• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی :مسجد فیض الٰہی اور بڑی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی

Updated: January 10, 2026, 9:22 AM IST | New Delhi

دونوں ہی مساجد میں نمازیوں کی محدود تعداد رہی ، انہدامی کارروائی کے تیسرے دن بھی علاقہ میں کرفیو جیسے حالات،جامع مسجد ، فتح پوری مسجد کے آس پاس نماز جمعہ کے پیش نظر سیکورٹی بڑھائی گئی، ملبہ ہٹانے کاکام تیسرے روز بھی جاری، مقامی لوگ راستے کھلنے کے منتظر

Police officers can be seen near the Faiz Elahi Dargah Mosque and the alleged encroachment complex can be seen in the background.
مسجد درگاہ فیض الٰہی کے پاس پولیس اہلکار اور عقب میں مبینہ تجاوزات کاملبہ دیکھا جاسکتا ہے

  ۶؍ اور ۷؍ جنوری کی رات ترکمان گیٹ واقع مسجد درگاہ فیض الٰہی کے احاطہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہوئے پتھراؤ کے بعد علاقہ میں کرفیو جیسے حالات ہنوز برقرار ہیں۔ جمعہ کے روز مسجد درگاہ فیض الٰہی اور ترکمان گیٹ کی بڑی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ پولیس نے مقامی لوگوں کو مسجد میں جانے کی اجازت دی، تاہم فیض الٰہی میں صرف محدود تعداد میں لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے پہنچ سکے۔ اسی طرح بڑی مسجد میں بھی چند افراد نے نماز جمعہ ادا کی۔آج جمعہ کے دن بھی بیشتر لوگ گھروں میں قید رہے۔ ترکمان گیٹ کے آس پاس راستوں پر بیریگیڈنگ کر کے پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے جوان تعینات کیے گئے ہیں، حالانکہ مقامی لوگ راستوں کے کھلنے کے منتظر ہیں۔ لوگوں میں اس بات کا خوف بھی پایا جا رہا ہے کہ گھروں سے باہر نکلنے پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ پتھراؤ کے بعد پوچھ گچھ کے لیے کافی تعداد میں نوجوانوں کو راہ چلتے حراست میں لیا گیا ہے۔
 اطلاع کے مطابق ۷؍ جنوری کو پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ ۸؍ جنوری کو مزید چھ افراد کو گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں ریمانڈ پر بھیج دیا گیااور ۹؍ جنوری کو دوگرفتاری ہوئی ہے مجموعی طور پر۱۳ ؍لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آج جمعہ کو مزید ایک گرفتاری عمل میں آئی، ملزم کا نام عمران بتایا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق اب تک ۵۰؍ نوجوانوں کو پتھراؤ کے بعد دہلی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
 آج جمعہ کے پیش نظر دہلی پولیس نے حساس علاقوں میں سیکورٹی مزید بڑھا دی۔ مسجد درگاہ فیض الٰہی کے اطراف سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہدامی کارروائی کے بعد ملبہ اٹھانے کا کام تیسرے روز بھی جاری رہا اور اب یہ آخری مرحلے میں بتایا جا رہا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے کے بعد پابندیوں میں نرمی کر کے راستے کھول دیے جائیں گے۔
 آج بھی نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے دلی گیٹ آنے والا ٹریفک بند رکھا گیا۔ رام لیلا میدان سے لے کر ڈیلائٹ سنیما تک بیریگیڈنگ کر کے راستوں کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ترکمان گیٹ سے آصف علی جانے والا راستہ بھی بند رکھا گیا۔ پتھراؤ کے بعد ان علاقوں میں بیریگیڈنگ کر کے ہر آنے جانے والے سے سخت پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ گرفتاریوں کے خوف سے لوگ کم ہی گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔دوسری جانب شاہجہانی جامع مسجد میں آج جمعہ کی نماز پرامن ماحول میں ادا کی گئی۔ دہلی پولیس کی جانب سے جامع مسجد کے اطراف سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ۶؍ اور ۷؍ جنوری کی درمیانی شب ترکمان گیٹ میں انہدامی کارروائی کے بعد دہلی پولیس کو جمعہ کی نماز کے بعد ممکنہ احتجاج کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر جامع مسجد کے اطراف سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ یہاں دہلی پولیس کے ساتھ پیرا ملٹری فورس کے جوان بھی تعینات رہے، تاہم نماز جمعہ کے بعد نمازی پرامن طور پر اپنے گھروں اور کاروبار کی طرف لوٹ گئے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ نے جامع مسجد کے اطراف بھی سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔ جامع مسجد کی طرح دہلی پولیس نے چاندنی چوک میں واقع مسجد فتح پوری کے باہر بھی سیکورٹی سخت کر دی تھی۔ یہاں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاج کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، تاہم دہلی پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کے باعث صورتحال قابو میں رہی اور لوگ نماز کے بعد گھروں کو لوٹ گئے۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK