• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کسانوں کو حکومت پر اعتماد نہیں، تحریری حکم کا مطالبہ

Updated: March 18, 2023, 9:59 AM IST | shahpur

شاہ پور میں ڈیرہ ڈالے کسانوں نے کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ کے الفاظ پر بھروسہ نہیں ہے اسلئے جب تک عملاً ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے وہ مارچ ختم نہیں کریں گے

If the demands are not accepted, the farmers will march towards Mumbai (Photo: Agency).
اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو کسان ممبئی کی طرف پیش قدمی کریں گے ( تصویر: ایجنسی)

چار روز قبل ناسک سے روانہ ہونے والا کسانوں کا لانگ مارچ اس وقت شاہ پور میں مقیم ہے جو ممبئی سے کچھ ہی دور ہے۔ اس سے پہلے کے کسان ممبئی میں داخل ہوں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے  کسانوں کے ایک وفد سے ملاقات کی اور اسے یہ یقین دلایا کہ حکومت کسانوں کے تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہے۔ کسان اپنا لانگ مارچ واپس لے لیں۔ لیکن کسانوں کاکہنا ہے کہ انہیں حکومت پر یقین نہیں ہے اسلئے وہ پہلے تحریری حکم نامہ جاری کرے ۔ اس کے بعد ہی کسان اپنا مارچ واپس لیں گے۔
  یاد رہے کہ کسان جمعرات  ہی کو شاہ پور میں داخل ہو گئے تھے ۔ لیکن حکومت کی گزارش پر وہ شاہ پور ہی میں ٹھہر گئے اس دوران    وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کسانوں کے نمائندوں کو گفتگو کیلئے بلایا۔ تین گھنٹوں کی گفت وشنید کے بعد وزیراعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے وفد کو یقین دلایا کہ انہیں کسانوں کی تمام مانگیں منظور ہیں  اور وہ جلد ہی اس پر اقدام کریں گے لیکن  جمعہ کو کسانوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ انہیں وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کے الفاظ پر یقین نہیں ہے۔ وہ ایک ہی صورت میں واپس جا سکتے ہی جب حکومت تحریری طور پر ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا حکم نامہ جاری کرے۔  یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ  نے کسانوں کے وفد سے ملاقات کے بعد اپیل کی تھی کہ کسان اپنا لانگ مارچ واپس لے لیں۔ لیکن کسانوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں وزیراعلیٰ کے الفاظ پر یقین نہیں ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ کے حکمنامے کا انتظار کر رہے ہیں جب تک وہ تحریری طور پر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیتے تب تک ہم واپس نہیں جائیں گے ۔ ‘‘ کسانوں نے یہ بھی کہا کہ مطالبات پورے نہ  ہونے کی صورت میں وہ ممبئی کی طرف کوچ کریں گے۔
    واضح رہے کہ ایکناتھ شندے کی اپیل کے فوراً بعد ہی کسان لیڈر جیوا پانڈورنگ گاوت  نے بیان دیا کہ جب تک کسانوں کے مطالبات پوری طرح تسلیم نہیں کر لئے جاتے  کسانوں کا قافلہ شاہ پور ہی میں قیام کرے گا۔ اور بات نہیں بنی تو ممبئی کی طرف روانہ ہوگا۔  وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں جس وفد نے حصہ لیا تھا اس میں  اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے قومی صدر اشوک ڈھوولے، سابق رکن اسمبلی جے پی گاوت، کسان سبھا کے ریاستی جنرل سیکریٹری،  اجیت نولے، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے رکن اسمبلی  ونود نکولے، کسان سبھا کے لیڈر اور مارک وادی کمیونسٹ پارٹی کے  ریاستی جنرل سیکریٹری کامریڈ اودئے نارکر،’سیٹو‘ کے  قومی نائب صدر ڈاکٹر ڈی ایل کراڈ وغیرہ شامل تھے۔ 
  بارش کے باوجود کسان شاہ پور میں خیمہ زن
  یاد رہے کہ بدھ اور جمعرات کی رات مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں بارش ہوئی  تھی ، اسکا  اثر کسانوں کے لانگ مارچ پر بھی پڑا لیکن کسان اپنی جگہ ڈٹے ہوئے تھے۔  حالانکہ انہیں شاہ پور میں بارش کے دوران کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے سبب رات میں کسانوں نے اطراف میں زیر تعمیر عمارتوں میں آسرا ڈھونڈا۔ لیکن وہاں اندھیرا تھا۔ بعض خواتین رات میں سونے کیلئے ایک زیر تعمیر عمارت میں داخل ہوئیں لیکن اندھیرے میں انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس دوران ایک خاتون پہلے منزلے سے نیچے گر گئی اور زخمی ہوگئی۔ انہیں صبح اسپتال پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ پیدل چلنے کے سبب بیشتر کسانوں کے پیروں میں سوجن آگئی ہے اور بعض کے پیروں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔ 

kisan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK