Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

Updated: March 10, 2026, 1:25 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

ٹرمپ اور دیگر امریکی اہل اقتدار کے بیانات میں جتنا دم نہیں ہے اتنا ایران کے جوابی بیانات میں ہے۔ واشنگٹن نے مذاکرات کا دعویٰ کیا، تہران نے بلاتاخیر جواب دیا کہ مذاکرات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ واشنگٹن نے کہا کردوں کو زمینی جنگ کیلئے بھیجیں گے، تہران نے جواب دیا ہم انتظار کر رہے ہیں ۔

INN
آئی این این
  ٹرمپ اور دیگر امریکی اہل اقتدار کے بیانات میں  جتنا دم نہیں  ہے اتنا ایران کے جوابی بیانات میں  ہے۔ واشنگٹن نے مذاکرات کا دعویٰ کیا، تہران نے بلاتاخیر جواب دیا کہ مذاکرات کا سوال ہی نہیں  پیدا ہوتا۔ واشنگٹن نے کہا کردوں  کو زمینی جنگ کیلئے بھیجیں  گے، تہران نے جواب دیا ہم انتظار کر رہے ہیں ۔ واشنگٹن نے کہا سپریم لیڈر ہماری مرضی سے چنا جائے تہران کی طرف سے آواز آئی نیویارک کا میئر تو اپنی مرضی کا نہیں  لا سکے۔ ایران میدانِ جنگ ہی میں  نہیں  سفارتی سطح پر بھی امریکہ اور اسرائیل ایسی چنوتی دے رہا ہے جو برسہا برس یاد رکھی جائیگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ، جو ویتنام، عراق اور افغانستان سے ناکام اور رُسوا ہوکر واپس آیا تھا، ایران کے خلاف بھی ٹک نہیں  سکتا کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ کا جو ذخیرہ اس کے پاس ہے وہ گزشتہ صدی تک لڑی جانے والی جنگوں  کیلئے موزوں  تھا، اکیسویں  صدی کی جنگ پہلے سے کہیں  زیادہ تیز، مہین، زود اثر اور بے نقص تکنالوجی سے لڑی جانی جنگ ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔ ایسا اسلحہ چین کے پاس ہے جو درپردہ ایران کی مدد کررہا ہے۔ ایران جی پی ایس سسٹم استعمال نہیں  کرتا جو امریکہ کا ہے۔ وہ چین کا بائیڈو ( بی ڈی ایس) نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم استعمال کرتا ہے جو ۱۹۹۰ء کی دہائی میں  لانچ کیا گیا تھا اور گلوبل نیویگیشن میں  ایک موثر اور بڑی اکائی کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ یہ سسٹم فوجی کارروائی میں  بھی معاون ہے اور ڈرون کی رہنمائی میں  بھی بے داغ کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں  کہ ایران کم لاگت سے کم وقت میں  جتنے ڈرون اور میزائل تیار کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ویسی اہلیت امریکہ میں  نہیں  ہے۔ رہا اسرائیل تو اُس میں  زور کم ہے، شور زیادہ ہے۔ وہ ایران ہی نہیں ، دیگر خلیجی ملکوں  کی بھی ہمسری نہیں  کرسکتا مگر امریکہ بہادر کی وجہ سے بہادر بننے کی نقالی کرتا ہے۔
ایران کو روس کی بھی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس طرح چین اور روس امریکہ کی ان کوششوں  کو ناکام کرنے کیلئے کوشاں  ہیں  جو اکلوتی عالمی طاقت کے طور پر خود کو منوانا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں  واشنگٹن بار بار بے نقاب ہوا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں  کہ عالمی وسائل پر ان کا قبضہ ہو، دنیا کی ہر حکومت ان کی مرضی سے چلے حتیٰ کہ کسی ملک (ایران) کے سپریم لیڈر کے انتخاب میں  بھی ان سے پوچھا جائے۔  اس غیر فطری، غیر روایتی اور غیر سفارتی طرز عمل کی وجہ سے ٹرمپ اِس وقت چاروں  طرف سے گھرے ہوئے ہیں ۔ نیتن یاہو نے اُنہیں  اُکسایا اور ایران کو شاندار موقع فراہم کردیا کہ وہ خلیجی ملکوں  میں  اس کے ٹھکانوں  کو تباہ کردے۔ چین اور روس مشرق وسطیٰ میں  امریکہ کا اثر و رسوخ کم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس میں  شک نہیں  کہ دونوں  ممالک کھل کر سامنے نہیں  آ رہے ہیں  مگر ان کی مدد اور خود اپنے دم خم سے ایران نے اب تک کے دس دنوں  میں  ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ناکوں  چنے چبانے پر مجبور کیا ہے۔ جب میزائلوں  کا شور تھمے گا، منظرنامہ صاف ہو جائیگا کہ ایران نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے یا اس کے برعکس ہوا ہے۔ 
اس جنگ سے، جو اَب بھی جاری ہے اور ایران اسے روکنے پر آمادہ نہیں  ہے، امریکہ کی گرتی ساکھ اور اپنے جال میں  پھانس کر واشنگٹن کو تگنی کا ناچ نچانے کی تل ابیب کی مکاری اور چالبازی سامنے آتی ہے جو ویسے بھی چھپی ہوئی نہیں  تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK