زرعی قوانین کو سمجھے بغیر ان کی وکالت کیوں کی گئی؟

Updated: November 21, 2021, 7:21 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

حکمراں جماعت کے ہر فیصلے اور اعلان کے حامی آنکھ بند کرکے حمایت کرتے ہیں۔ انہیں نہ تو مضمرات کا علم ہوتا ہے نہ ہی مابعد اثرات کا۔ ان کا مقصد صرف ہمنوائی ہوتا ہے۔

Agricultural Laws
زرعی قوانین

دوطرح کے لوگوں نے وزیر اعظم کے اس اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ اسی ماہ کے اواخر میں منعقد ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں تین زرعی قوانین کو منسوخ کردیا جائیگا۔ ایک تو کسان ہیں جن کا تعلق بالخصوص پنجاب، ہریانہ اور اُترپردیش سے ہے۔ انہوں نے اس پر جشن بپا کیا کیونکہ یہ انہی کی مزاحمت تھی جس کے سبب اُنہیں شہری حقوق کی جدوجہد میں کامیابی ملی۔ دوسری قسم اُن لوگوں کی ہے جو وزیر اعظم کے اس اعلان کو ہضم نہیں کرپائے۔ ان کا تعلق متوسط طبقے اور میڈیا سے ہے۔ یہ لوگ کسان نہیں ہیں بلکہ وزیر اعظم کے حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک وزیر اعظم کے اعلان کے پس پشت ایک ایسا فیصلہ ہے جو قابل قبول نہیں ہے۔ یہ گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے۔
 ان دوسری قسم کے لوگوں کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ تین متنازع زرعی قوانین رہیں نہ رہیں اُن پر براہ راست کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان لوگوں نے یا ان جیسے لوگوں نے ’’اصلاح‘‘ (ریفارم) کو نہیں سمجھا کہ اس کا معنی کیا ہے۔ اس لفظ میں بڑی سیاسی قوت ہے کیونکہ جب اس کا استعمال کیا جاتا تو ایسا لگتا ہے کہ کچھ اچھا ہونے جارہا ہے۔یہ لفظ (ریفارم) موجودہ دور کے ایک اور لفظ کی طرح ہے جو سکہ رائج الوقت بن چکا ہے۔ وہ ہے خلل اندازی یا درہمی (ڈِسرپشن)۔ ریفارم کی طرح، اسے بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔
 انگریزی لغت کے مطابق ’’ریفارم‘‘ کا معنی ہے کسی چیز میں ایسی تبدیلی کرنا کہ اس کی ہیئت بہتر ہوجائے۔زرعی قوانین کے معاملے میں کسانوں کا کہنا تھا کہ ان کی وجہ سے اُن کی زندگی میں منفی تبدیلی رونما ہوگی، زرعی پیداوار کی خرید کا طریقہ بدلے گا اور زرعی پیداوار کی منڈیاں متاثر ہوں گی۔ وہ صحیح ہیں یا غلط، یہ الگ بحث ہے۔ مگر، یہ ریفارم یا اصلاح نہیں تھی۔ ریفارم اچھے مقاصد کیلئے ہوتا ہے اور ان مقاصد کیلئے بھی جو کسی ایک طبقے کیلئے اچھے نہیں ہوتے۔ یہ کلیہ ہے چنانچہ وہ لوگ جنہوں نے کبھی اے پی ایم سی مارکیٹ کا رُخ نہیں کیا، وہاں کے لین دین کا مشاہدہ نہیں کیا، جو باجرہ اور جوار کا فرق نہیں کرسکتے اور جو ’’آڑھتیوں‘‘ کے کام کاج سے واقفیت  نہیں رکھتے، وہ کیسے بتا سکتے ہیں کہ حکومت زرعی قوانین کے ذریعہ جن اصلاحات یا ریفارمس کا ارادہ رکھتی ہے اُن سے کسانوں کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟ اس کے باوجود یہ لوگ ریفارمس کی تائید کرتے رہے۔
 جو لوگ ریفارم سے براہ راست متعلق نہیں تھے انہیں ایک اور بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہندوستان میں، بالخصوص گزشتہ آٹھ سال کے ہندوستان میں، ریفارمس اور جرأتمندانہ کہلانے والے اقدام کے پس پشت ناقص منصوبہ بندی رہی ہے۔ ۸؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو کابینی وزراء کو کسی ’’بہت اہم موضوع‘‘ پر بات چیت کیلئے طلب کیا گیا تھا لیکن تمام وزراء سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنا موبائل فون ساتھ لے کر نہ آئیں۔ میٹنگ کے بعد، وزیر اعظم اچانک ٹی وی پر جلوہ گر ہوئے، اُنہوں نے قوم سے خطاب کیا اور یہ غیر متوقع اعلان کیا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ کالعدم ہوجائینگے۔ 
 چونکہ وزراء کو معلوم نہیں تھا کہ ایسا کوئی اعلان وزیر اعظم کرنے والے ہیں اس لئے اُن کی وزارتوں اور وہاں کے کارپردازوں کو بھی کسی طرح کا کوئی علم نہیں تھا۔ انہیں اتنا وقت بھی نہیں ملا تھا کہ وہ اس اعلان کے مضمرات کو سمجھیں، اس کے اثرات کا سامنا کرنے کی تیاری کریں، اس کے خطرات سے آگاہی حاصل کریں، مسائل کو سمجھیں یا حل کی تدابیر پر غور کریں۔ یہ سارے کام اُنہیں نوٹ بندی کے اعلان کے بعد کرنے پڑے۔ ہم میں سے بیشتر کو یہ معلوم ہے کہ سرکاری مشنری پر کیا گزری اور اس کے سبب عوام کو کن مصیبتوں سے گزرنا پڑا۔ 
 گزشتہ سال ۲۴؍ مارچ کی رات، ہندوستانی شہریوں کو بتایا گیا کہ اُنہیں آئندہ تین دنوں تک اپنے گھروں تک محدود رہنا ہے۔ بیشتر لوگوں کے پاس غذائی اجناس کا ذخیرہ تھا نہ ہی تین دن کیلئے کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے پیسے تھے۔ اس سال مارچ میں بی بی سی نے معلومات عامہ کی ۲۴۰؍ عرضیا ں داخل کیں۔ ان عرضیوں کے ذریعہ یہ جاننا مقصود تھا کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل کن وزارتوں سے صلاح مشورہ کیا گیا۔ عرضیوں کے جواب میں انہیں اطلاع ملی کہ کسی بھی وزارت سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ یہاں بھی ہمیں اچانک فیصلے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اس کے برخلاف، سری لنکا میں لاک ڈاؤن سے کئی دن پہلے تعمیراتی کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو موقوف کردیں اور مزدوروں میں غذا کی تقسیم کا جامع انتظام کریں۔ جب یہ تیاری مکمل ہوگئی تب ہی لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا۔ ہمارے ملک میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اب  آئیے   ڈسرپشن کی طرف۔ انگریزی لغت کے مطابق اس کا معنی ہے معمول کے حالات میں رونما ہونے والی یا کی جانے والی اچانک تبدیلی۔ اس کے معنی میں کسی چیز کو روکنا، بالخصوص کسی نظام یا طریق کار یا تقریب کو اس کے معمول کے مطابق جاری رہنے سے روکنا۔ ہمارے ملک کا متوسط طبقہ اور ذرائع ابلاغ اس لفظ کو بہتر معنی والا لفظ سمجھتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ کس خلل اندازی کا سماج کے کن طبقات پر کیا اثر پڑے گا۔
 اس معنی کی تفہیم کے سلسلے میں ایک اور مثال آدھار کارڈ کی ہے۔ میڈیا آدھار کو ایک ایسی دستاویز سمجھتا ہے جس سے غریبوں کو اشیائے ضروریہ کےحصول  میں آسانی ہوتی ہے جبکہ غریب طبقہ ہی جانتا ہے کہ نیٹ ورک نہ ہونے، فنگر پرنٹ کی توثیق نہ ہونے وغیرہ سے کتنے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔کیا آدھار بھی ریفارم تھا؟
 میرے اور مجھ جیسے لوگوں کیلئے نوٹ بندی کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھی کیونکہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال ہم پہلے سے کرتے آرہے تھے اور پیسوں یا اشیائے ضروریہ کا حصول مشکل نہیں تھا چنانچہ نوٹ بندی ہمارے لئے ڈسرپشن نہیں تھی مگر جن لوگوں کا دار و مدار نقدی پر تھا اُن پر کیا گزری یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ ریفارم ضروری نہیں کہ خوشگوار ہو اور ڈسرپشن کسی ایک طبقے کیلئے کچھ نہیں، دوسروں کیلئے بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK