Updated: October 15, 2026, 2:22 PM IST
| Mumbai
ملک بھر میں آئین، جمہوریت اور وطن کے تحفظ کی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ ان مظاہروں میں نوجوانوں کا جوش، ہوش، صبر اور عدم تشدد کا جذبہ نمایاں ہے، جبکہ بزرگ اور سینئر رہنما بھی ان کی رہنمائی کررہے ہیں۔ امتحانات کے لیے متحد ہونے والی نئی نسل اب وطن، آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے میدان میں ہے۔
یقیناً آپ بھی اس کیفیت کو محسوس کررہے ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورے ملک میں توانائی دوڑ رہی ہے۔ ہر طرف جوش و خروش ہے۔ مایوسی اُمید میں بدل رہی ہے اور اُمید یقین کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔ روزانہ آئین کی باتیں ہورہی ہیں۔روزانہ ترنگا لہرایا جارہا ہے۔ روزانہ جمہوریت کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا جا رہا ہے۔ روزانہ آئین کا اور جمہوریت کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ ’’سرفرشی کی تمنا....‘‘ کی گونج ہر جانب ہے۔ ’’انقلاب زندہ باد‘‘کی بازگشت ہر جانب ہے۔ اس کی وجہ سے جدوجہد آزادی کے دور کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔’’ بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت‘‘ یا ’’مَیں نہیں مانتا‘‘ جیسے مصرعے گونج رہے ہیں۔ ’’ہر زور ظلم کی ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے‘‘ سے پہاڑ جیسا عزم منعکس ہورہا ہے۔ سیاسی چہرے اتنے نمایاں نہیں ہیں جتنے غیر سیاسی چہرے۔ گاندھی کے فلسفہ ٔ عدم تشدد کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے۔ ہِنسا کے سامنے اہنسا کی مثال قائم کی جارہی ہے۔ سنتے آئے تھے کہ نوجوان گرم ہوتا ہے۔ اس میںہوش کم اور جوش زیادہ ہوتا ہے مگر یہاں ہزاروںایسے نوجوان ہیں جن میں جتنا جوش ہے اُتنا ہی ہوش بھی ہے۔ جوش بھی مثبت اور تعمیری ہے۔ ٹکرانے اور سبق سکھانے والا تخریبی جوش نہیں ہے۔ کتنی بڑی بات ہے یہ! قابل ذکر یہ بھی ہے کہ یہ نوجوان قانون ہاتھ میں نہیں لیتے۔ جبر کا جواب صبر سے دیتے ہیں۔ پٹتے ہیں مگر ہاتھ نہیں اُٹھاتے۔ یہ آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ یہ اپنے غیر سیاسی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے اپنے وطن، آئین اور جمہوریت کے تئیں ان کی فکرمندی کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ بھی روزانہ کا مشاہدہ ہے کہ نوجوانوں کی سرپرستی پختہ عمر کے لوگ کررہے ہیں۔ جنریشن گیپ تو جیسے بھاپ بن کر اُڑ گیا۔ اگر نوجوانوں میں ابھیجیت دِپکے، سورو داس، آشوتوش رانکا، نیہا بورا، رتنا سنگھ اور ایسے ہی بہت سے نوجوان ہیں تو ان کی پشت پناہی اور سرپرستی کیلئے سینئرس کی ایک فوج ہے جس میں یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، کپل سبل اور کانگریس نیز اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں کے لیڈر ہیں۔ کسی نے سوچا نہیں تھاکہ حالات اس طرح تغیر پزیر ہوں گے۔ کسی نے سوچا نہیں تھاکہ مخالف ہواؤں کا زور اس طرح ٹوٹے گا۔ کسی نے سوچا نہیں تھا کہ ایک خاص آئی ٹی سیل کی بولتی بند ہوجائیگی۔ کسی نے سوچا نہیں تھا کہ ہر معاملے میں فرقہ پرستانہ انداز میں بولنے والوں کو چپ لگ جائیگی اور اپوزیشن کا مذاق اُڑانے والے اس ڈر سے خاموش ہوجائینگے کہ کہیں اُن کا مذاق نہ اُڑ جائے۔ فضا بدلی ہوئی ہے۔ حالات بدلے ہوئے ہیں۔ شہر شہر مظاہرے ہیں۔ ان میں پیش پیش نسل وہ ہے جسے یہ کہہ کر نظر انداز کیا جاتا تھا کہ ’’ابھی بچے ہیں۔‘‘ بلاشبہ یہ بچے ہیں مگر ان کی ہوشمندی دیکھئے، صبر دیکھئے، ہمت اور حوصلہ دیکھئے، وطن دوستی دیکھئے (جارحانہ وطن پرستی کا منہ چڑاتی ہوئی وطن دوستی) اور ان کی باخبری دیکھئے۔ اب سے پہلے یہ امتحانات کو بچانے کیلئے یکجا ہوئے تھے، اس بار وطن کو بچانے کیلئے نکلے ہیں۔ خدا ان کی حفاظت فرمائے۔