محکمہ ہوابازی کی جاری کردہ اطلاع کے بعد سیاسی حلقوں میں کھلبلی، شکوک کو مزید تقویت، اپوزیشن کی جانب سے تنقیدیں ، خود سونیترا پوار نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 7:59 AM IST | Mumbai
محکمہ ہوابازی کی جاری کردہ اطلاع کے بعد سیاسی حلقوں میں کھلبلی، شکوک کو مزید تقویت، اپوزیشن کی جانب سے تنقیدیں ، خود سونیترا پوار نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا
منگل کے روز محکمہ ہوابازی نے یہ سنسنی خیز اطلاع جاری کی کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی موت کا سبب بننے والے حادثے میںان کے طیارے کا بلیک باکس بھی آگ میں جل گیا جسکی وجہ سے باکس میں موجود ریکارڈ جل گئے۔ اس اطلاع کے عام ہوتے ہی سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جہاں اپوزیشن نے اس معاملے میں کسی سازش کے ہونے کا امکان ظاہر کیا تو خود اجیت پوار کی اہلیہ سنیترا پوار سمیت این سی پی (اجیت) کے لیڈران نے وزیر اعلیٰ سے مل کر اس حادثے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ کوئی طیارہ کتنے ہی بڑے حادثے کا شکار کیوں نہ ہو اس کا بلیک باکس موجود ہوتا ہے جس میں طیارے کے اندر کی ساری ریکارڈنگ موجود ہوتی ہے۔ اس لئے محکمہ ہوا بازی کی جاری کردہ اطلاع سائنسی اعتبار سے بھی ناقابل یقین ہے۔
یاد رہے کہ اجیت پوار کی طیارہ حادثے میں موت پر اکثر لوگوں نے شکوک ظاہر کئے تھے اور اس میں کسی سازش کے ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا لیکن اب جبکہ مرکزی وزارت برائے ہوا بازی نے باقاعدہ اطلاع جاری کی کہ حادثے کا شکار ہونے والے اجیت پوار کے طیارے کا بلیک باکس بری طرح جل گیا ہے تو ان شکوک کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔ محکمہ ہوا بازی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ حادثے کا شکار ہونے والے اجیت پوار کے طیارے میں ۲؍ فلائٹ ریکارڈر تھے لیکن حادثے کے دوران کافی وقت تک آگ میں رہنے کی وجہ سے ان ریکارڈرس کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ‘‘ آگے کہا گیا ہے کہ ’’ لیکن ایل ۳؍ کمیونی کیشن کا تیار کردہ ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر ڈائون لوڈ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس کے ذریعے ثبوت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ‘‘ محکمہ ہوا بازی کی اس اطلاع کے بعد سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے تنقیدیں اور سوالات
اس معاملے میں اجیت پوار کے بھتیجے اور این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے سخت سوالات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ حادثے کی تحقیقات میں غیر معمولی سستی برتی جا رہی ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آیا یہ تاخیر اسلئے ہو رہی ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اجیت پوار کے سیاسی قد و قامت کو سمجھنے میں ناکام ہیں یا پھر طیارہ فراہم کرنے والی وی آر ایس کمپنی کو شواہد مٹانے کا وقت دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مذکورہ کمپنی کو بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے؟ وہ بدھ کو اس معاملے میں ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کہا ہے کہ ’’ ملک بھر میں پہلے ہی یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اجیت پوار کی موت حادثاتی معلوم نہیں ہوتی۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کا شکار طیارے کا بلیک باکس جل گیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر بلیک باکس سے کوئی بھی ثبوت برآمد نہیں ہوتا ہے تو مان لیجئے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ‘‘ امول مٹکری جو کہ این سی پی (اجیت) کے رکن اسمبلی ہیں اور مہایوتی حکومت میں شامل ہیں انہوں نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ مٹکری کا کہنا ہے کہ ’’بلیک باکس ہمیشہ ہوائی جہاز کی دم میں ہوتا ہے۔ اس کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ حادثے کی صورت میں وہ محفوظ رہے۔ ‘‘ رکن اسمبلی کہتے ہیں کہ ’’ اجیت پوار کا طیارہ پوری طرح جل گیا تھا لیکن اس کی دم محفوظ تھی ۔ اس لئے بلیک باکس کے جلنےکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلیک باکس کو اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ درجہ حرارت چاہے جتنا بڑھ جائے وہ جل نہیں سکتا۔ پھر سوال یہ ہے کہ آخر یہ بلیک باکس کیسے جل گیا؟
سونیترا پوار نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا
محکمہ ہوا بازی کی اطلاع کے بعد اجیت پوار کے اہل خانہ اور پارٹی لیڈران بھی خاموش نہیں رہ سکے۔ منگل کو اجیت پوار کی اہلیہ سونیترا پوار کی قیادت میں این سی پی لیڈران کے وفد نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سےملاقات کی اور انہیں باقاعدہ ایک میمو رنڈم پیش کرتے ہوئےاس معاملے کی سی بی آئی کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ اس وفد میں نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کے علاوہ این سی پی (اجیت ) کے کارگزار قومی صدر پرفل پٹیل، ریاستی صدر سنیل تٹکرے، سینئر وزیر حسن مشرف اور اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار شامل تھے۔ میمورنڈم میں چند اہم نکات اجاگر کئے گئے ہیں جن میں سنگین بے ضابطگیوں اور مشتبہ حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس میں پرواز کے عملے میں آخری وقت میں کی گئی تبدیلی، فضائی ٹریفک کنٹرول سے رابطے اور رن وے منظوری کے سلسلے میں پائی جانے والی ممکنہ تضادات، آن بورڈ حفاظتی انتباہی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے وفدکو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے بدھ (آج) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھا جائے گا اور چونکہ این سی پی (اجیت) سی بی آئی جانچ کی خواہش رکھتی ہے، اس سلسلے میں مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔