اندھیری:۶۰؍سالہ قدیم مسجد شہیدکرنے سے مقامی افراد میں شدید ناراضگی

Updated: September 18, 2022, 11:07 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

زبردست پولیس بندوبست میںمسجد شہید کی گئی ۔ یہ وقف بورڈ میںرجسٹرڈ ہے اوروقف ٹریبونل میںمسجد کی منتقلی کے خلاف کیس کی سماعت بھی جاری تھی ۔وقف آفیسر نےمثبت یقین دہانی کروائی

At the time of the demolition of the 60-year-old mosque, an army of bulldozers was seen and the debris was also removed
؍ ۶۰سالہ قدیم مسجدکی شہادت کے وقت بلڈوزروں کی فوج نظرآرہی ہے اور ملبہ بھی ہٹادیا گیا

مدرسہ رحمتیہ تعلیم القرآن مسجد گوندیولی ، اندھیری (مشرق )کو سنیچرکی دوپہر بھاری پولیس بندوبست میںشہید کردیا گیا ۔پولیس کی جانب سےاتناسخت بندوبست کیا گیا تھا کہ کسی کوآنے جانے کی اجازت نہیںتھی اوربڑی بڑی پولیس کی گاڑیاں چاروں طرف کھڑی کردی گئی تھیں۔ دیکھنے سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے پولیس کوئی بہت بڑا معرکہ سَر کرنے گئی ہو ۔ 
 حیرت کی بات یہ ہے کہ مسجد کوصرف شہید ہی نہیںکیا گیا بلکہ اس کا ملبہ اور شہید کردہ مینا ر وغیرہ بھی آناً فاناً ہٹادیاگیا تاکہ کسی طرح کا نشان بھی دکھائی نہ دے ۔ 
 حالانکہ مقامی لوگوں کی جانب سےاس کی سخت مخالفت کی گئی اور وہ کسی صورت اس بات کے لئے آمادہ نہیں تھے کہ مسجد کوشہید کیا جائے ۔ اس کایہ نتیجہ ہوا کہ مخالفت کرنے والے چند نوجوانوں کو پولیس نےاپنی تحویل میںلے لیا ،جنہیں چھڑانے کے لئے لوگ پولیس اسٹیشن پہنچے۔
مسجد کاپورا معاملہ کیا ہے 
 دراصل اس علاقے میں ایس آراے کے تحت ڈیولپمنٹ کاکام چل رہا ہے ۔مسجد کے قریب کے مکانات پہلے ہی توڑ دیئے گئے تھے لیکن مسجد قائم تھی اور نمازادا کرنے کا سلسلہ جاری تھا ۔ اس مسجد کا ایریا تین ہزار ۴۴؍فٹ ہے جسے ایس آراے کے انیکشچر میں نمایاں کیا گیا اور اسے باقاعدہ نشان زد بھی کیا گیا ہے۔ لیکن مقامی لوگ کسی صورت مسجدکی منتقلی پر راضی نہیںتھے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس مسجد کے ۵؍ ٹرسٹیان میںسے بھی ۲؍رضا مند نہیں تھے ،یہی وجہ ہے کہ انہوںنے معاہدے پردستخط نہیںکئے ہیں۔ 
 مقامی لوگو ںکے مطالبے سے متفق مسجد کے ٹرسٹی ابراہیم محمدخان نےنمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ یہ مسجد ۸؍ماہ قبل وقف بورڈ میںرجسٹرکروائی گئی ہے جبکہ یہ تقریباً ۶۰؍سال پرانی ہے اور۵۰؍سال پرانا تو اس کا لائٹ بل ہے۔لیکن ہم نے اس کی منتقلی کےتعلق سے دستخط نہیںکیا ہے ۔‘‘ انہوںنے یہ بھی بتایاکہ’’ بلڈر کی جانب سے ایک چھوٹی جگہ جو تقریباً ایک ہزار اسکوائرفٹ کی ہوگی ، پر ۵؍منزلہ عمارت تعمیر کی گئی ہے اورکہا جارہا ہے کہ اسے شہید کردہ قدیم مسجد کے عوض دیا گیا ہے لیکن مجھے اس کا مکمل علم نہیںہے کہ وہ کس مقصد کے تحت تعمیر کی گئی ہے کیونکہ ہمیں اس سے اتفاق ہی نہیں ہے۔‘‘ ابراہیم محمدخان نےیہ بھی بتایا کہ ’’جہاں  مسجد کا متبادل نظم کرنے کاحوالہ دیا جارہا ہےوہاں راستہ وغیرہ اوردیگر سہولتیں بھی نہیںہیں۔ اسی بناء پرلوگوں میںشدید ناراضگی اوربے چینی پائی جارہی ہے۔‘‘
وقف ٹریبونل میںسماعت جاری تھی 
 اس مسجد کے قریب رہنے والے اسامہ قریشی نےمسجد نہ منتقل کی جائے ،جہاںہے وہیںقائم رہے ، اس کےلئے وقف بورڈ میںمقدمہ دائر کیا تھاجس کی سماعت جاری تھی لیکن فیصلہ آنے سے قبل ہی اسے شہید کردیا گیا۔‘‘ اسامہ قریشی نے بتایاکہ’’ وقف بورڈ کی جانب سے مسجد کو اپنی اصل حالت میں برقراررکھنے کا نوٹس بھی دیا گیا تھا اوراسٹے بھی لیکن بلڈر کی جانب سے اس کی کوئی پروانہیںکی گئی اوربھاری پولیس بندوبست کا سہارا لے کرمسجد شہیدکردی گئی ۔‘‘ انہوںنے بھی اس بات کاذکرکیا کہ ’’مسجد کے عوض جو۵؍ منزلہ عمارت بنائی گئی ہے وہ بیت الخلاء کے قریب ہے اوروہاں برادران وطن کی آبادی زیادہ ہے ، راستے کی دقت اوردیگرمسائل بھی ہیں اس لئے لوگ اس پر رضا مند نہیںتھے ۔‘‘
  اندھیری میں واقع مسجد کی منتقلی کے خلاف کوشاں رہنےوالو ںمیں شامل مبشر مرچنٹ نے کہاکہ ’’ ایک معاملہ جووقف ٹریبونل میں چل رہاتھا اورلوگ بلڈر کے ہمراہ ٹرسٹیان کے ذریعے کئے گئے معاہدے سے راضی نہیںتھے اس کے باوجود طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مسجد نہ صرف شہید کردی گئی بلکہ ملبہ بھی ہٹادیا گیا تاکہ کوئی نشان باقی نہ رہے ، یہ قانون کا مذاق ہے۔‘‘
وقف آفیسر نے معاملے کو دیکھنے کی یقین دہانی کروائی 
 وقف آفیسر عتیق احمدسے رابطہ قائم کرنے پران کاکہنا تھا کہ ابھی تین دن قبل ہی ممبئی میںان کا تبادلہ کیا گیا ہے اوران کو بھی مسجد کی شہادت کے وقت مقامی لوگو ںنے فون کیا ۔اس پر انہوں نے انہدامی کارروائی کرنے آئے افسران سے بات چیت کروانے کو کہا لیکن بات نہ ہوسکی۔ ‘‘ عتیق احمدنے یہ بھی کہاکہ ’’ اگر وقف بورڈ میںمسجد رجسٹرڈ ہے اور وقف ٹریبونل نے اسٹے یا نوٹس جاری کیا تھا تو ظاہرہےکہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ویسے یہ دیکھنا ہوگاکہ کس بنیاد پراسے شہید کیا گیاہے ۔ اس کے لئے میںاپنےڈیگل ڈپارٹمنٹ میں رابطہ قائم کرکے تفصیلات حاصل کروں گا۔اس بعدآگے کی کارروائی ہوگی اورصحیح معلومات بھی حاصل ہوسکے گی ۔‘‘ 
 مسجدکی منتقلی کی حمایت کرنےوالے ٹرسٹی احتشام سے انقلاب نےبات کرنے کی کوشش کی اورکئی مرتبہ فون کیا لیکن انہوںنے کوئی جواب نہیںدیا۔

mosque Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK