Inquilab Logo

اُردو اکیڈمی ایوارڈ حاصل کرنے والی خاتون مصنفین سے گفتگو

Updated: March 20, 2023, 1:20 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

عارفہ خالد شیخ ، رفیقہ نواب پلوکر ،شائستہ محمدی،رفعت النساء قادری اور ڈاکٹر اسماء بنت رحمت اللہ کو حال ہی میں ان کی کتابوں پر مہاراشٹر اردو اکیڈمی نے اعزاز سے نوازا ہے

photo;INN
تصویر :آئی این این



   اردو میں خاتون قلمکاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہےلیکن جو خواتین بھی اس میدان میں ہیں انہوں نے اپنی کاوشوں سے اپنی صلاحیتوں کا نہ صرف لوہا منوایا ہے بلکہ کئی معاملات میں مرد قلمکاروں کو پیچھے بھی چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں ایسی خاتون قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کیوں کہ انہیں  ادب سے کسی بھی طور الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اردو کی نشو و نما کے مراحل ہوں یا اردو کے مستحکم ہونے اور اپنے عروج کو پہنچنے کی بات ہو، خاتون قلمکاروں نے ہر جگہ مختلف صورتوں میں اپنے وجود کا اعلان کیا ہے۔  اس کالم میں ہم ایسی ہی چند خاتون قلمکاروں سے اپنے قارئین کو روبرو کروارہے ہیں جنہیں اردو زبان و ادب ، تحقیق و تدریس کے میدان میں حال ہی میں مہاراشٹر اردو اکیڈمی نے  ان کی کتابوں پر اعزاز سے نوازا ہے۔
عارفہ خالد شیخ 


  افسانچوں کی کتاب ’قوس قزح ‘ کی مصنفہ عارفہ خالد شیخ  یوں تو خاتون خانہ ہیں لیکن فکشن سے ان کا ناطہ برسوں پرانا ہے۔ انہیں قوس قزح کے لئے ہی اردو اکیڈمی کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ ان کی پہلی کتاب ہے اور اس پر ایوارڈ مل جانے پر کافی مسرت محسوس کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ پہلی ہی کتاب پر ایوارڈ ملنے کے بارے میں میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔ مجھے لگتا تھا کہ ابھی پہلی کتاب ہے مجھے اور پڑھنا لکھنا ہے لیکن اردو اکیڈمی کے ذمہ داران نے اس تخلیق کو اس قابل سمجھا یہ  احساس میرے لئے قابل فخر ہے۔‘‘ انہوں نے لکھنے کے لئے افسانچے ہی منتخب کرنے کےسوال پر کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ افسانچے میں اپنی بات اختصار کے ساتھ کہنا ایک فن ہے اور اسی لئے انہوں نے اس صنف کا انتخاب کیا۔ ملک کےصف اول کے افسانہ نگار سلام بن رزاق،  عارفہ خالد شیخ کے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ سلام صاحب کے افسانے پڑھ کرہی انہوں نے کسی موضوع کو فکشن میں برتنے کا سلیقہ سیکھا ہے۔  عارفہ صاحبہ   فی الحال ادب اطفال پر ایک کتاب ترتیب دے رہی ہیں جو جلد ہی منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔
رفیقہ نواب پلوکر 


  معروف کالم نگار رفیقہ نواب صاحبہ کو ان کی پہلی ہی کتاب’ اجالوں کے سنگ‘ پر اردو اکیڈمی نے اعزاز سے نوازا ہے۔یہ اصلاحی مضامین پر مشتمل کتاب ہے جس کے مشمولات کے بارے میں رفیقہ نواب  نے کہا کہ یہ مضامین کووڈ کے دور میں لکھے گئے ہیں اور مختلف میدانوں میں طلبہ کی اصلاح کو ذہن میں رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ رفیقہ نواب خود درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہ چکی ہیں اس لئے وہ جانتی ہیں کہ تعلیم کے میدان میں طلبہ کی ضروریات کیا ہیں اسی لئے  اس کتاب  میں صرف اصلاحی مضامین نہیں ہیں بلکہ درس و تدریس سے متعلق مضامین بھی ہیں۔ ویسے رفیقہ نواب پلوکر نے افسانے بھی تحریر کئے ہیں جبکہ  ان کی دوسری کتاب بہت جلد اشاعت کے مراحل سے گزرے گی۔ 
ڈاکٹر اسماء بنت رحمت اللہ 


 ڈاکٹر اسماء کی کتاب ’مطالعہ درسیات ‘ نہایت مختلف اور اچھوتے موضوع پر تیار کی گئی کتاب ہے جس کی حوصلہ افزائی اردو اکیڈمی کے ذمہ داران نے بھی ضروری سمجھی ۔یہ کتاب اساتذہ اور تعلیمی موضوع پر کام کرنے والوں کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ  ڈاکٹر اسماء کی پہلی ہی کتاب ہے اور اس پر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ’’ کسی تصنیف کو اعزاز سے نوازا جانا نہ صرف تصنیف بلکہ مصنف کی پذیرائی بھی ہے۔ادبی اداروں کا  ادب پاروں کو کسی ایوارڈ سے نوازنا  سند کا کا م دیتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ زبان و ادب میں یہ ادب پارہ کس گرانقدر اہمیت کا حامل ہے ۔ بچپن سے لے کر پی ایچ ڈی تک اللہ کے فضل سے کئی اعزازات حاصل ہوئے اور ہر اعزا ز خوشی و مسرت کا باعث رہا لیکن بحمد اللہ  میری پہلی تصنیف پر ہی مجھے’’مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی ‘‘جیسے معتبرو مؤقر ادارے کے ذریعے اعزاز سے نوازا جاناآج تک کے تمام علمی و ادبی کارناموں پر ملے اعزازات کو جہاں اعتبار کی سند پیش کرتا ہے وہیں مجھ طفل مکتب کو ادب کے میدان میں خدمت جاری رکھنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ ‘‘   ڈاکٹر اسماء  جو درس و تدریس سے وابستہ ہیں،کے مطابق اس کتاب میں درسیات سے متعلق وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک قاری کی ضرورت ہوتا ہے۔
شائستہ محمدی 


  ’نباتی سائنس ‘ معروف محقق شائستہ محمدی کی دوسری کتاب ہے اور اس پر انہیں اردو اکیڈمی نے اعزاز سے نوازا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب انہوں نے طلبہ کو ذہن میں رکھ کر تحریر کی ہے کیوں کہ سائنس اور بائیولوجی کے موضوع پر انگریزی میں تو کتابیں دستیاب ہیں لیکن اردو میں مواد بہت کم ملتا ہے۔ اسی لئے انہوںنے یہ کتاب تحریر کی ہے۔ شائستہ صاحبہ اورنگ آباد کی اسکول میں سپروائزر کے طور پر مامور ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اردو اکیڈمی سے ایوارڈ ملنا اعزاز کی بات ہے اور وہ اس کے لئے اکیڈمی کے ذمہ داران کا شکریہ اداکرنا چاہیں گی ۔  انہوں نے بتایا کہ وہ آگے بھی تحقیق کے میدان میں سرگرم عمل رہیں گی اورطلبہ کی ضرورت کے مطابق مزید کتا بیں ترتیب دیں گی۔ 
رفعت النساء قادری