زیادہ پروجیکٹ بنوانے کی شکایت ایجوکیشن انسپکٹر سے کریں

Updated: September 25, 2022, 10:42 AM IST | saadat khan | Mumbai

سابق پرنسپل اور محکمہ تعلیم کے افسران کے مطابق سال میں ۲؍ پروجیکٹ لازمی ہے۔ ز یادہ پروجیکٹ بنوانے کی شکایت ملنے پر اسکول کیخلاف کارروائی کی جا سکتی ہے

School project
اسکول پروجیکٹ

: اسکولوںمیں بنوائے جانے والے پروجیکٹ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوںکو اُجاگر کرنے کیلئے لازمی  ہیں مگر ان دنوں بالخصوص نجی اسکولوں میں پروجیکٹ بنوانے کی ہوڑ لگی  ہوئی ہے،اس سے طلبہ اور سرپرستوںمیں بے چینی پائی جا رہی ہے ساتھ ہی متعدد پروجیکٹ بنانے پر آنےوالے خرچ سے بھی غریب سرپرست پریشان ہیں۔اس ضمن میں سابق پرنسپل اور محکمہ ٔ  تعلیم کے افسران نے جو مشورےدیئے ہیں ان پر عمل کرکے اس مسئلہ پر قابوپایاجاسکتاہے۔
  سرپرست پی ٹی اے اور ایجوکیشن انسپکٹر سے شکایت کریں !
  ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ (سٹی) نثار خان نے کہاکہ ’’ بی ایم سی اسکولوںمیں زیادہ پروجیکٹ نہیں بنوائے جاتے ہیں۔ لیکن نجی اسکولوںمیں ضرورت سے زیادہ پروجیکٹ بنوانے کی شکایت ہے۔ نجی اسکول کی چوتھی جماعت تک کی شکایت بی ایم سی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے کی جاسکتی ہے جبکہ پانچویں تا دسویں جماعت کی شکایت علاقائی ایجوکیشن انسپکٹر سے کی جانی چاہئے۔زیادہ پروجیکٹ بنوانے سے والدین اور سرپرستوں پر مالی بوجھ پڑتاہے۔ سرپرستوںکو اس کی شکایت پہلے پی ٹی اےسے کرنی چاہئے اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو ایجوکیشن انسپکٹر سے شکایت کی جائے۔ ‘‘
   سائوتھ ممبئی کے نجی اسکولوں کے ایجوکیشن انسپکٹر دیوی داس پنڈت مہاجن سے اس بارے میں استفسار کرنےپر انہوںنےکہاکہ ’’ یہ بالکل درست ہےکہ نجی اسکولوںمیں زیادہ پروجیکٹ بنوائے جاتےہیںجس سے ایک طرف طلبہ کی پڑھائی کانقصان ہوتاہےتو دوسری جانب سرپرستوں پر مالی بوجھ پڑتاہے لیکن بڑے افسوس کےساتھ کہنا پڑ رہا ہےکہ سرپرست ہم سے شکایت نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم مذکورہ اسکولوںکے خلاف کارروائی نہیں کر پاتے ہیں۔‘‘
 جب ان سے یہ کہاگیاکہ وکھرولی کے ایک اسکول میں ٹیچر طلبہ سے ہفتے میں ایک پروجیکٹ بنواتے  ہیں تو انہوں نےکہاکہ وہاں کے کسی ایک سرپرست سے شکایت کروائیں ہم کارروائی کریں گے۔
سبکدوش معلم اورپرنسپل کی آراء
 غلام نبی مومن (سابق معلم اور سابق اُردو آفیسر بال بھارتی۔پونے )کےمطابق ’’ تعلیم کا مقصد طلبہ کی ہمہ جہت ترقی ہے۔آج کل اسکولوں میں طلبہ سے جو پروجیکٹ بنوائے جاتےہیں ان کا مقصد یہی ہےکہ طلبہ کی مخفی صلاحیتیں اُجاگر ہو سکیں۔ان کی موجودہ صلاحیتوںمیں نکھارآئے ، سائنسی مزاج اور غور وفکر کی مہارت پیداہو،باہمی تعاون کا جذبہ پروان چڑھےنیز وہ عملی زندگی میں قدم رکھنےاور اس کی دشواریوںپر قابوپانے، مسائل کواپنے طورپر حل کرنےکےقابل بن جائیں۔ پروجیکٹ کی تیاری میں اساتذہ اور سرپرستوں سے رہنمائی حاصل کرنا تو متوقع ہے لیکن اس کا پورا کام طلبہ کو خود اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہئے۔ پروجیکٹ کا انتخاب کرتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھاجائے کہ اس پر زیادہ خرچ نہ آئے بلکہ غیر ضروری اور استعمال میں نہ آنےوالی اشیاء سے پروجیکٹ  بنانےپر زود دیاجائے۔‘‘
 کرلاکے بی ایم سی اسکول کے سبکدوش پرنسپل عقیل شاہ نے بتایاکہ ’’پروجیکٹ کا ایک فائدہ یہ ہےکہ طلبہ کو کتاب سے باہر کی معلومات حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنے ٹیچر، سرپرست ، متعلقین اور باہر والوںکی مدد لیتے ہیں۔وہ مسائل کے حل کی جستجومیں ادھر اُدھر دوڑتے ہیں جس سے ان کے سوچنےکی صلاحیت بڑھتی ہے۔پروجیکٹ کیلئے درکار سامان جمع کرنے اوران کی اہمیت کا  انہیںحساس ہوتاہے جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں ۔‘‘
  انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’پروجیکٹ بنواتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھناچاہئےکہ رائج امتحانات بچوںپر ذہنی دبائو لاتےہیں۔اسے دور کرنے اوربچوںکی ہمہ گیر ترقی کیلئے اور ڈرائنگ اور کرافٹ جیسے مضامین میں پچھڑ نہ جائیںانہیں مزید مضبوط کرنےکیلئے محکمہ تعلیم نے سی سی ای پالیسی نافذکی ہے۔ اس کےتحت بچوں کوپاس یا فیل ہونےکا ریمارک  دینے کےبجائے گریڈ دیتے ہیںاور اس کی مجموعی تفصیلات ساتھ میں دیتے ہیںجوان کی ترقی اورکامیابی کا تختہ ہوتا ہے۔ یہ طلبہ کی ۱۰؍سالہ کارکردگی پیش کرتاہے۔اس ریکارڈ سے علم ہوتا ہےکہ اوّل تا دسویں جماعت تک پہنچنے کے درمیان یہ بچہ کیسے آگے بڑھاہے۔‘‘
  عقیل شاہ کے بقول’’تشکیلی قدرپیمائی کے ۸؍ٹول ہیں ان میں سے ایک پروجیکٹ ہے ۔ پروجیکٹ کے تعلق سے میری رائے ہےکہ صدر مدرسہ کو ہر جماعت کے تمام مضمون کےاساتذہ سے بنوائے جانےوالے پروجیکٹ کی ایک لسٹ تعلیمی سال کے شروع ہونے سے پہلے بنوانی چاہئے ۔ اس فہرست میں ہر طالب علم کو اس کی پسند کاپروجیکٹ منتخب کرنےکی آزادی دی جانی چاہئے۔ ایک طالب علم سے سال میں صرف ۲؍ پروجیکٹ بنواناچاہئے ۔ساتھ ہی ٹیچرکو یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ جو پروجیکٹ بچوںکو دیاجارہاہے اس کیلئے درکار سامان آسانی سے اسکول،گھر یااطراف میں دستیاب ہوں۔ایسا پروجیکٹ قطعی نہ بنوائیں جن میں سرپرستوںکو حصہ لینا پڑے۔ پروجیکٹ بنوانا ضروری ہےمگر یہ کسی پر بوجھ نہ ہو۔‘‘ انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’ اساتذہ کے علاوہ کچھ سرپرست بھی قصوروار ہیں۔ جو یکے بعد دیگرے پروجیکٹ بناتےہیں۔ مہنگی چیزیں خریدکر خود یا پیسے دے کر ماہرین سے پروجیکٹ بنواتےہیں۔اس کی وجہ سے ٹیچروں کی بھی عادت خراب ہورہی ہے۔سرپرستوںکو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ پروجیکٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوںکو اُبھارنےکیلئے بنوائے جاتےہیں ۔اگر سرپرست ہی پروجیکٹ بنائیں گے تو پھر  اس سے بچوںکوکیافائدہ ہوگا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK