راجہ واڑی اسپتال میں ۱۱؍فیصد خون کے یونٹس خراب ہونے کا انکشاف

Updated: August 10, 2022, 10:23 AM IST | Mumbai

آر ٹی آئی سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ ۲؍برسوں کے دوران ۵۱۷؍خون کے یونٹ میعاد ختم ہونے کے سبب خراب ہوئے ہیں

A large number of blood units have been damaged over the past two years. (File Photo)
گزشتہ ۲؍برسوں کے دوران بڑی مقدار میں خون کے یونٹس خراب ہوئےہیں۔(فائل فوٹو)

حال ہی میں  آر ٹی آئی سے حاصل کی گئی جانکاری کے مطابق بی ایم سی کے راجہ واڑی اسپتال میں گزشتہ ۲؍سال کے دوران ۵۱۷؍خون کے یونٹس(خون کے پیکٹس) کی میعاد ختم ہوگئی تھی۔ آر ٹی آئی سے حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق خون کے ضائع ہونے کے فیصد میں گزشتہ ۲؍سال کے دوران قابل افسوس اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ۲؍سال کے دوران راجہ واڑی اسپتال میںمیعاد ختم ہوجانے کے سبب ۲۰۲۰ء میں۲۲۵؍خون کے یونٹس (تقریباً ۶۷؍ لیٹر خون) جبکہ ۲۰۲۱ء میں۲۹۲؍ بلڈ یونٹس مقررہ میعاد ختم ہوجانے کے سبب خراب ہوگئے تھے۔
 آر ٹی آئی کارکن چیتن کوٹھاری نے اس تعلق سے بتایا کہ ’’اگر میں یہ کہوں کہ گزشتہ ۵؍ برسوں کے دوران خون کے پیکٹس خراب ہونے اور ان کی میعاد ختم ہونے میں۹۱؍فیصد یا پھر یوں کہیں کہ ۱۱؍گنا اضافہ ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ گزشتہ ۵؍برسوں کے دوران۷۷۶؍خون کے پیکٹس (۲۰۰؍لیٹر) خراب ہوئے ہیں۔ ۲۰۲۰ء   میں بلڈ ڈونیشن کیمپ اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ خون کے عطیات میں ۱۰ء۶؍فیصد خون میعاد ختم ہونے کے سبب خراب ہوگئے تھے، ۲۰۲۱ء میں خون کے عطیات میں سے ۱۱؍فیصد خون خراب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس حساب سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ۲؍سال کے دوران حاصل کردہ ہر ۱۰؍پیکٹس میں سے ایک پیکٹ خون ضائع ہو ا  ہے۔‘‘
 آر ٹی آئی رضاکار نےمزید کہا کہ ’’ اسپتال میں رکھےخون کی میعاد ختم ہوکر ان کے ضائع ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ جب کسی کیمپ سے خون حاصل کیا جاتا ہے تو انہیں ٹیسٹ کرکے الگ الگ گروپ  میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔اس کی وجہ سے یہ خون کسی ضرورت مند کو نہیں دیا جاتا۔ خون کی جانچ کرنے اور انہیں مختلف گروپ کے مطابق سنبھال کر رکھنے کےلئے افراد کی کمی ہوسکتی ہے۔راجہ واڑی اسپتال نے بلڈ بینک کیلئے ۲۰۱۹ء میں ۶؍ٹیکنیشین کی نئی اسامی کی ضرورت کا اظہار کیا تھا لیکن ۳؍ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک تقرری نہیں کی گئی ہے۔‘‘ 
 راجہ واڑی اسپتال کے بلڈ بینک کے انچارج ڈاکٹر کاشی ناتھ جادھو نے بتایا کہ ’’حاصل کردہ خون کے عطیات میں سے ایک سال  کےدوران اوسطاً ۵؍ فیصد خون میعاد ختم ہوجانے کے سبب خراب ہو جاتے ہیں۔لیکن کووڈ کی وباء کے سبب یہ تعداد ۱۰؍ فیصد تک پہنچ گئی۔حالانکہ میں اس بات کی یقین دہانی کرا سکتا ہوں کہ ہمارے یہاں اسٹاف کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘انہوںنے مزید کہا کہ ’’کووڈ کے دوران صرف ۲۵؍سے ۳۰؍ہی بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا جا سکا تھا حالانکہ پہلے ان کی تعداد ۵۰؍سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔خون کی ایکسپائری ڈیٹ گزرنے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی تھی کہ کورونا کی وباء کے دوران خون کی ضرورت مریضوں کو کم تھی اور یہ خون رکھے رکھے خراب ہوگئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK