیا کو بھی چارا فراہم کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے ملک کا بھلا نہیں ہوسکتا۔ اس خلفشار کی وجہ سے ہم نہ تو معاشی بحران سے باہر آسکیں گے نہ ہی معیشت کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرسکیں گے۔گیان واپی مسجد کے تعلق سے گزشتہ چند دنوں کے واقعات سے گمان گزرتا ہے کہ اس کیس کو ایودھیا کیس کے راستہ پر لے جانے کی کوشش ہورہی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے اور ملک کو نئے ’’ مسجد مندر تنازع‘‘ سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK