اسکول شروع کرنے سےمتعلق گائیڈ لائن جاری

Updated: September 26, 2021, 8:16 AM IST | saadat khan | Mumbai

احتیاطی تدابیر کے اخراجات کےلئےاسکولوں سےسی ایس آر فنڈجمع کرنےکیلئے کہے جانے پر تعلیمی تنظیموںکا اعتراض

Students must check their temperature before entering the classroom. (File photo)
کلاس روم میں داخل ہونے سے قبل طلبہ کا درجہ حرارت چیک کرنا ضروری ہے۔(فائل فوٹو)

:کوروناوائرس کے معاملات میں کمی اور ٹاسک فور س کے مشورے پر ریاستی وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے نے۴؍اکتوبر سے اسکولوںکو شروع کئے جانے کی اجازت دے دی ہے ۔
  وزیراعلیٰ کی ایماء پر ریاستی وزیر تعلیم ورشاگائیکواڈ نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ۴؍اکتوبر سے ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں مرحلہ وار اسکول اور جونیئر کالج شروع کرنےکا اعلان کیا ہے۔دیہی علاقوںمیں ۵؍ ویں تا ۱۲؍ویں اور شہری علاقوں میں ۸؍ویں تا ۱۲؍ویں جماعتوں کے اسکول او ر جونیئر کالج شروع کئے جائیں گے۔ جمعہ کو ہی ریاستی محکمہ تعلیم نے اسکول اور جونیئر کالج کیلئے گائیڈ لائن بھی جاری کر دی ہے ۔تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکول شروع کرنےکی اجازت دی گئی ہے مگر احتیاطی تدابیر مثلاًہیلتھ کلینک اور سینی ٹائزر وغیرہ کے اخراجات کیلئے اسکولوں سےسی ایس آر (کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی) کے ذریعے فنڈ جمع کرنےکیلئے کہا گیا ہے ۔
  اس پر تعلیمی تنظیموں نے اعتراض کیاہےکہ یہ ذمہ داری حکومت اور ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ہے۔ اگر سی ایس آرفنڈ سے ہی انتظام کرنا ہے تو حکومت خود بڑی کمپنیوں کے ذریعے اس کا انتظام کیوں نہیں کروا رہی ہے؟
تعلیمی تنظیموں کا ردعمل
 اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے مذکورہ گائیڈ لائن کے ضمن  میں کہاکہ’’ اسکول شروع کرنے سے متعلق اس سے قبل جولائی اور اگست  میں کم وبیش اسی طرح کی گائیڈ لائن جاری کی گئی تھی۔ مگر  مقامی خود مختار اداروں مثلاً ضلع پریشد اور کارپوریشن نے ان گائیڈ لائن پر عمل کرنےمیں تساہلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس لئے ان اداروں سے اپیل ہے کہ اس مرتبہ اس طرح کا رویہ نہ اپنا یاجائے ۔بڑی ذمہ داری سے اسکول شروع کرنے کی کارروائی پر عمل کیاجائے تاکہ  آف لائن تعلیم شروع کی جا سکے۔‘‘
  مہاراشٹر اسٹیٹ شکشک پریشد ممبئی کے صدر شیوناتھ دراڈے نے کہاکہ ’’ ہم اسکول شروع کئے جانے کا استقبال کرتےہیں مگر اسکول شروع کرنے سے قبل اس بات کی وضاحت کرناچاہتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر کے نام پر اسکولوںمیں ہیلتھ کلینک اور سینی ٹائزر وغیرہ کا انتظام کرنےکیلئے حکومت نے سی ایس آر فنڈ اکٹھا کرنےکی ذمہ داری اسکول پر ڈال کر اسکولوں کیلئے ایک نئی پریشانی پیدا کردی ہے ۔ ہم طلبہ کی صحت اور تحفظ پر توجہ دیں  یا سی ایس آر فنڈ جمع کرنےکیلئے ادھر اُدھر دوڑیں،یہ کام حکومت اور ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو کرناچاہئے ۔ ان سہولیات کیلئے فنڈ کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ  اس ذمہ داری سے پلہ جھا ڑ رہاہے۔‘‘ 
 جاری کردہ گائیڈ لائن
 گائیڈ لائن میں جن باتوںپر خاص توجہ دینےکی ہدایت دی گئی ہے ان میں ماسک پہننے، سینی ٹائزر کا استعمال کرنےاور انفرادی دوری برقرار رکھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسکول آکر پڑھائی کرنے والے طلبہ کیلئے والدین کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ تدریسی وغیر تدریسی عملے کیلئے ٹیکہ لگوانا، اسکول میں ہیلتھ کلینک کا ہونا ضروری ہے ۔ طلبہ کا درجۂ حرارت باقاعدگی سے چیک کیا جانا۔ تمام اسکولوں کو صحت مراکز سے منسلک کیا جائے۔ ان ضروریات کیلئے سی ایس آر فنڈ کا انتظام کیاجائے ۔اساتذہ طلبہ کو گھر سے اسکول آنے اور اسکول سے گھر جانےکیلئے پیدل چلنے کی ترغیب دیں۔ جن اسکولوں میں طلبہ بس یا پرائیویٹ موٹرگاڑیوں کے ذریعے آتے ہیںان کیلئے ایک سیٹ پر صرف ایک طالب علم کوبیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ طلبہ بس سےاُترنے پر سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ہوم ورک آن لائن جمع کروائیں، طلبہ کو درسی کتابوں کے تبادلے سے منع کریں ۔ اگر وقت ہو تو ہوم ورک کلاس روم میں ہی کرلیاجائے۔ جوطلبہ بیمار دکھائی دیں ان کے والدین کو اس کی اطلاع دی جائے  ۔جن طلبہ میںبخار ، سردی ، سانس کی دقت ، جسم پر خارش ، سرخ آنکھیں ، پھٹے ہونٹ ، سوجی ہوئی انگلیاں ، ہاتھ ، جوڑ اور پیٹ میں درد کی علامت دکھائی دے انہیں ڈاکٹر سے رابطہ کرنےکا مشورہ دیاجائے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK