ممبئی کی سڑکیں اتنی خراب کیوں ہیں ؟ اگر ہم اس کے عادی ہوچکے ہیں اور اس کو مقدر کا لکھا مان کر خاموش رہنا سیکھ گئے ہیں تب بھی ہمیں اُن سیاحوں کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے جو ممبئی کے دورہ پر آتے ہیں ۔ وہ کیا تاثر لے کر اپنے وطن واپس جاتے ہونگے۔
ممبئی کی سڑکیں اتنی خراب کیوں ہیں ؟ اگر ہم اس کے عادی ہوچکے ہیں اور اس کو مقدر کا لکھا مان کر خاموش رہنا سیکھ گئے ہیں تب بھی ہمیں اُن سیاحوں کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے جو ممبئی کے دورہ پر آتے ہیں ۔ وہ کیا تاثر لے کر اپنے وطن واپس جاتے ہونگے۔ یہی نا کہ ممبئی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا انفراسٹرکچر اتنا خراب، بعض اوقات دہلا دینے والا اور تھکا دینے والا ہوگا!
اکتوبر ۲۵ء میں بامبے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سڑکوں کی خستہ حالی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا، یہ شہری انتظامیہ اور حکومت کا فرض ہے کہ شہریوں کو اچھی سڑکیں فراہم کریں ۔ جسٹس ریواتی موہتے ڈیرے اور جسٹس سندیش پاٹل پر مشتمل عدالت کی ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ گڑھوں ، کھلے مین ہول اور خراب سڑکوں کی وجہ سے اموات اور حادثے معمول بن چکے ہیں اسلئے جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کی جوابدہی طے ہونی چاہئے۔ گڑھوں کی وجہ سے اگر حادثہ ہو تو لازم ہے کہ حکومت متوفی یا متوفین نیز زخمی یا زخمیوں کو معاوضہ دے۔ عدالت کے الفاظ میں : ’’جب تک ذمہ داروں کو جوابدہ نہیں بنایا جائیگا اور ان سے معاوضہ کی رقم وصول نہیں کی جائیگی تب تک وہ مسئلہ کی سنگینی کا احساس نہیں کر پائینگے۔‘‘
اس کے لئے عدالت نے مہلوکین کو ۶؍ لاکھ روپے تک اور زخمیوں کو ۵۰؍ ہزار تک معاوضہ دینے کا حکم دیا اور ایک گائیڈ لائن جاری کی تھی کہ کس طرح ایک کمیٹی تشکیل پائے جو معاوضہ کی رقم کا تعین کرے۔ یہ حکم مہاراشٹر میں سڑکوں کی حالت زار کے سبب بڑھتے حادثات نیز مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر داخل کی گئی عرضداشتوں کی سماعت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کے بعد ممبئی میونسپل کارپوریشن اور ریاستی حکومت سڑکوں کی خستہ حالی کے خلاف جنگی پیمانے پر ’’سڑک بناؤ‘‘ مہم جاری کرتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ سڑکوں کی درستی کے نام پر جو تماشا ہوتا ہے وہ بھی کم تکلیف دہ نہیں ہے۔
گڑھوں کو اس طرح بھرا جاتا ہے کہ اپنی اُبھری ہوئی سطح کے سبب یہ پیچ (پیوند) خود گڑھے جیسے ہوجاتے ہیں ۔ انہیں ہموار کرنا گویا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ گاڑی چلانے والے کل تک گڑھے سے بچنے کیلئے دائیں بائیں ہوتے تھے، اب سڑک کی ابھری ہوئی سطح سے بچنے کیلئے ہوتے ہیں جس سے ٹکرانے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ بعض سڑکوں پر تو اتنے پیوند ہیں کہ لگاتار کھڑ کھڑ دھڑ دھڑ ہوتی رہتی ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کی مذکورہ بنچ نے اپنے حکمنامے میں ممبئی کارپوریشن کی آمدنی کا بھی حوالہ دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ممبئی ملک کی مالی راجدھانی ہے جو محصولات کی شکل میں خطیر رقم بلدیاتی ادارہ ہی کو نہیں ، ریاستی اور مرکزی حکومت کو بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایشیاء کے کافی مالدار کارپوریشنوں میں سے ایک ہے۔ خراب سڑکوں کی وجہ سے انسانی جانوں ہی کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا، ان سے معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ سڑکیں محفوظ ہوں ۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب عدالت نے اتنا واضح فیصلہ اور حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے خود کہا تھا کہ ۲۰۱۵ء کے بعد سے اب تک کئی بار آرڈر پاس کئے گئے مگر مسئلے کا کوئی دیرپا حل نہیں نکالا گیا۔ واضح رہے کہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی بھی ہے کہ اس سے جان و مال کا خطرہ لاحق ہوتا ہے اور جان و مال کا تحفظ بنیادی حق ہے ۔