• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اساتذہ اسمبلی حلقوں کے الیکشن میں ٹیچروں کا جوش وخروش

Updated: January 31, 2023, 11:12 AM IST | ali imran and saadat khan | Mumbai

۶۰؍ فیصد پولنگ ،امراوتی گریجویٹ حلقے میں۵۰؍ فیصد رائے دہی،ناگپوراور مراٹھواڑہ ڈویژن میںبالترتیب ۳۹؍ہزار ۴۰۶؍ا ور ۶۵؍ہزار ۵۰۰؍ اساتذہ حق رائے دہی کے اہل تھے

Voters line up at a polling center in Nagpur
ناگپور کے ایک پولنگ مرکز پر ووٹروں کی قطار

کوکن ، مراٹھواڑہ اور ناگپور ڈویژن میں پیر کو ہونےوالے اساتذہ اسمبلی حلقہ کے الیکشن میں ان ڈویژنوں کے اساتذہ نے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ ناگپوراور مراٹھواڑہ ڈویژن کیلئے بالترتیب ۳۹؍ہزار ۴۰۶؍ا ور ۶۵؍ہزار ۵۰۰؍ اساتذہ کو ووٹ دینے کا اختیار حاصل تھا۔ پیر کی صبح سے ہی پولنگ سینٹروںپر اساتذہ کی بھیڑ اکٹھاتھی۔ ۲؍فروری کو الیکشن کا رزلٹ جاری کیا جائے گا ۔  ناگپورمیں ووٹ دینے کیلئے آنے والے ایک معلم نے کہاکہ ’’ تعلیم کامعیار دن بہ دن کم ہورہاہے۔ میں ایک سینئر کالج میں پڑھاتاہوں۔ وہاں کے سسٹم کودیکھ کرمجھے لگتاہےکہ تعلیم کے شعبہ میں ترقی کیلئے متعدد تبدیلیاں کرنےکی ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ اور سابقہ حکومتوںکا تعلیم کے تئیں جو نظریہ ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ ساتھ ہی ایجوکیشن کیلئے جوبجٹ مختص ہے وہ بھی ضرورت کے لحاظ سے غیر مناسب ہے۔ طلبہ کو عمدہ اور اعلیٰ تعلیم دینے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔‘ ‘ایک معلمہ نے کہاکہ ’’میںنے اس اُمیدوار کوووٹ دیاہے جس سے انصاف کی اُمید ہے۔ وہ بلاتفریق تعلیمی مسائل حل کرنےکی صلاحیت رکھتاہے۔ مجھے اُمید ہےکہ اگر وہ کامیاب ہوگیاتو اس نے تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے جو وعدےکئے ہیں وہ پورا کرےگا۔‘‘
امراوتی گریجویٹ حلقہ میں۴۵؍ سے۵۰؍  فیصد پولنگ
  پیر کو بی جے پی امیدوار ڈاکٹر رنجیت پاٹل، کانگریس امیدوار دھیرج لینگاڑے سمیت۲۳؍ امیدواروں کی قسمت  پیٹی میں بند  ہوگئی  ۔ ایک اندازے کے مطابق امراوتی ڈیویژن   کے اس الیکشن میں۴۵؍ سے۵۰؍ فیصد ووٹنگ ہوئی۔ گزشتہ انتخابات میں۶۳ء۴۶؍ فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں کم ہے۔ ڈویژنل کمشنر آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پولنگ کے حتمی اعداد و شمار رات گئے تک دستیاب ہو جائیں گے۔ ڈویژن کے پانچ اضلاع کے۲۶۲؍پولنگ مراکز پر پیر کی صبح۸؍ بجے ووٹنگ شروع ہوئی۔ دوپہر۱۲؍ بجے تک۱۵ء۹۴؍ فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ دوپہر۲؍بجے تک  فیصد۳۰ء۴۰؍ تک پہنچ گیا۔ پولنگ مراکز پر شام۴؍  بجے تک ووٹرز کی قطاریں دیکھی گئیں۔ شروع میں ووٹنگ کی رفتار سست تھی۔ امراوتی ڈویژن میں کل۲؍ لا کھ۶؍ ہزار۱۷۲؍ ووٹرز رجسٹرڈ ہوئے جن  میں ایک  لاکھ۳۴؍ ہزار۱۴؍ مرد اور۷۲؍ ہزار ۱۴۱؍ خواتین اور۱۷؍ دیگر شامل ہیں۔ امراوتی ضلع میں۷۵؍ پولنگ اسٹیشنوں پر دوپہر۲؍ بجے تک۱۵ء۲۶؍  فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اکولہ ضلع کے۶۱؍  پولنگ مراکز پر۲۸ء۴۵؍  فیصد، بلڈانہ ضلع کے۵۲؍  پولنگ مراکز پر۳۳ء۴۷؍ فیصد ووٹنگ ہوئی۔ایوت محل ضلع میں۴۸؍  پولنگ مراکز پر۳۵ء۶۰؍ فیصد ووٹنگ درج ہوئی اور ضلع واشم میں۲۶؍ پولنگ مراکز پر دوپہر۲؍ بجے تک۳۴ء۳۷؍ فیصد ووٹنگ کی خبر موصول ہوئی ہے۔ اس سال، بی جے پی شندے گروپ، مہاوکاس اگھاڑی (کانگریس-نیشنلسٹ کانگریس اور شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور پسماندہ اور آزاد امیدوار نے گریجویٹ حلقہ کے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔۲؍ فروری کو ووٹوں کی گنتی امراوتی کے بڈنیرا روڈ پر واقع نیمانی گودام میں کی جائیگی۔اُدھرقانون ساز کونسل ٹیچرس حلقہ کے انتخابات کے لیے ناگپور ڈویژن کے ۶؍ اضلاع میں ووٹنگ ہوئی۔ اس میں گڈچرولی کو چھوڑ کر باقی اضلاع میں ووٹنگ کا وقت شام۴؍ بجے تک دیا گیا تھا۔ دوپہر تک ۶۰ء۴۸؍ فیصد پولنگ ہوچکی تھی۔
اورنگ آباد ٹیچر اسمبلی حلقہ کیلئے ناندیڑ ضلع میں پرامن رائے دہی 
 اورنگ آباد ٹیچر اسمبلی حلقہ کے لئے پیر کو رائے دہی عمل میں آئی ۔مراٹھواڑہ کے متعدد اضلاع میں رائے دہی کی گئی ۔ناندیڑ ضلع میںبھی مختلف مقامات پر تیس پولنگ سینٹر بنائے گئے تھے۔دوپہر دو بجے تک۶۰؍ فیصد پولنگ ہوچکی تھی ۔مجموعی طورپر۸۰؍ فیصد سے زائد پولنگ کی امید  ہے ۔ناندیڑ شہر کے لئے ضلع پریشد کے تحت چلنے والے ملٹی پرپزہائی اسکول کو پولنگ  سینٹر بنایا گیا تھا ۔پوسٹل بیلٹ کے طریقے کار سے رائے دہی کی گئی ۔ایسے میں پورے شہر کے رائے دہندگان کیلئے ایک ہی پولنگ سینٹر بنائے جانے کی وجہ سے رائے دہندگان اساتذہ کو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا رہ کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا پڑا۔ اس بات کولیکر رائے دہندگان میں ناراضگی کا بھی دیکھنے کو ملی۔ناندیڑ ضلع کے لئے ۳۰؍ پولنگ سینٹر بنائے گئے تھے ۔  ناندیڑ ضلع میں جملہ ۸ ہزار۹۶۷؍ ووٹر ہیں جو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔ پرامن رائے دہی کو ممکن بنانے کیلئے پولنگ سینٹروں پر سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ انتخابات میں این سی پی کے امیدوار وکرم کالے کا راست مقابلہ بی جے پی امیدوار پاٹل کرن نارائن راؤ کے ساتھ ہےجبکہ ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مانے کالی داس شیام راؤ کو میدان میں اتارا ہے ۔۱۴؍ امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں ۔این سی پی کے وکرم کالے پچھلے ۱۵ سالوں سے اس حلقہ سے انتخاب جیتتے آرہے ہیں ۔اس مرتبہ ان کیلئے یہ مقابلہ سخت ہورہاہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK