بوسنیا کے’قصائی کہلانے والےفوجی کمانڈرکی سزامعاف کرنے سےعدالت کا انکار آخری سانس تک قیدرکھنےکا حکم

Updated: June 10, 2021, 7:44 AM IST | washington

قوامِ متحدہ کی ایک عدالت نے ۱۹۹۵ء میں کوئی ۸؍ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کے قتلِ میں ملوث سابق بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کی اپنی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے

During the hearing, Ratko Mladic (Photo: Agency)
سماعت ےک دوران راتکو ملادچ ( تصویر: ایجنسی)

)قوامِ متحدہ کی ایک عدالت نے ۱۹۹۵ء میں کوئی ۸؍ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کے قتلِ میں ملوث سابق بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کی اپنی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔اُنھیں ۲۰۱۷ء میں نسل کُشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب پایا گیا تھا۔عدالت نے اُن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اُن کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ واضح رہے کہ سربرینیکا کا یہ علاقہ اقوامِ متحدہ کی زیر حفاظت دیا جانے والا تھا اس کے باوجود یہاں پر سرب فورس کی جانب سے مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا۔یہ دوسری عالمی جنگ سے لے کر اب تک یورپ میں ہونے والا بدترینِ قتلِ عام ہے جس کی ذمہ داری سربیائی فوج کے سربراہ راتکو ملادچ پر عائد ہوتی ہے۔
 یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ملادچ اپنی باقی قید کہاں گزاریں گے۔۵؍ افراد پر مشتمل اپیل پینل نے پایا کہ ملادچ اپنی سزاؤں کی منسوخی کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔ حالانکہ پینل کے صدر نے تمام نکات پر اختلافی نوٹ لکھا ہے۔تاہم اپیل چیمبر نے استغاثہ کی اپیل کو  مسترد کر دیا ہے جس میں ملادچ پر بوسنیائی مسلمانوں اور بوسنیائی کروئٹ افراد کے خلاف دیگر علاقوں میں جرائم پر ایک اور سزا کی درخواست کی گئی تھی۔
 یہ فیصلہ تکنیکی مشکلات کے باعث تاخیر کا شکار ہوا جو پورے سیشن کے دوران جاری رہیں۔ملادچ نے اگست میں اپنی اپیل کی سماعت کے دوران ٹریبونل کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی قوتوں کی پیداوار قرار دیا تھا۔ اُن کے وکلا نے دلیل دی کہ وہ قتلِ عام کے وقت سربرینیکا سے دور تھے۔بوسنیا کا ’قصائی‘ کہلانے والے ملادچ سابقہ یوگوسلاویہ میں اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل میں ٹرائل کا سامنا کرنے والے آخری ملزمین میں سے تھے۔ اُنھیں ۱۶؍ سال تک مفرور رہنے کے بعد ۲۰۱۱ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ۲۰۱۷ء میں اُنھیں سربرینیکا میں نسل کشی کا مرتکب پایا گیا مگر ۱۹۹۲ء میں اپنی فوج کے ہاتھوں ایک اور نسل کشی کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ اس مہم میں بوسنیائی کروئٹ اور بوسنیائی افراد کو اُن کے گھروں سے نکالا گیا اور بدترین حالات میں قید میں رکھا گیا تھا۔ ۲۰۱۶ء میں اسی عدالت نے سابق بوسنیائی سرب رہنما رادووان کرادچ کو دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ سربرینیکا قتلِ عام کی منصوبہ بندی کا مرتکب پایا تھا۔اُنھیں ابتدا میں نسل کشی اور جنگی جرائم پر ۴۰؍ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اسے ۲۰۱۹ء میں تاحیات قید میں بدل دیا گیا تھا جو وہ اب برطانیہ میں کاٹیں گے۔
   قتل عام کیوں ہوا تھا؟
 ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۹ء کے درمیان یوگوسلاویہ جو ایک سوشلسٹ ملک تھا  ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرنے لگا اور اس میں سے کئی ریاستیں  علاحدہ ملک کے طور پر قائم ہوئیں۔ انہی میں سربیا اور بوسنیا بھی تھے۔  ۱۹۹۵ء میں سربیائی نسل کے لوگوں پر مشتمل جنگجوئوں نے بوسنیا میں سربرینیکا نامی علاقے میں بوسنیائی سرب آرمی  نامی تنظیم قائم کی اور یہاں کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ کہاں جاتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند مہم تھی جس کے تحت اس علاقے کو مسلمانوں سے خالی کروانا تھا۔  راتکو ملادچ اس فوج کے کمانڈر تھے اور انہوں نے کوئی ۱۰؍ لاکھ لوگوںگھروں سے نکالا اور ان کا قتل عام شروع کیا۔ جو لوگ علاقہ چھوڑ گئے وہ بچ گئے۔ جو نہیں جا سکے وہ مارے گئے۔ وہاں  قیام امن کی مہم پر تعینات اقوام متحدہ کی فوج منہ دیکھتی رہی  اور قتل عام ہوتا رہا۔ حتی کہ جو بسیں اقوام متحدہ نے ان مسلمانوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کیلئے مہیا کروائی تھیں۔ انہیں بھی نشانہ بنایا گیا اور مسافروں کو اتار کر قتل کیا گیا۔ قتل عام کے بعد راتکو ملادچ فرار ہو گئے  اور لاپتہ ہو گئے لیکن ۲۰۱۱ء میں انہیں سربیا ہی سے گرفتار کیا گیا ۔  

bossina Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK