Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسمارٹ واچ کی قیمت اور مجموعی رقم بتانے میں حج کمیٹی کی آناکانی

Updated: June 11, 2026, 11:26 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

آرٹی آئی رضاکار نے ۸؍ سوالات کئے جس کا گول مول جواب دیا گیا۔ حجاج نے اسے بے مقصد اورپیسے کا ضیاع قرار دیا اور کہا کہ اسے بچوں کوکھیلنے کیلئے دے دیں گے

Pilgrims have expressed displeasure over the smartwatch given for Hajj. (File photo)
حج کیلئے دی گئی اس اسمارٹ واچ کے تعلق سے حاجیوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔(فائل فوٹو)

حج ۲۰۲۶ء میں حجاج کودی گئی اسمارٹ واچ کے تعلق سے رائٹ ٹو انفارمیشن (آرٹی آئی) رضاکار نے ۸؍سوالات کئے تھے مگر حج کمیٹی آف انڈیا نے اس کا گول مول جواب دیا ۔ اس’ ناقص‘ گھڑی کے تعلق سے حاجیوں نے دورانِ حج بار بار شکایت کی تھی اورحج سے واپس آنے کے بعد بھی ان کی وہ شکایت برقرار ہے۔
سوال وجواب 
  مضحکہ خیزبات یہ ہےکہ اس گھڑی کی قیمت کا آرٹی آئی میں جواب نہ دیتے ہوئے لکھا گیا کہ حج کمیٹی کی ویب سائٹ پر اسے دیکھ لیجئے، البتہ دہلی کی جس کمپنی سے یہ گھڑی خریدی گئی ہے، اسے ۵۱۴۹؍ روپے ۴۰؍پیسے فی گھڑی ادا کئے گئے ہیں۔ آرٹی آئی رضاکار منصور عمر درویش نےکہا کہ آخر کیا رازہے جسے حج کمیٹی کے ذریعے اس قد ر چھپایا جارہا ہے، پھر یہ کہ تما م ایک لاکھ ۲۲؍ہزار ۵۰۰؍ حجاج سے گھڑی کے عوض ۶۳؍ کروڑ روپے سے زائد کس چیز کے لئے گئے اگر یہ کام نہیں کررہی تھی اورحج کے دوران حاجی اس کا استعمال نہیں کرسکے۔ 
 حج کمیٹی کے پبلک انفارمیشن آفیسر حیدر پاشا کی دستخط سے دیئے گئے جواب میں مقصد بتاتے ہوئے بالترتیب لکھا گیا کہ اس گھڑی کے ذریعے مقام سے باخبر رہنے، ہیلتھ مانیٹرنگ اور ایمرجنسی الرٹس کے ذریعے حاجیوں کی مدد کرنا، کل رقم مقررہ وقت میں فراہم کی جائے گی،یہ گھڑیاں سیکیو انویشن پرائیویٹ لمیٹیڈ (دہلی ) کے ذریعے مہیاکرائی گئی ہیں، اسے ٹینڈر پروسیس کے ذریعے لیا گیا ہے اور اس گھڑی کے تعلق سے تربیتی ویڈیوز اور دستی تفصیلات فراہم کرائی گئی ہیں۔ سوال نمبر  ۷؍میں آرٹی آئی رضاکار کے ذریعے یہ پوچھا گیا تھا کہ اس گھڑی کی بیٹری کی چارجنگ کا مسئلہ ہے ، بیٹری بہت کم وقت چلتی ہے اوربہت سی جگہوں پراسے چارج کرنے کی سہولت بھی نہیں ہے، اس پرحج کمیٹی کا جواب حیران کن ہے کہ سوال ہی سمجھ میں نہیںآیا ۔ 
 اس کے بعد اپیل کرنے کے تعلق یہ مشورہ دیا گیا کہ اگر ان جوابات سے اطمینان نہ ہو تو آرٹی آئی رضاکار پہلی اپیل آر ٹی آئی ایکٹ ۲۰۰۵ء کی دفعہ ۱۹(۱)کے تحت ڈاکٹر صداقت علی کے پاس دائر کرسکتا ہے۔
حاجیوں کا مفاد یا کمپنی کوفائدہ پہنچانے کی کوشش 
 آرٹی آئی رضا کار منصور عمر درویش نےبتایا کہ ’’ ہم نے اسمارٹ واچ کا مقصد،کس نےیہ فیصلہ کیا تھا، عازمین کو اس کی تربیت نہیںدی گئی تھی، بیٹری کا مسئلہ ، قیمت اور تمام حجاج سے مجموعی وصول کردہ رقم کے بارے میںپوچھا تھا مگر حج کمیٹی نےاسے جواب کے نام پر ٹالنے کی کوشش کی ہے۔اسی لئے اس کی اپیل کی جائے گی۔ ‘‘ ان کایہ بھی کہنا ہے کہ’’ پہلے سننے میںآیا تھا کہ اسمارٹ واچ کےتعلق سے ۷۲۰۰؍روپے لئے گئے ہیں لیکن اگر بالفرض ۵۱۴۹؍ روپے بھی ایک حاجی سے لئے گئے تو کیا انہیں اس کا فائدہ ملا یا کسی خاص کمپنی اور گروپ کو حاجیوں کے نام پر زبردست منافع کمانے اور فائدہ پہنچانے کی منصوبہ بند کوشش تو نہیں کی گئی۔‘‘ 
’’ گھڑی کسی کام کی نہیںتھی ،پیسہ برباد ہوا ‘‘
 کچھ حجاج سے رابطہ قائم کرنےپر انہوں نے بتایاکہ ہم لوگوںنے حج کے دوران بار بار شکایت کی لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس کی بیٹری دوگھنٹے سے بھی کم وقت میںختم ہوجاتی تھی، ہم حج کے ارکان ادا کرتے یا چارجنگ کے لئے اپنا وقت ضائع کرتے۔ 
 جوگیشوری  کے حاجی  محمد یونس مرچنٹ اور حاجی محمد زید نے بتایا کہ ’’ جس مقصد کے حوالے سے یہ گھڑی حجاج کو مہیا کرائی گئی تھی،  وہ بے مقصد رہی ۔ بیٹری کا بڑامسئلہ تھا اورقیمت بھی بہت زیادہ تھی۔ حج کے دوران کوئی استعمال نہیں ہوسکا۔  اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسے بچوں کو کھیلنے کے لئے دے دیں گے۔‘‘  ان حجاج کا یہ بھی کہناہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا حجاج کی خدمت اور ان کی رہنمائی کرنے والا ادارہ ہے، اس لئے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئندہ اس کاخیال رکھے کہ حجاج کی رقم ضائع نہ ہو اورکوئی ایسی چیز نہ تھوپی جائے جس کا حجاج کیلئے کوئی مصرف ہی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK